حسن علی نمبر ون نہیں رہے

0 1,467

کرکٹ کی عالمی درجہ بندی میں اکھاڑ پچھاڑ کا عمل تسلسل سے جاری رہتا ہے، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ایک روزہ کی جو تازہ ترین درجہ بندی شائع کی ہے اس کے مطابق جنوبی افریقہ کے اسپنر عمران طاہر گیند بازی کے شعبے میں نمبر ون پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اس سے پہلے یہ 759 پوائنٹس کے ساتھ پاکستان کے تیز گیندباز حسن علی کے پاس تھی اور عمران طاہر 743 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔

پاکستانی نژاد عمران طاہر نے 2011ء کے عالمی کپ سے کیریئر کا آغاز کیا اور تبھی سے اپنی صلاحیت ثابت کر دی تھی۔ کیریئر کے آغاز سے ان تک ان کا باؤلنگ ایوریج 27 سے نیچے نہيں گیا بلکہ پہلے سال 10.71 رہا اور 2013ء میں 24.67 تک پہنچا۔ گزشتہ سال یعنی 2017ء میں عمران طاہر نے 17 ون ڈے میچز کھیلے جن میں 24.89 کی ایوریج سے 27 وکٹیں حاصل کیں، وہ بھی 4.62 کے بہترین اکانومی ریٹ کے ساتھ۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ جنوبی افریقہ نے نئے سال کے آغاز سے اب تک ایک بھی ون ڈے میچ نہیں کھیلا مگر پھر بھی بیٹھے بیٹھائے عمران طاہر نمبر ون بن گئے، وہ کیسے؟ تو جناب! عمران طاہر کے پوائنٹس تو اپنی جگہ برقرار ہیں مگر نمبر ون پوزیشن پر موجود حسن علی نے دورۂ نیوزی لینڈ پر اتنی مایوس کن کارکردگی پیش کی ہے کہ ان کے پوائنٹس گر کر 711 تک آ گئے ۔ یہی وجہ ہے کہ عمران طاہر کا نمبر ون پر قبضہ قائم ہو گیا۔

حسن علی کے لیے 2017 تو بہت خوش قسمت ثابت ہوا تھا کہ اسی سال اسے آئی سی سی کی جانب سے ایمرجنگ پلیئر آف دی ائیر کا ایوارڈ بھی مل گیا مگر لگتا ہے نئے سال کا سورج ویسی خوشیاں لے کر نہیں آیا اور پہلا ہی دورہ مایوس کن ثابت ہوا۔ جنوبی افریقہ کے خلاف پانچ میچوں کی سیریز کے 4 مقابلے کھیلنے کا موقع ملا، جہاں انہوں نے 36.17 کے بھاری ایوریج سے صرف 6 وکٹیں کمائیں۔

جنوبی افریقہ نے انڈیا کے خلاف حال ہی میں 3 ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا معرکہ 2-1 سے اپنےنام کر لیا ہے اور اب محدود اوورز کے مقابلے کھیل رہا ہے۔ عمران طاہر بہت پرامید ہیں کہ سفید گیند کے ساتھ ہوم گراؤنڈ اور موافق حالات کی بدولت وہ حریف کو شدید مشکل سے دوچار کریں گے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران طاہر کا بھارت کے خلاف ون ڈے اوسط بہت زیادہ ہے، 38 سے بھی زیادہ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس تاثر کو بدل کر بالخصوص درمیانے اوورز میں رنز روکنے کے چیلنج پر پورا اترتے ہیں یا نہیں۔