پاکستان، 400 ناٹ آؤٹ!

بالآخر وہ دن، وہ لمحہ آن پہنچا جس کا کافی عرصے سے پاکستان کے کرکٹ شائقین کو انتظار تھا۔ پاکستان یہ جدت سب سے پہلے اختیار کرنا چاہتا تھا لیکن سری لنکا کے انکار کی وجہ سے تاريخ کا پہلا ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ پاکستان نہیں کروا سکا۔ یہ اعزاز پچھلے سال آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کو حاصل ہوا کہ جن کا مقابلہ ایڈیلیڈ میں کھیلا گیا اور اب، 13 اکتوبر 2016ء سے دبئی میں تاریخ کا دوسرا اور ایشیا میں پہلا ایسا ٹیسٹ ہوگا، جو مصنوعی روشنیوں میں کھیلا جائے گا۔

پاک-ویسٹ انڈیز دبئی ٹیسٹ کی اہمیت صرف اتنی نہیں ہے۔ یہ اس لحاظ سے بھی ایک تاریخی مقابلہ ہے کیونکہ یہ پاکستان کی تاریخ کا 400 واں ٹیسٹ ہے۔

پاکستان نے آزادی کے پانچ سال بعد 1952ء میں ٹیسٹ اسٹیٹس حاصل کیا اور پہلا دورہ پڑوسی ملک بھارت کا کیا۔ 16 اکتوبر 1952ء کو پاکستان نے دہلی ٹیسٹ کے ذریعے بین الاقوامی کرکٹ میں قدم رکھا۔ یہاں پاکستان کو ایک اننگز اور 70 رنز سے شکست ہوئی لیکن سیریز کے اگلے ہی مقابلے میں پاکستان نے اپنی پہلی ٹیسٹ کامیابی بھی حاصل کرلی۔ لکھنؤ میں ہونے والا دوسرا ٹیسٹ پاکستان نے فضل محمود کی تباہ کن باؤلنگ کی بدولت ایک اننگز اور 43 رنز کے واضح مارجن سے جیتا۔

فضل محمود پاکستان کرکٹ کے پہلے 'سپر اسٹار' تھے۔ لکھنؤ میں 12 وکٹیں حاصل کرکے تاریخی کامیابی سمیٹنے والے فضل کا یادگار ترین میچ اگست 1954ء کا پاک-انگلستان اوول ٹیسٹ تھا۔ یہاں بھی فضل محمود نے 12 بلے بازوں کا شکار کیا اور پاکستان 'بابائے کرکٹ' انگلستان کے خلاف اپنی پہلی ہی سیریز ڈرا کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ ایک نئی نویلی ٹیم، جس کا کل تجربہ 8 ٹیسٹ میچز کا تھا، انگلستان کو شکست دینا ایک بہت بڑا کارنامہ تھا۔

eng-pak-oval-1954

بین الاقوامی کرکٹ میں جیسا آغاز پاکستان نے لیا، شاید ہی دنیا کی کسی اور ٹیم کو ملا ہو۔ اپنے زمانے کی تمام ٹیموں کے خلاف پہلی ہی سیریز میں پاکستان نے کم از کم ایک کامیابی ضرور حاصل کی جو بہت بڑی بات تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  ہدف کا تعاقب اور انضمام الحق کا انوکھا ریکارڈ

پاکستان نے اپنی پہلی ٹیسٹ سیریز 1955ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف جیتی جب نیوزی لینڈ نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ کراچی اور لاہور میں کھیلے گئے پہلے دونوں ٹیسٹ میچز میں کامیابی کے بعد پاکستان نے سیریز دو-صفر سے جیتی۔ ویسے پاکستان نے بیرون ملک اپنی پہلی سیریز بھی نیوزی لینڈ ہی کے خلاف جیتی تھی، لیکن وہ 1973ء میں ملی تھی۔

1952ء سے لے کر 2016ء تک 64 سالوں میں پاکستان نے399 ٹیسٹ میچز کھیلے ہیں جن میں سے 128 میں فتوحات حاصل کیں اور 113 میں شکست کا منہ دیکھا۔ ان میں سے 158 مقابلے بغیر کسی نتیجے تک پہنچے تمام ہوئے۔

پاک-آسٹریلیا 1994ء کا کراچی ٹیسٹ، تاریخ کے یادگار ترین مقابلوں میں سے ایک

پاک-آسٹریلیا 1994ء کا کراچی ٹیسٹ، تاریخ کے یادگار ترین مقابلوں میں سے ایک

پاکستان نے 151 ٹیسٹ میچز اپنے ہوم گراؤنڈ پر کھیلے کہ جہاں 56 کامیابیاں حاصل کیں اور 22 میں شکست کھائی۔ بدقسمتی یہ ہے کہ 2009ء سے لے کر اب تک پاکستان میں کوئی ٹیسٹ نہیں کھیلا کیا۔ سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے کو ساڑھے سات سال گزر چکے ہیں، اب تک پاکستان کے میدان ٹیسٹ کرکٹ سے محروم ہیں۔

امریکا میں نائن الیون حملوں اور اس کے بعد خطے کے بگڑتے ہوئے حالات کی وجہ سے متعدد بار پاکستان کو اپنی ٹیسٹ سیریز نیوٹرل مقام پر کھیلنا پڑیں جیسا کہ 2002ء میں ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کے خلاف سری لنکا اور متحدہ عرب امارات میں اور پھر 2010ء میں آسٹریلیا ہی کے خلاف سیریز انگلستان میں کھیلنی پڑی۔ لیکن یہی سال تھا کہ جس میں متحدہ عرب امارات پاکستان کا مستقل ہوم گراؤنڈ بنا۔ اس وقت سے لے کر اب تک پاکستان یہاں کوئی ٹیسٹ سیریز نہیں ہارا بلکہ اپنی تاریخ کی چند یادگار ترین فتوحات یہاں حاصل کیں۔ جیسا کہ 2012ء میں انگلستان اور پھر 2014ء میں آسٹریلیا کے خلاف کلین سویپ فتوحات۔

یہ بھی پڑھیں:  ویسٹ انڈیز کو ایک اور دھچکا، رسل بھی باہر

پاکستان نے آج تک اپنے 29 مقابلے نیوٹرل مقامات پر کھیلے ہیں۔ جن میں سے 15 جیتے، 7 ہارے اور اتنے ہی بغیر کسی نتیجے تک پہنچے تمام ہوئے۔

اگر ہم بیرون ملک کی بات کریں کہ جہاں ایشیائی ٹیموں کی دال کم ہی گلتی ہے۔ پاکستان کا ریکارڈ سب سے بہتر دکھائی دیتا ہے۔ 219 ٹیسٹ مقابلوں میں پاکستان نے 57 فتوحات حاصل کی ہیں جبکہ 78 مقابلے ڈرا ہوئے۔ بیرون ملک پاکستان کی تاریخی کامیابیوں میں 1987ء کی پاک-بھارت سیریز ہے کہ جہاں بنگلور کی کامیابی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ پاکستان انگلستان، نیوزی لینڈ، سری لنکا، بنگلہ دیش اور زمبابوے کو اس کے ملکوں میں ہرا چکا ہے۔ صرف ویسٹ انڈیز، جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا ایسے ملک ہیں جن کے خلاف پاکستان نے آج تک کوئی 'اوے' سیریز نہیں جیتی۔

imran-khan

اسے پاکستان کی بدقسمتی سمجھیں کہ اپنے 400 ویں ٹیسٹ سے چند دن پہلے عالمی درجہ بندی میں نمبر ایک مقام سے محروم ہوگیا۔ عالمی درجہ بندی کے باقاعدہ نفاذ کے بعد پاکستان پہلی بار گزشتہ ماہ نمبر ون بنا تھا۔ اب پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کے ساتھ ساتھ آئندہ دورۂ نیوزی لینڈ و آسٹریلیا میں بھی کامیابیاں حاصل کرے۔ تب کہیں جاکر حقیقی عالمی نمبر ایک بن سکتا ہے اور واقعی آسٹریلیا کو اس کے ملک میں ہرانے والی ٹیم ہی اصل نمبر ون کہلانے کے قابل ہے۔ کیا پاکستان ایسا کر سکتا ہے؟ ہے تو بہت مشکل کیونکہ پاکستان نے آسٹریلیا کو کبھی آسٹریلیا میں سیریز نہیں ہرائی لیکن ناممکن ہرگز نہیں۔ پاکستان کے بارے میں بھلا کبھی کوئی پیش گوئی کر سکا ہے؟

pakistan-oval-2016

Facebook Comments