گھر کے شیر بالآخر کامیاب، پہلا ایک روزہ بھارت کے نام

حالیہ دورۂ انگلستان میں پے در پے شکستوں کے بعد بھارت نے حریف ٹیم کو اپنے میدان میں بلا کر پہلے ہی مقابلے میں چاروں شانے چت کر دیا۔ فتح میں اہم ترین کردار اِن فارم کپتان مہندر سنگھ دھونی اور بھارت کی اسپن جوڑی نے ادا کیا۔ دھونی کی شاندار 87 رنز کی اننگز نے جہاں فتح کے لیے بنیاد فراہم کی، وہیں روی چندر آشوِن اور رویندر جدیجا نے انگلش بلے بازوں کو اپنے اسپن جال میں پھانس لیا، اور انگلستان کا سفر ہدف سے کہیں دور اپنے اختتام کو پہنچا۔

مہندر سنگھ دھونی نے ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں مسلسل چوتھی نصف سنچری اسکور کی (تصویر: AP)

مہندر سنگھ دھونی نے ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں مسلسل چوتھی نصف سنچری اسکور کی (تصویر: AP)

عالمی کپ 2011ء کے بعد بھارت میں ہونے والا پہلا مقابلہ ابتدائی چند اوورز تک دنیا بھر میں نشر نہ ہو سکا، جس کی وجہ تکنیکی خرابی بتائی گئی۔ یوں ابتدائی تین اوورز کا کھیل صرف 26 ہزار وہ شائقین دیکھ پائے جو میدان میں موجود تھے۔

حیدر آباد کے راجیو گاندھی انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے پہلے معرکے میں بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا تو مڈل آرڈر خصوصاً دھونی اور سریش رائنا کی عمدہ بلے بازی نے اسے 300 رنز کے بڑے مجموعے تک پہنچنے میں مدد دی۔

مہندر سنگھ دھونی نے 70 گیندوں پر ایک چھکے اور 10 چوکوں کی مدد سے 87 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، یہ ان کی ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں مسلسل چوتھی نصف سنچری تھی۔ انہوں نے حالیہ دورۂ انگلستان میں مسلسل مقابلوں میں نصف سنچریاں داغی تھیں اور اسی عمدہ سلسلے کو انہوں نے ہوم گراؤنڈ پر بھی برقرار رکھا اور تمام انگلش باؤلرز کو خوب دھویا۔ اس سفر میں سریش رائنا نے اُن کا بھرپور ساتھ دیا جنہوں نے 2 چھکوں اور 5 چوکوں کی مدد سے 55 گیندوں پر 61 رنز کی اننگز کھیلی۔

بھارت نے آخری 16 اوورز میں 10 سے بھی زیادہ اوسط سے 161 رنز بنائے اور اپنی فتح کو یقینی بنایا۔

انگلستان کی جانب سے سوائے گریم سوان کے کوئی گیند باز قابل ذکر کارکردگی پیش نہ کر سکا، اور اسپن ٹریک کے باعث یہی فائدہ بھارتی اسپنرز نے بھی بعد میں اٹھایا۔ سوان نے اپنے حصے کے 10 اوورز میں محض 35 رنز دیے اور ایک وکٹ حاصل کی۔ ان کے علاوہ اسٹیون فن، جیڈ ڈرنباخ اور سمیت پٹیل کو ایک، ایک وکٹ ملی لیکن وہ بہت مہنگے ثابت ہوئے خصوصاً اسٹیون فن جن کے 9 اوورز میں بھارت نے 74 رنز لوٹے۔ انگلستان کی ناقص باؤلنگ کا اظہار فاضل رنز سے بھی ہوتا ہے جس میں 18 وائیڈز بھی شامل تھیں۔ مجموعی طور پر 23 رنز فاضل تھے۔

انہی فیاضیوں کی بدولت مقررہ 50 اوورز میں بھارت نے پورے 300 رنز بنائے اور یوں انگلستان کو 301 رنز کا مشکل ہدف دیا، جس کے دباؤ میں وہ ابتداء ہی سے نظر آیا۔

کریگ کیزویٹر ابتداء ہی میں محض 7 رنز بنا کر پروین کمار کا نشانہ بن گئے جبکہ 40 کے مجموعے تک پہنچتے پہنچتے کیون پیٹرسن بھی پویلین سدھار گئے۔ اس موقع پر دو تجربہ کار بلے بازوں نے اننگز کو سنبھالا دینے کی کوشش کی یعنی کپتان ایلسٹر کک اور جوناتھن ٹراٹ نے۔ دونوں نے تیسری وکٹ پر 71 رنز جوڑے۔ ایلسٹر کک نے 63 گیندوں پر 7 چوکوں کی مدد سے 60 رنز بنائے لیکن اننگز کے تقریباً وسط میں ان کے پویلین سدھارتے ہی انگلش بلے بازوں نے قطار باندھ لی۔ 111 رنز کے مجموعی اسکور پر رویندر جدیجا نے حریف کپتان کو اور اپنے اگلے اوور میں سیٹ بلے باز ٹراٹ (26 رنز) کو بھی ٹھکانے لگا کر بھارت کا پلڑا بھاری کر دیا۔ اگلے اوور میں دوسرے اینڈ سے روی چندر آشون نے روی بوپارا (8 رنز) کو پویلین کی راہ دکھائی تو جدیجا نے مسلسل تیسرے اوور میں بھی وکٹ حاصل کر کے بھارت کی فتح پر مہر ثبت کر دی۔ ان کا آخری نشانہ جوناتھن بیئرسٹو تھے جنہیں بڑی توقعات کے ساتھ ٹیم میں شامل کیا گیاتھا لیکن ان کا اسکور 3 سے آگے نہ بڑھ سکا۔

126 پر تمام بلے بازوں کے پویلین لوٹ جانے کے بعد انگلستان کی فتح کی جانب پیش قدمی کا خاتمہ ہو گیا، اور اب اس کے بلے باز صرف حریف گیند بازوں کے رحم و کرم پر تھے اور یہ مزاحمت زیادہ دیر جاری نہ رہی۔ پوری ٹیم 37 ویں اوور میں محض 174 پر ڈھیر ہو گئی، اور 126 رنز کی ذلت آمیز شکست سے دوچار ہوئی۔

بھارت کی جانب سے اسپنرز رویندر جدیجا اور روی چندر آشوِن نے تین، تین حریف بلے باز ٹھکانے لگائے جبکہ دو وکٹیں اُمیش یادیو کو ملیں۔ پروین کمار بھی ایک وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

مہندر سنگھ دھونی کو شاندار اننگز پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

5 ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں کی سیریز میں اب بھارت کو 1-0 کی برتری حاصل ہو چکی ہے۔ دونوں ٹیموں کا اگلا معرکہ 17 اکتوبر کو دہلی میں ہوگا۔

اسکور کارڈ کچھ دیر میں ملاحظہ کریں

Facebook Comments