آسٹریلیا نے ناممکن کو ممکن بنا دیا

0 836

سہ فریقی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں آسٹریلیا نے نیوزی لینڈ کے خلاف ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ صرف 20 اوورز کے مقابلے میں آسٹریلیا نے 244 رنز کاہدف حاصل کیا، وہ بھی 19 ویں اوور میں ہی۔ یہ سب سے بڑے ہدف کا کامیاب تعاقب ہے۔

نیوزی لینڈ نے مارٹن گپٹل کی سنچری اور کولن منرو کے دھواں دار 76 رنز کی بدولت 243 رنز بنائے تھے۔ یعنی ہر اوور میں اوسطاً 12 سے زیادہ رنز بنائے۔ نیوزی لینڈ کا پلڑا بھاری تھا لیکن جناب! سامنے بھی آسٹریلیا تھا۔ پہلے تو کپتان ڈیوڈ وارنر اور ڈارکی شارٹ نے 121 رنز کی اوپننگ پارٹنرشپ دی اور پھر آخر میں آرون فنچ نے فیصلہ کن ضربیں لگائیں، یہاں تک کہ 19 ویں اوور کی پانچویں گیند پر آسٹریلیا ہدف تک پہنچ گیا۔ وارنر نے 24 گیندوں پر 59 رنز بنائے جبکہ شارٹ نے 44 گیندوں پر 76 رنز بنائے۔ دونوں کی پارٹنرشپ کی خاص بات تھی تیز رفتاری۔ انہوں نے صرف 8.3 اوورز میں 121 رنز بنائے اور آسٹریلیا کو ایسی بنیاد فراہم کی جس پر وہ کامیابی کی عمارت کھڑی کر سکتا تھا، وہ بھی باآسانی۔ میکس ویل کے 31 اور فنچ کے 36 ناٹ آؤٹ رنز نے بالآخر ہدف کو جا لیا۔

649 میچز پر مشتمل ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کی تاریخ میں بہت کم مواقع ایسے آئے ہیں کہ کسی ٹیم نے 200 سے زیادہ کا ہدف حاصل کرلیا ہو۔ آسٹریلیا کی اس کامیابی سے پہلے یہ اعزاز ویسٹ انڈیز کو حاصل تھا جس نے جنوری 2015ء میں جوہانسبرگ میں میزبان جنوبی افریقہ کے خلاف 232 رنز کے ہدف کا کامیابی سے تعاقب کیا تھا۔ یہی جنوبی افریقہ تھا جو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2016ء میں انگلینڈ کے خلاف 230 رنز کے ہدف کا دفاع نہیں کر سکا تھا۔ آسٹریلیا، ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ سے پہلے سب بڑا حاصل کردہ ہدف 211 رنز کا تھا جو بھارت نے 2009ء میں سری لنکا کے خلاف حاصل کیا تھا۔

پاکستان نے ہدف کے کامیاب تعاقب میں سب سے زیادہ 178 رنز بنائے ہیں جبکہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2010ء کے سیمی فائنل میں آسٹریلیا کے خلاف 192 رنز کا دفاع کرنے میں ناکام بھی رہ چکا ہے۔

ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں کامیابی سے حاصل کردہ اہداف

فاتح اسکور اوورز بمقابلہ بمقام بتاریخ
آسٹریلیا 245/5 18.5 نیوزی لینڈ آکلینڈ 16 فروری 2018ء
ویسٹ انڈیز 236/6 19.2 جنوبی افریقہ جوہانسبرگ 11 جنوری 2015ء
انگلینڈ 230/8 19.4 جنوبی افریقہ ممبئی 18 مارچ 2016ء
بھارت 211/4 19.1 سری لنکا موہالی 12 دسمبر 2009ء
جنوبی افریقہ 208/2 17.4 ویسٹ انڈیز جوہانسبرگ 11 ستمبر 2007ء
آسٹریلیا 205/5 20.0 جنوبی افریقہ جوہانسبرگ 6 مارچ 2016ء
نیوزی لینڈ 202/5 19.4 زمبابوے ہیملٹن 14 فروری 2012ء
بھارت 202/4 19.4 آسٹریلیا راجکوٹ 10 اکتوبر 2013ء
جنوبی افریقہ 200/3 19.4 بھارت دھرم شالا 2 اکتوبر 2015ء
بھارت 200/3 20.0 آسٹریلیا سڈنی 31 جنوری 2016ء