نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست باعثِ رحمت؟

0 1,489

پاکستان کو دورہ نیوزی لینڈ کے پہلے مرحلے میں کلین سُوئیپ کا سامنا کرنا پڑا۔ چیمپیئنز ٹرافی کی خوابناک کامیابی، اس کے بعد سری لنکا کو ایک، دو نہیں تمام پانچ مقابلوں میں شِکست دے کر شاہین بُلندیوں پر اُڑ رہے تھے، لیکن نیوزی لینڈ پہنچتے ہی اِن کے پر یوں کتر لیے جائیں گے؟ یہ تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ پاکستان کی بیٹنگ تو خیر ہمیشہ ملک کی طرح نازک موڑ پر رہتی ہے، لیکن نیوزی لینڈ کے نسبتاً سازگار حالات میں قومی باؤلرز کا بھی ناکام ہونا مایوس کُن تھا۔

سیریز میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑیوں میں ٹاپ 5 میں صرف ایک پاکستانی بیٹسمین ہیں، فخر زمان کہ جنہوں نے 4 میچز میں 150 رنز بنائے۔ اُن کے بعد محمد حفیظ کے 148 رنز ہیں اور حیران کُن طور پر تیسرا نام نہ بابر اعظم کا ہے، نہ اظہر علی کا، نہ کپتان سرفراز احمد کا اور نہ ہی شعیب ملک کا بلکہ یہ ہیں شاداب خان، جنہوں نے 140 رنز اسکور کیے۔

باؤلرز میں رمّان رئیس نے 8 وکٹیں ضرور لیں لیکن 35 کے بھاری اوسط سے۔ باقی تمام باؤلرز کا بھی یہی حال رہا۔ دونوں اہم شعبوں میں ناقِص کارکردگی ہی کا نتیجہ تھا کہ پاکستان تمام میچز ہارا، بلکہ بہت بُری طرح ہارا۔ پہلا مقابلہ 61 رنز سے، دوسرا 8 وکٹوں سے اور تیسرا 183 رنز سے۔ صرف آخری دو میچز ایسے تھے جن میں کسی حد تک مقابلے کی فضا دکھائی دی لیکن نیوزی لینڈ نے یہاں بھی میدان مارے، بالترتیب پانچ وکٹوں اور 15 رنز کی کامیابی سے۔

کیا یہ شکست واقعی غیر متوقع تھی؟ اگر پاکستان کی حالیہ کارکردگی دیکھیں تو واقعی ایسا ہی لگتا ہے، لیکن پاکستانی تجزیہ کار ایک بہت بڑے پہلو سے صرفِ نظر کر رہے ہیں، وہ ہے گزشتہ پانچ برسوں میں نیوزی لینڈ کی ہوم گراؤنڈ پر کارکردگی۔ اس طویل عرصے میں نیوزی لینڈ صرف اپنے میدانوں پر صرف دو مرتبہ کوئی ون ڈے سیریز ہارا ہے، وہ بھی جنوبی افریقہ کے خلاف۔

اس کے علاوہ جو بھی نیوزی لینڈ گیا، ’بہت بے آبرو ہوکر‘ نکالا گیا یہاں تک کہ آسٹریلیا بھی، ایک نہیں دو مرتبہ! بلکہ 2014ء میں جب بھارت ورلڈ چیمپیئن تھا تو انہی میدانوں پر وہ نیوزی لینڈ کے خلاف پانچ میں سے ایک ون ڈے بھی نہیں جیت پایا تھا۔

تو اس بدترین شکست پر بھارت کا ردعمل کیا تھا؟ کیا اس نے کپتان کو فارغ کردیا؟ کئی کھلاڑیوں، خاص طور پر نوجوانوں کو اسکواڈ سے نکال باہر کیا؟ کیا بھارت کے علاوہ کسی دوسری ٹیم نے بھی ایسا کیا؟ ہرگز نہیں!

پاکستان کرکٹ کے حالات بھارت سے مختلف ضرور ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس کڑے وقت میں کھلاڑیوں پر اعتماد کی زیادہ ضرورت ہے، خاص طور پر نوجوانوں پر۔ اُنہیں شکست سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنے کا حوصلہ درکار ہے اور اس کے لیے وقت کی بھی ضرورت ہے۔ ماضی میں پاکستان جب بھی کسی بین الاقوامی دورے پر کلین سوئیپ سے دوچار ہوا ہے تو نزلہ نوجوان کھلاڑیوں پر ہی اترا ہے۔ اس لیے خطرہ لاحق ہے کہ کہیں موجودہ شورو ہنگامے میں کہیں شکست کی قیمت نوجوانوں کو نہ بُھگتنی پڑ جائے۔

جب 2010ء کے اوائل میں پاکستان آسٹریلیا کی سرزمین پر تمام ٹیسٹ، سارے ون ڈے اور واحد ٹی ٹوئنٹی سب ہار گیا تھا تو تحقیقات کے بعد بڑے ناموں کو نکالا تو گیا لیکن 6 مہینے کے اندر اندر سب واپس ٹیم میں آ گئے اور نقصان کس کا ہوا؟ خالد لطیف، سرفراز احمد اور خرم منظور جیسے کھلاڑیوں کا، جنہیں عرصے تک پھر دوبارہ ٹیم میں نہیں بلایا گیا۔ خاکم بدہن، اگر پاکستان نیوزی لینڈ کے ہاتھوں ٹی ٹوئنٹی سیریز بھی ہار جاتا ہے تو خطرہ موجود ہے کہ وار نوجوان کھلاڑیوں پر ہوگا۔

ویسے کھلاڑیوں کو بھی یہ بات گرہ سے باندھ لینی چاہیے کہ کسی بھی بڑی کامیابی کے بعد سکون سے نہیں بیٹھا جاتا بلکہ مزید محنت کی جاتی ہے اور مزید بڑے اہداف کو حاصل کرنے کی تیاری کی جاتی ہے۔

پاکستان کو رواں سال انگلینڈ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے خلاف بہت مشکل سیریز کھیلنی ہیں اور اِن بڑے امتحانات سے قبل عالم یہ ہے کہ شکست کی ذمہ داری سلیکشن کمیٹی سے لے کر سرفراز احمد تک، سب پر ڈالی جا رہی ہے، کیونکہ شکست یتیم ہوتی ہے۔

جب 2010ء میں مصباح الحق کو پاکستان کا کپتان بنایا گیا تھا، تب بہت اودھم مچایا گیا تھا اور اگلے 5 یا 6 سال تک، جب تک مصباح قائد رہے، انہیں ایک لمحہ سکون کا میسر نہیں آیا۔ یہاں تک کہ کئی یادگار فتوحات کے بعد بھی بڑی عرق ریزی سے اُن کی قیادت کے انداز میں خامیاں نکالی گئیں اور جیت کا کریڈٹ ان کے بجائے باقی سب کو دیا گیا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے داد بنتی ہے کہ اس نے مشکل ترین حالات میں بھی مصباح پر اعتماد کیا اور اب بھی ویسا ہی بھروسہ سرفراز احمد پر کرنے کی بھی ضرورت ہے اور خود سرفراز کو بھی سمجھنا ہوگا کہ اُنہیں مصباح الحق کی طرح ٹھنڈے دماغ سے کام کرنا ہے۔

بلاشبہ کارکردگی پر جواب طلبی ہونی چاہیے لیکن یہ شکست باعث رحمت بن سکتی ہے، اگر ہم اس سے سیکھیں اور آئندہ امتحانات کے لیے تیاری کریں۔ یہ سیریز چشم کشا ہے، بالخصوص آئندہ مراحل کو دیکھا جائے تو اس شکست سے بہت کچھ سیکھا جاسکتا ہے۔ بس ضرورت ہوگی درست سمت میں قدم اٹھانے کی، ورنہ اس مرحلے پر کوئی بھی بے وقوفانہ قدم گزشتہ ایک سال میں پاکستان کرکٹ کی تمام تر پیشرفت کا خاتمہ کرسکتا ہے۔

مدیر کرک نامہ فہد کیہر نے یہ تحریر ڈان نیوز کے لیے لکھی تھی، جو یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔