سرفراز احمد کا متبادل کون؟ محمد رضوان یا عمر اکمل؟

آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں ناکامی کے بعد پاکستانی ٹیم ایک روزہ سیریز میں عزت بحال کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ لیکن ایسا محسوس ہوتا کہ اس مرتبہ کھلاڑیوں کے نجی مسائل ٹیم کے لیے صورتحال کو مشکل سے مشکل تر بنا رہے ہیں۔ چند روز قبل پاکستانی گیند باز محمد عرفان کی والدہ لاہور میں انتقال کرگئیں جس کے بعد وہ برسبین سے واپس پاکستان پہنچ گئے اور اب سرفراز احمد کی والدہ سے متعلق افسوس ناک خبر سامنے آئی ہے کہ طبیعت ناساز ہوجانےکے بعد انہیں حساس نگہداشت کے وارڈ (ICU) میں رکھا گیا ہے۔ ڈاکٹروں کی جانب سے محترمہ کی حالت نازک بیان کرنے کے بعد سرفراز احمد بھی پاکستان آنےکی تیاری کر رہے ہیں۔

یک بعد دیگرے دو اہم کھلاڑیوں کی دستے سے علیحدگی نے پاکستان کرکٹ ٹیم کو مزید مشکلات میں گھیر لیا ہے۔ گو کہ محمد عرفان کی جگہ پُر کرنے کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے جنید خان کو بھیجا گیا ہے تاہم اس بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے کہ وہ آسٹریلیا میں بالکل مختلف پچز، موسم اور صورتحال کا سامنا کیسے کرپائیں گے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جنید خان کو ڈیڑھ سال بعد قومی ٹیم کی نمائندگی کا موقع مل رہا ہے اور ان پر اپنا انتخاب درست ثابت کرنے کا بھی شدید دباؤ ہوگا۔ جنید خان کے لیے مثبت پہلو یہ ہے کہ انہیں محمد عامر، وہاب ریاض اور راحت علی کا ساتھ حاصل ہوگا۔

نائب کپتان سرفراز احمد کی وطن واپسی سے ٹیم کو ایک وکٹ کیپر اور بلے باز سے محروم ہونا پڑے گا۔ سرفراز کی صورت میں پاکستان کو نہ صرف ایک باصلاحیت وکٹ کیپر حاصل ہوا بلکہ انہوں نے خود کو ایک قابل اعتماد بلے باز کے طور پر بھی منوایا جو آخری گیند تک لڑ جانے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ اس صورتحال میں اہم ترین سوال یہ ہے کہ پاکستان ٹیم میں سرفراز جیسے کھلاڑی کی جگہ کون لے سکے گا؟ سرفراز کی وطن واپسی سے متعلق خبریں سامنے آنے کے بعد کہا جارہا تھا کہ کامران اکمل کو ان کی جگہ پُر کرنے کے لیے بھیجا جائے گا تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے اس بابت کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔ یاد رہے کہ جنید خان کی طرح کامران اکمل بھی ڈومیسٹک مقابلوں میں اپنی کارکردگی سے ماہرین کو متوجہ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ انہوں نے قائد اعظم ٹرافی کے رواں سیزن میں 79.61 کی اوسط سے 1035 رنز بنائے اور حال ہی میں سابق وکٹ کیپر وسیم باری کا وکٹوں پیچھے سب سے زیادہ کھلاڑی شکار کرنے کا ریکارڈ بھی اپنے نام کیا ہے۔

kamran-akmal-pakistan

کامران اکمل کی صورت میں پاکستان کو ایک تجربہ کار وکٹ کیپر بلے باز میسر آسکتا ہے۔ وہ نہ صرف 154 ایک روزہ مقابلوں میں 187 کھلاڑیوں کو پویلین لوٹا چکے ہیں بلکہ آسٹریلیا میں کھیلے گئے 11 ایک روزہ مقابلوں میں پاکستانی دستے کی نمائندگی کرتے ہوئے 11 کھلاڑی کو میدان بد کرچکے ہیں۔ تاہم اگر مستقبل کی طویل المعیاد منصوبہ بندی کو مدنظر رکھا جائے تو 35 سالہ کامران اکمل کو ایک بار پھر موقع دینا بہتر فیصلہ نہیں کہا جاسکتا ہے۔اگر کامران اکمل کو آسٹریلیا نہیں بھیجا جاتا تو پھر پاکستان ٹیم کے ایک روزہ دستے میں محمد رضوان اور عمر اکمل ایسے نام ہیں کہ جنہیں سرفراز احمد کا متبادل بنایا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  مصباح اور یونس کے لیے بڑا اعزاز

محمد رضوان پہلے بھی بحیثیت وکٹ کیپر قومی دستے کا حصہ رہے ہیں تاہم انہیں اس فرائض کی انجام دہی کاموقع کم ہی میسر آیا ہے۔ سرفراز کے جانشین کے طور پر ابھرتے ہوئے نوجوان کھلاڑی محمد رضوان کو بہتر انتخاب سمجھا جارہا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف ایک ناتجربہ کار وکٹ کیپر کے ساتھ اترنے کا فیصلہ مہنگا پڑ سکتا ہے۔ محمد رضوان کو اب تک ایک روزہ مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کا موقع نہیں ملا البتہ وہ سال 2015 میں زمبابوے، سری لنکا اور آسٹریلیا کے خلاف 6 ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں پاکستان کی جانب سے صرف 3 شکار کرچکے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے کرکٹ آسٹریلیا الیون کے خلاف کھیلے گئے مقابلے میں بھی وکٹوں کے پیچھے ذمہ داری سنبھالی اور بلے بازی میں ناقابل شکست 22 رنز اسکور کیے۔

دوسری طرف ایک روزہ دستے میں شامل عمر اکمل ہیں جنہیں اس صورتحال میں مناسب ترین امیدوار قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ 26 سالہ کھلاڑی پاکستان کی جانب سے کئی اہم ٹورنامنٹس میں وکٹوں کے پیچھے ذمہ داریاں ادا کرچکے ہیں جن میں آسٹریلیا ہی میں کھیلا گیا عالمی کپ 2015 بھی شامل ہے۔ مجموعی کیریئر کی بات کریں تو عمر اکمل 37 ایک روزہ مقابلوں میں بطور وکٹ کیپر 58 کھلاڑیوں کو میدان سے باہر بھیج چکے ہیں۔ ناقدین کہتے ہیں کہ وکٹ کیپنگ کی اضافی ذمہ داری دیئے جانے کے باعث عمر اکمل کی بلے بازی میں کارکردگی متاثر ہوئی تاہم اعداد و شمار کچھ مختلف کہانی بیان کرتے ہیں۔ عمر اکمل نے وکٹ کیپر بلے باز کے طور پر 37 ایک روزہ مقابلوں میں 37.22 کی اوسط سے 1005 رنز بنائے جبکہ صرف بلے باز کے طور پر کھیلے گئے 74 ایک روزہ میں 33.47 کی اوسط سے 1908 رنز بنائے ہیں۔

umar-akmal-pakistan

گو کہ ٹیسٹ سیریز میں 3-0 کی شکست بھلانا ممکن نہیں لیکن ایک روزہ مقابلوں میں بہتر کارکردگی اور اچھی حکمت عملی کے ذریعے دورہ آسٹریلیا کا بہتر اختتام کیا جاسکتا ہے۔ لہٰذا پاکستان کرکٹ ٹیم کو مزید کسی بھی قسم کے خطرات مول لینے کے بجائے ان 11 کھلاڑیوں کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگا کہ جو اپنے اپنے شعبوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔ اور اس کے لیے ضروری ہے کہ صورتحال کا بخوبی جائزہ لیا جائے اور میدان میں اترنے سے پہلے درست فیصلے کیے جائیں۔

Facebook Comments