یادِ ماضی عذاب ہے یارب!

0 2,063

پاکستان اور بھارت کے مابین کرکٹ تعلقات تقریباً 8 سال سے ٹوٹے ہوئے ہیں، 2007ء میں پاکستان کے دورۂ بھارت سے لے کر آج تک دونوں ملکوں نے آپس میں کوئی باہمی سیریز نہیں کھیلی۔ 2012ء کے اواخر میں کچھ برف پگھلی اور پاکستان نے بھارت کے دورے میں چند ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی مقابلے کھیلے۔ توقع تھی کہ تعلقات کی مکمل بحالی کی راہ اب ہموار ہوگی اور گزشتہ سال جب دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوئے تو دونوں ممالک کے تماشائیوں پر تو شادی مرگ کی کیفیت ہی طاری ہوگئی۔ پچھلے 8 سالوں میں جہاں دونوں ممالک ایک مکمل سیریز بھی نہ کھیلے تھے، اگلے 8 سالوں میں 6 باہمی سیریز کے وعدے کیے گئے لیکن معاملہ پہلے ہی مرحلے کو عبور نہ کرسکا۔ گویا یہ رکاوٹوں والی ایک بڑی اور اہم دوڑ تھی جس میں دوڑنے والے نے آغاز تو بہت ہی تیز لیا لیکن پہلی ہی رکاوٹ پر منہ کے بل گرگیا۔

اب دنیائے کرکٹ کی سب سے بڑی رقابت کے پرستاروں کے لیے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ وہ ماضی کی یادوں کو کریدیں۔ پاک و ہند کے تعلقات کی طرح کھیل میں بھی دونوں کی تاریخ بہت ہی رنگین ہے۔ اس پر ایک نہیں بلکہ کئی کتابیں تک لکھی جا سکتی ہیں، اور لکھی بھی گئی ہیں۔ ویسے تو دونوں ممالک کے کھلاڑی بہت اچھے دوست شمار ہوتےہیں لیکن کبھی کبھار میدان میں صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے۔ بدقسمتی سے کھیل کا یہی تاریک پہلو زیادہ مقبول ہے۔

صفحہ نمبر 7 :
کامران اکمل بمقابلہ ایشانت شرما – 2012ء
  • 1. ماجد خان بمقابلہ کپل دیو – 1978ء
  • 2. جاوید میانداد بمقابلہ کرن مورے – 1992ء
  • 3. عامر سہیل بمقابلہ وینکٹش پرساد – 1996ء
  • 4. شاہد آفریدی بمقابلہ گوتم گمبھیر – 2007ء
  • 5. کامران اکمل بمقابلہ گوتم گمبھیر – 2010ء
  • 6. شعیب اختر بمقابلہ ہربھجن سنگھ – 2010ء
  • 7. کامران اکمل بمقابلہ ایشانت شرما – 2012ء

7. کامران اکمل بمقابلہ ایشانت شرما – 2012ء

2012ء کے آخری ایام پاکستان اور بھارت کے شائقین کے لیے بہت یادگار تھے۔ 2007ء کے بعد پہلی بار دونوں ممالک کے کھلاڑی پہلی بار کسی سیریز میں آمنے سامنے آئے تھے۔ گو کہ یہ مکمل سیریز نہیں تھی اور اس میں صرف ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی ہی کھیلے گئے لیکن پہلے ہی مقابلے میں گھمسان کا رن پڑا۔ یہ بنگلور کے چناسوامی اسٹیڈیم میں ہونے والا ٹی ٹوئنٹی تھا جو کرسمس کے دن کھیلا گیا۔ بھارت نے پہلے بلے بازی کی اور 133 رنز بنائے۔ پاکستان نے ابتدا میں تین وکٹیں ضرور گنوائیں لیکن اس کے بعد محمد حفیظ اور شعیب ملک 106 رنز کی شراکت داری نے گویا مقابلہ کا فیصلہ ہی کردیا۔

جب بھارت کویقینی شکست نظر آنے لگی تو ایشانت شرما نے 'طریقہ نمبر 2' استعمال کرنے کی کوشش کی۔ محمد حفیظ کی وکٹ لینے کے بعد ویسے ہی کچھ زيادہ پرجوش ہوگئے تھے، پھر شعیب ملک کے خلاف زوردار اپیل مسترد ہونے پر بھی انہیں غصہ آیا جو انہوں نے نئے آنے والے بلے باز کامران اکمل پر اتارا۔ 'کامی' نے ایشانت کو ایک زوردار شاٹ کھیلنے کی کوشش کی جس میں وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ جس کے بعد ایشانت نے انہیں کوئی جملہ کہا، کامران اکمل نے بھی جواب دیا جس پر ایشانت سیخ پا ہوگئے۔

آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ایک دوسرے کو گھورتے ہوئے کھلاڑیوں کو فیلڈرز اور امپائرز نے بچایا اور معاملے کو ٹھنڈا کیا۔ مزیدار بات یہ ہےکہ اگلے اوور میں کامران اکمل کا اٹھتا ہوا شاٹ ایشانت ہی کے ہاتھوں میں کیچ ہوگیا۔ پھر جس طرح مہمان نوازی کا بھرپور حق ادا کرتے ہوئے ایشانت نے کامران کو میدان سے رخصت کیا، وہ سب کو یاد ہی ہوگا۔ اس حرکت پر دونوں کھلاڑیوں پر جرمانہ ضرور لگا لیکن کامیابی پاکستان کو ملی۔ بعد ازاں ٹی ٹوئنٹی سیریز برابر اور ایک روزہ میں پاکستان نے کامیابی حاصل کی۔

تبصرہ کیجیے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا