پاک-انگلستان سیریز، تنازعات اور ہنگاموں کی طویل داستان

پاکستان کے کھلاڑی اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے بعد پہلی بار انگلستان کا دورہ کر رہے ہیں۔ موجودہ ٹیم میں صرف تین کھلاڑی ایسے ہیں، جو اُس وقت انگلستان میں موجود تھے جب قوم نے اس ہزیمت کا سامنا کیا تھا اور یہ تینوں اپنے کیریئر کے ابتدائی مراحل میں تھے۔ ایک تو اسکینڈل کے کردار محمد عامر تھے اور دوسرے وہاب ریاض اور اظہر علی۔ اس بھیانک واقعےنے پاکستان کرکٹ کی چولیں ہلا دیں۔ کپتان سلمان بٹ کے ساتھ ساتھ محمد آصف اور ابھرتے ہوئے محمد عامر پر کم از کم پانچ، پانچ سال کی پابندی لگا دی گئی اور ساتھ ہی برطانیہ میں قید کی سزائیں بھی بھگتنا پڑیں۔

ملک میں دہشت گردی کے واقعات کی وجہ سے کرکٹ ویسے ہی نہیں ہو رہی تھی، ستم بالائے ستم یہ کہ اسپاٹ فکسنگ جیسا واقعہ پیش آ گیا۔ پاکستان کرکٹ تباہی کے دہانے پر تھی جب اسے مصباح الحق کی صورت میں ایک "نجات دہندہ" ملا۔ آج پاکستان اتنا دم خم رکھتا ہے کہ لارڈز کے اسی میدان پر انگلستان کو شکست دے چکا ہے اور ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی درجہ بندی میں تیسرے نمبر پر موجود ہے۔

اس اہم مقام پر فائز ہونے کے بعد اب پاکستان کو ایک مرتبہ پھر انگلستان کا سامنا ہے اور یہ "معرکہ" آسان نہیں۔ ایک تو پاکستان کرکٹ کا مستقبل داؤ پر ہے کیونکہ یہاں شکست پاکستان کو دوبارہ درجہ بندی میں نیچے دھکیل دے گی، دوسرا پاک-انگلستان باہمی کرکٹ کبھی تنازع سے خالی نہیں رہی۔ خاص طور پر پچھلے 30 سالوں میں تو اکّا دکّا ہی ایسی سیریز ہوئی ہیں، جو بغیر کسی مسئلے کے خاموشی سے گزر گئی ہوں ورنہ اختتام ہمیشہ ایک بری یاد کے ساتھ ہوا ہے۔

پاکستان نے آج تک انگلستان کے کل 13 دورے کیے ہیں جن میں 1954ء میں عبد الحفیظ کاردار کی قیادت میں پہلی ہی سیریز کو یادگار بنایا تھا۔ پاکستان نے اوول میں کھیلا گیا ٹیسٹ جیتا اور سیریز برابر کی۔ اس کے بعد 1987ء تک سات کوششوں کے باوجود پاکستان کو کبھی کوئی کامیابی نہیں ملی۔ 33 سالوں میں صرف ایک سیریز ایسی تھی جو برابر ہوئی اور باقی چھ میں پاکستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 1987ء میں جاکر پاکستان نے پانچ مقابلوں کی سیریز ایک-صفر سے کامیابی حاصل کی اور یہی کامیابی تھی جو انگلستان کو ہضم نہیں ہوئی۔ اسی سال مائیک گیٹنگ کی قیادت میں انگلستان نے پاکستان کا دورہ کیا اور یہاں سے تنازعات کی ایک نئی داستان شروع ہوگئی۔

shakoor-rana-mike-gatting

یہ انگلستان کے دورۂ پاکستان 1987ء کا دوسرا ٹیسٹ تھا، جو فیصل آباد میں کھیلا گیا تھا۔ دوسرے دن کے کھیل کے اختتامی لمحات تھے جب انگلستان کے کپتان مائیک گیٹنگ نے کرکٹ قوانین کی خلاف ورزی کی۔ پاکستان کے سلیم ملک بیٹنگ کر رہے تھے اور گیٹنگ نے اپنے فیلڈرز کو کہہ رکھا تھا کہ جیسے ہی گیند پھینکی جانے لگے، وہ سلیم ملک کے قریب آ جائیں۔ امپائر شکور رانا نے منع کیا تو اس پر گیٹنگ ہتھے سے اکھڑ گئے۔ شاید پہلے ٹیسٹ میں ہونے والی ناقص امپائرنگ کا غصہ تھا جو اب اتر رہا تھا۔ کچھ دیر دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے، ایک دوسرے کی طرف انگلیاں اٹھا کر زور زور سے بکتے رہے، یہاں تک کہ کچھ ہی دیر بعد دوسرے دن کا کھیل ختم ہوگیا۔

اگلے روز امپائر شکور رانا اور مائیک گیٹنگ نے اس معاملے کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا۔ شکور رانا کہنے لگے کہ جب تک گیٹنگ اپنے رویے اور الفاظ پر معافی نہیں مانگیں گے، وہ میچ کے لیے میدان میں نہیں آئیں گے جبکہ گیٹنگ کا بھی یہی مطالبہ تھا کہ معافی تو شکور رانا کو مانگنی چاہیے۔ دونوں کی ضد میں پورے دن کا کھیل ضائع ہوگیا۔ ایسا کرکٹ تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا تھا کہ بغیر کسی قدرتی وجہ کے پورے دن کا کھیل ضائع ہوا ہو۔ شکور رانا کا کہنا تھا کہ جس طرح کے الفاظ گیٹنگ نے ادا کیے ہیں، ان پر تو پاکستان میں قتل ہو جاتے ہیں۔ معاملہ بہت زیادہ گرم ہوگیا یہاں تک کہ اپنے بورڈ کی ہدایت پر گیٹنگ نے تحریری معافی مانگ لی۔ یوں ایک دن کے وقفے کے بعد مقابلہ اگلے روز جاکر دوبارہ شروع ہوا لیکن ایک دن کا کھیل ضائع ہونے کی وجہ سے نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکا۔ پاکستان کی ایک-صفر کی برتری سیریز کے آخر تک برقرار رہی اور یہ زخم انگلستان کو کبھی نہیں بھولتا۔

shakoor-rana-khizar-hayat

پاکستان کا اگلا دورہ 1992ء میں تھا جو ورلڈ کپ جیتنے کے بعد کیا گیا تھا۔ پاکستان نے فائنل میں انگلستان ہی کو شکست دی تھی کہ جس کے کھلاڑی آج تک روتے دھوتے دکھائی دیتے ہیں کہ ان کے ساتھ بے ایمانی ہوئی۔ خاص طور پر این بوتھم، جو کہتے ہیں کہ وسیم اکرم کی گیند ان کے بلّے کو چھوتے ہوئے نہیں گئی تھی اور دوسرے ڈیرک پرنگل، جن کا آج تک کہنا ہے کہ جاوید میانداد صاف ایل بی ڈبلیو تھے، لیکن امپائر نے آؤٹ کھا لیا۔ حیرت کی بات ہے کہ یہ بات انگلستان کے وہ کھلاڑی کہہ رہے ہیں جو کمال ڈھٹائی سے فائنل تک پہنچے تھے۔ عالمی کپ 1992ء کے دوسرے سیمی فائنل میں وہ بارش کی وجہ سے جنوبی افریقہ کو جس طرح "شکست" دے فائنل تک آئے تھے، اس کے بعد تو شرم کے مارے کچھ کہنا ہی نہیں چاہیے تھا۔ بہرحال، ورلڈ کپ میں شکست کا زخم ابھی تازہ ہی تھا کہ وسیم اکرم اور وقار یونس انگلش بلے بازوں کا برا حال کرنے سرزمین انگلستان پہنچ گئے۔ پاکستان نے ٹیسٹ سیریز دو-ایک سے جیتی اور یوں ایک نئی مصیبت مول لے لی۔ انگلستان کے ذرائع ابلاغ نے گیند کے ساتھ چھیڑ چھاڑ، یعنی بال ٹمپرنگ، کے سنگین الزامات لگا کر مہمان باؤلرز کی صلاحیتوں اور اپنی بلے بازوں کی نااہلی کو چھپانے کی کوشش کی۔ بات اتنی آگے تک چلی گئی کہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کو تحقیقات کرنا پڑیں، جس نے بعد میں فیصلہ دیا کہ گیند کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا الزام غلط ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  انضی بھائی...اور کیا چاہیے؟؟
Pakistan-ball-inspection-1992

1996ء کا دورہ بغیر کسی ناخوشگوار واقعے کے مکمل ہوا، حیران کن طور پر پاکستان کی کامیابی کے باوجود۔ بلکہ 2001ء میں بھی ایسا ہی ہوا لیکن 2006ء میں پاک-انگلستان کھینچا تانی ایک نئی انتہا کو پہنچی۔ پاکستان اس وقت عالمی درجہ بندی میں دوسرے نمبر پر تھا اور انضمام الحق کی قیادت اور باب وولمر کی کوچنگ میں ایک بہترین یونٹ بن چکا تھا۔ لیکن انگلستان کے خلاف کسی پاکستانی کی دال نہیں گلی۔ دوسرے ٹیسٹ میں ایک اننگز اور تیسرے میں 167 رنز کی بھاری شکست کے ساتھ سیریز تو ہاتھ سے نکل ہی گئی، بس عزت بچانے کا آخری موقع یعنی آخری ٹیسٹ باقی رہ گیا تھا۔ یہ اوول کا میدان تھا کہ جہاں پاکستان نے انگلستان کو صرف 173 رنز پر آؤٹ کیا اور خود 504 رنز بنا ڈالے۔ 331 رنز کی شاندار برتری ملنے کے بعد جب انگلستان 4 وکٹوں پر 293 رنز تک پہنچ چکا تھا اور مقابلہ خاصی حد تک برابری کی سطح پر آ گیا تھا، تب آسٹریلیا کے امپائر ڈیرل ہیئر نے پاکستانی باؤلرز پر الزام لگایا کہ وہ گیند کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں۔ بلکہ وہ ایک قدم اور آگے نکل گئے اور انگلستان کو پنالٹی کے پانچ رنز بھی دے دیے۔ اس حرکت پر پاکستان کے کپتان انضمام الحق کو غصہ تو بہت آیا لیکن کرنا کیا ہے، یہ فیصلہ کرنے میں انہیں کچھ دیر لگی۔ جب چائے کے وقفے کے بعد انگلش بلے باز میدان میں منتظر تھے تو پاکستانی ٹیم نے آنے سے انکار کردیا۔ یہاں تک کہ امپائر نے انگلستان کی کامیابی کا اعلان کردیا۔ اس مقابلے پر کئی سالوں تک کھینچا تانی ہوتی رہی۔ پہلے تو آئی سی سی نے امپائر کا فیصلہ رد کرتے ہوئے اس مقابلے کو ڈرا قرار دیا لیکن کچھ سالوں کے بعد اپنے ہی فیصلے کو غلط کہتے ہوئے امپائروں کا فیصلہ بحال کردیا۔

inzamam-ul-haq

حقیقت یہ ہے کہ اوول تنازع نے پاکستان کرکٹ کی ساکھ کو سخت متاثر کیا۔ فتوحات کا ایک اچھا سلسلہ قائم ہوگیا تھا اور ایک غیر ضروری تنازع نے پاکستان کرکٹ کی توجہ کہیں اور کردی۔ پھر نتیجہ سب نے ورلڈ کپ 2007ء میں دیکھا کہ جہاں باب وولمر اور انضمام الحق کی ساری محنت پر پانی پھر گیا۔ انضمام کی قیادت گئی اور وولمر کی جان۔

بہرحال، پستی کا حد سے گزرنا ابھی باقی تھا۔ 2010ء میں جب پاکستان انگلستان پہنچا تو ابتدائی دونوں میچز میں شکست کھائی۔ نئے کپتان سلمان بٹ کی کوئی چال کام نہیں کر رہی تھی یہاں تک کہ تیسرے ٹیسٹ میں ایک کامیابی کے ذریعے سیریز میں واپسی کی کوشش کی۔ آخری ٹیسٹ لارڈز کے اسی مقام پر کھیلا گیا جہاں پاکستان نے پہلے ہی دن 102 رنز پر انگلستان کے 7 کھلاڑی آؤٹ کردیے۔ پاکستانی ڈریسنگ روم میں جشن کا سماں تھا لیکن کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ میدان کے اندر اور باہر دونوں جگہ کیا قیامت برپا ہونے والی ہے۔ پھر ایک طرف میدان جوناتھن ٹراٹ اور اسٹورٹ براڈ کی شراکت داری اسکور کو 446 رنز پر لے آئی اور پاکستان دوسری اننگز میں 74 رنز پر ڈھیر ہوگیا۔ تو دوسری طرف یہ خبر بجلی بن کر گری کہ پاکستان کے تین کھلاڑیوں نے اسپاٹ فکسنگ کی ہے، ایک کپتان سلمان بٹ اور دوسرے دونوں اہم گیندباز محمد آصف اور محمد عامر نے، جنہوں نے جان بوجھ کر نو بالز پھینکنے کے عوض سٹے بازوں سے رقوم حاصل کی ہیں۔ پاکستانی کھلاڑیوں کے رہے سہے اوسان بھی خطا ہوگئے۔ میچ سے زیادہ سب کو جان کی پڑ گئی یہاں تک کہ دوسری اننگز صرف 147 رنز پر تمام ہوئی اور پاکستان ایک اننگز اور 225 رنز کے بھاری مارجن سے ہار گیا۔

salman-butt

اتنی ذلت آمیز شکست اور اس سے بڑھ کر فکسنگ جیسے قبیح فعل کی شرمندگی۔ دل چاہتا تھا کہ زمین پھٹ جائے اور اس میں سما جائیں۔ صاف محسوس ہو رہا تھا کہ پاکستان کرکٹ کے دن اب گنے جا چکے ہیں۔ تینوں کھلاڑیوں نے سزائیں تو پائیں لیکن پاکستان کرکٹ کے دیوانے چھ سال سے گویا سولی پر لٹکے ہوئے تھے۔ بالآخر 17 جون 2016ء کو مصباح الحق نے اس زخم پر مرہم رکھ دیا ہے۔ ان کی قیادت میں پاکستان کرکٹ کا ناقابل یقین سفر اب لارڈز کے اسی میدان پر اپنے منطقی انجام تک پہنچا ہے کہ جہاں سے یہ شروع ہوا تھا۔ کہانی کی تکمیل میں ابھی ایک کڑی باقی ہے، وہ ہے پاکستان کی سیریز میں کامیابی۔ یہ تمام سوالوں کا بہترین جواب ہوگی۔

mohammad-amir

Facebook Comments