سرزمین آسٹریلیا پر 12 سال بعد پہلی کامیابی

محمد حفیظ کی 'پروفیسری' نے کام کر دکھایا، پاکستان نے آسٹریلیا کی سرزمین پر 12 سال بعد بالآخر اپنی پہلی کامیابی کا مزا چکھ ہی لیا۔ چھ وکٹوں کی ایک اہم کامیابی میں گیند بازوں کی منظم باؤلنگ اور حفیظ کی شاندار بلے بازی کا کردار اہم رہا۔

آسٹریلیا نے پھر ٹاس جیتا اور بلے بازی کا ہی فیصلہ کیا۔ دلچسپ بات یہ کہ آغاز بھی پہلے میچ سے مختلف نہیں تھا۔ دونوں اوپنرز صرف 31 رنز پر پویلین لوٹ گئے۔ جنید خان نے دونوں اوپنرز عثمان خواجہ اور ڈیوڈ وارنر کو آؤٹ کرکے طویل عرصے بعد ٹیم میں اپنی واپسی کو درست ثابت کر دکھایا۔ پھر میزبان ٹیم کو سنبھلنے کا موقع دیے بغیر محمد عامر نے مچل مارش کو کھاتہ کھولنے سے پہلے ہی شکار کر لیا۔ اس کے بعد ٹریوس ہیڈ اور اسٹیون کی جوڑی نے 45 رنز کے اضافے تک مزاحمت کی۔ حسن علی کے ہاتھوں ٹریوس ہیڈ کی اننگز تمام ہوئی تو اس کا بھی خاتمہ ہوگیا۔

اب شاہین گیندبازوں کا مقابلہ کرنے کے لیے میدان میں کپتان اسٹیون اسمتھ تھے، جنہیں گلین میکس ویل کا ساتھ حاصل تھا۔ مجموعے میں 42 رنز کا اضافہ ہوا اور عماد وسیم نے میکس ویل کو 23 کے انفرادی اسکور پر دبوچ لیا۔ اس طرح آسٹریلیا کی آدھی ٹیم تو میدان بدر ہوئی۔ اب "آخری رکاوٹ" تھی، اسٹیون اسمتھ کے ساتھ ساتھ پچھلے میچ کے مرد میدان میتھیو ویڈ۔ دونوں نے محتاط بلےبازی کی اور مجموعے میں 65 رنز کا اضافہ کیا۔ 193 رنز تک پہنچے تو کپتان کی 60 رنز کی اننگز عماد کا شکار ہوگئی۔ اگلے ہی اوور میں شعیب ملک نے میتھیو ویڈ کو بھی چلتا کر دیا۔ بقیہ کھلاڑی مچل اسٹارک، پیٹ کمنز اور جیمز فاکنر کچھ زیادہ نہ کر سکے۔ آسٹریلیا کی اننگز صرف 220 رنز پر ختم ہوگئی۔

پاکستان کی جانب سے محمد عامر تین جبکہ جنید خان اور عماد وسیم نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔

جب گرین کیپس نے 221 رنز کا تعاقب شروع کیا تو ایک عمدہ آغاز کی سخت ضرورت تھی۔ قائم مقام کپتان محمد حفیظ تو پہلے ہی اوور میں واپسی کا ٹکٹ کٹوا چکے تھے، مگر سلپ میں کھڑے آسٹریلوی ہم منصب اسٹیون استمھ کی فیاضی سے بچ گئے۔ اس نوازش کا 'پروفیسر' نے بہت فائدہ اٹھایا اور 72 رنز کی فاتحانہ اننگز کھیل ڈالی۔ ان کا ہر ہر رن آسٹریلیا کے زخموں پر نمک پاشی کرتا رہا۔

اس دوران شرجیل نے 29 رنز بنا کر کپتان کا ساتھ دیا۔ دونوں نے پہلی وکٹ پر 68 رنز بنائے۔ بابر اعظم کو آج کے مقابلے میں ایک سنچری کے ذریعے سب سے کم اننگز میں ایک ہزار ون ڈے رنز کا ریکارڈ توڑنا تھا۔ وہ توڑ تو نہیں سکے لیکن 72 رنز کی رفاقت کے ساتھ پاکستان کے امکانات مزید روشن کردیے۔ بابر نے 34 رنز بنائے اور ایک انتہائی غیر ضروری شاٹ کھیلتے ہوئے آؤٹ ہوئے۔ کچھ ہی دیر میں کپتان کا بھی بلاوا آ گیا جو جیمز فاکنر کی گیند پر کیچ دی گئے۔

ٹیم پاکستان کی عادتوں کو دیکھیں تو اس لمحے ڈریسنگ روم اور پاکستانی تماشائیوں میں تشویش ضرور بڑھ گئی تھی۔ گو کہ لگ بھگ 18 اوورز کا کھیل باقی تھا اور پاکستان کو 79 رنز درکار تھے لیکن یہاں پر ٹھنڈے دماغ کے ساتھ کھیلنے کی ضرورت تھی۔ شعیب ملک اور اسد شفیق نے آسٹریلیا کے بڑھتے قدموں کا اچھی طرح مقابلہ کیا۔ بارہا اپیلوں سے بچے، ریویو کا بھی بہترین استعمال کیا اور مجموعے کو 195 رنز تک پہنچا دیا۔ اسد شفیق آؤٹ ہوئے تو عمر اکمل میدان میں اترے اور تین چوکوں کی مدد سے ہدف کی راہ ہموار کردی۔ شعیب ملک 42 اور عمر اکمل 18 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے اور پاکستان 48 ویں اوور میں 221 رنز تک پہنچ گیا۔

محمد حفیظ کو عمدہ قیادت اور بہترین بیٹنگ پر مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔

یاد رہے کہ اس مقابلے کے لیے پاکستان نے تین تبدیلیاں کی تھیں۔ زخمی کپتان اظہر علی کی جگہ اسد شفیق کو کھلایا گیا تھا جبکہ وہاب ریاض اور محمد نواز کی جگہ جنید خان اور شعیب ملک کو شامل کیا گیا۔ سبھی نے عمدہ کارکردگی پیش کی اور پاکستان کو جنوری 2005ء کے بعد کسی بھی طرز کی کرکٹ میں پہلی بار آسٹریلیا میں کسی کامیابی سے ہمکنار کیا۔

آسٹریلیا اور پاکستان کا درمیان تیسرا ون ڈے میچ 19 جنوری کو کھیلا جائے گا۔

Junaid-Khan

Facebook Comments