کامران اکمل ریکارڈ پر ریکارڈ توڑتے ہوئے

'اللہ نے انسان کے ہاتھ میں صرف نیت اور کوشش دی ہے، کامیابی وہ خود دیتا ہے۔' پاکستان کے سابق کپتان اور کرکٹ کی تاریخ کے مایہ ناز آل راؤنڈر عمران خان کا یہ قول بے شک سیاسی تناظر میں پیش کیا گیا ہو مگر اس کی اہمیت اور مرادیت زندگی کے کسی شعبہ میں کم نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ 34 سالہ وکٹ کیپنگ بلے باز کامران اکمل ابھی بھی ڈومیسٹک کرکٹ میں بھرپور محنت اور لگن سے قومی کرکٹ ٹیم میں دوبارہ جگہ بنانے کی کوشش میں لگے ہیں۔ رواں سیزن کو کامران اکمل کی زندگی کا سب سے بہترین سیزن کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا۔ کامران اکمل نے رواں سیزن میں نہ صرف وکٹ کے پیچھے سب سے زیادہ شکار کیے ہیں بلکہ بیٹنگ میں بھی سب سے زیادہ رنز بنا چکے ہیں۔ قائداعظم ٹرافی کے فائنل سے قبل سوئی سدرن کے خلاف کھیلے گئے فیصلہ کن میچ میں انہوں نے نہ صرف رواں سیزن کی پانچویں اور اپنے فرسٹ کلاس کیریئر کی انتیسوی سنچری بنانے کا اعزاز حاصل کیا بلکہ رواں سیزن میں اپنے ایک ہزار رنز بھی مکمل کر لئے۔ یہ تمام باتیں مختلف لحاظ سے ریکارڈ ساز ہیں۔

سب سے پہلے وکٹ کیپر کی حیثیت سے ان کی 29 سنچریاں کسی بھی وکٹ کیپر کی جانب سے فرسٹ کلاس کرکٹ میں بنائی ہوئی دوسری سب سے زیادہ سنچریاں ہیں۔ انہوں نے اس میچ میں ایڈم گلکرسٹ کا ریکارڈ برابر کیا جو کہ بحیثیت وکٹ کیپر 29 سنچریاں بنا چکے ہیں۔ کسی وکٹ کیپر کی جانب سے سب سے زیادہ سنچریاں بنانے کا اعزاز انگلینڈ کے سابق وکٹ کیپر لیزلی ایمس کے پاس ہے جو کہ ریکارڈ 102 سنچریاں سکور کر چکے ہیں جس میں سے 56 بحیثیت وکٹ کیپر اسکور کیں۔

رواں سیزن میں 5 سنچریاں کسی بھی پاکستانی وکٹ کیپر کی جانب سے ایک فرسٹ کلاس سیزن میں بنائی گئی سب سے زیادہ سنچریاں ہیں۔ اس سے قبل امتیاز احمد 1961-62ء میں کمبائنڈ سروسز اور نارتھ زون کی جانب سے کھیلتے ہوئے 4 سنچریاں بنا چکے ہیں۔

آج سے قبل صرف 11 بلے باز قائداعظم ٹرافی کے ایک سیزن میں 1000 رنز بنانے کا کارنامہ انجام دے چکے ہیں۔ کامران اکمل قائداعظم ٹرافی کی تاریخ کے بارہویں اور پہلے وکٹ کیپر بلے باز ہیں جنہوں نے ایک ہی سیزن میں 1000 رنز سکور کیے۔ اس سے قبل کسی وکٹ کیپر کی جانب سے ایک سیزن میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ بھی کامران اکمل ہی کے نام تھا جنہوں نے دو سیزن قبل 2014-15ء میں 900 رنز بنائے تھے۔

اس سے قبل رواں سیزن ہی میں کامران نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں کسی بھی پاکستانی کی جانب سے بحیثیت وکٹ کیپر سب سے زیادہ شکار کرنے کا وسیم باری کا ریکارڈ بھی اپنے نام کیا تھا۔

کامران اکمل نے پاکستان کی جانب سے اپنا آخری ٹیسٹ میچ اگست 2010ء میں کھیلا تھا۔ تب سے لے کر آج تک وہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں 16 سنچریاں سکور کر چکے ہیں جو کہ کسی بھی وکٹ کیپر کی جانب سے سب سے زیادہ ہیں۔

کامران اکمل کی قومی کرکٹ ٹیم میں واپسی کا فیصلہ سیلیکٹرز کے ہاتھ میں ہے۔ ان کے مطابق ان کا مقصد کسی اور کی جگہ لینا نہیں ہے، وہ سپیشلسٹ بیٹسمین کے طور پر بھی اپنی خدمات پیش کرنے کو تیار ہیں۔

بیشتر لوگ کامران اکمل کو استعمال شدہ کارتوس بھی گردانتے ہیں مگر وہ اپنی فارم اور پرفارمنس سے ثابت کر چکے ہیں کہ ان میں ابھی رنز بنانے کی لگن موجود ہے، وہ کوشش کر رہے ہیں، کامیابی اللہ خود دیتا ہے۔


لکھاری کا تعارف: اسرار احمد ہاشمی ویسے تو ایک گریجویٹ کیمیکل انجینئر ہیں مگر کرکٹ کے کھیل اور اس کے اعداد و شمار ہمیشہ ان کے لیے پرکشش رہے ہیں۔ کھیل کے بنتے ٹوٹتے ریکارڈ پر ان کی تحریریں مختلف مقامات پر شائع ہو چکی ہیں۔ ان سے ٹوئٹر ہینڈل @IamIsrarHashmi پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

Facebook Comments