کوہلی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں کی فہرست میں

0 613

بھارت کے کپتان ویراٹ کوہلی کو 'رنز مشین' کہنا غلط نہیں، بالخصوص آج کل ان کا بلّا جس طرح رنز اگل رہا ہے ایسا تاریخ میں ہی بہت کم دیکھنے کو ملا ہے۔ ایک روزہ کرکٹ میں ریکارڈ پر ریکارڈ توڑنے کے بعد اب کوہلی ایک اور بلند مقام پر پہنچ چکے ہیں۔ وہ گزشتہ 27 سالوں میں ایک روزہ درجہ بندی میں بلند ترین مقام حاصل کرنے والے بلے باز بن گئے ہیں اور ساتھ ہی انڈین کرکٹ تاریخ کے پہلے بیٹسمین بھی ہیں جو آئی سی سی کی درجہ بندی میں 900 سے زائد پوائنٹس تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔ بات یہی نہیں رکتی بلکہ تاریخ میں بیک وقت ایک روزہ اور ٹیسٹ دونوں میں 900 سے زائد پوائنٹس حاصل کرنے والے دوسرے کھلاڑی بھی بن گئے ہیں۔

ایک روزہ کی تازہ ترین درجہ بندی میں کوہلی نے اپنی سرفہرست پوزیشن کو مزید مستحکم کیا ہے اور اب 909 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود اے بی ڈی ولیئرز سے 65 پوائنٹس آگے ہیں۔ اگر کرکٹ کی تاریخ دیکھیں تو کوہلی کے سے زیادہ پوائنٹس صرف 6 کھلاڑیوں نے حاصل کیے ہیں جن میں سر ویوین رچرڈز، ظہیرعباس، گریگ چیپل، ڈیوڈ گاور، ڈین جونز اور جاوید میانداد شامل ہیں۔

ٹیسٹ میں دیکھیں تو کوہلی سے آگے اب صرف آسٹریلین کپتان اسٹیون اسمتھ بچے ہیں۔ دونوں کے مابین 35 پوائنٹس کا فرق ہے۔ اسمتھ نے انگلینڈ کے خلاف ایشیز سیریز کے چوتھے میچ میں 76 اور 102 کی اننگ کھیل کر ہاری ہوئی بازی کو بچا لیا تھا۔ جس کے بعد تازہ درجہ بندی میں وہ 947 پوائنٹس تک پہنچ گئے ہیں یعنی سر ڈان بریڈمین کے ریکارڈ سے صرف 14 پوائنٹس پیچھے ہیں، جو 1948ء یعنی 70 سال سے اب تک عالمی ریکارڈ ہے۔

ویراٹ کوہلی ان بڑے 5 کھلاڑیوں میں بھی شامل ہیں جو ایک روزہ اور ٹیسٹ دونوں میں 900 سے زائد پوائنس کما چکے ہیں۔ ان میں کوہلی کے علاوہ اے بی ڈی ولیئرز، ویون رچرڈز، برائن لارا اور ہاشم آملا شامل ہیں۔ مجموعی پوائنٹس کے لحاظ سے ڈی ولیئرز ان سب سے آگے ہیں۔

جنوبی افریقہ کے خلاف 6 ایک روزہ میچوں کی سیریز میں تو کوہلی الگ ہی رنگ میں نظر آئے۔ انہوں نے سیریز میں مجموعی طور پر 558 رنز بنائے جس میں 3 سنچریاں بھی شامل ہیں۔ پوری سیریز میں محض 3 مرتبہ حریف باؤلرز انہیں آؤٹ کر پائے، ورنہ وہ ناقابل شکست ہی رہے۔ ان چھ میچز میں کوہلی نے بالترتیب 112، 46، 160، 75، 36 اور 129 رنز کی اننگز کھیلی، دو سنچریوں سمیت ان کی تین اننگز ناٹ آؤٹ تھیں۔ ان کے ساتھ ہی کل سنچریوں کی تعداد 35 تک پہنچ چکی ہے۔ اب وہ عظیم سچن ٹنڈولکر کی 49 سنچریوں سے صرف 14 سنچریاں پیچھے ہیں۔ لگتا ہے بہت جلد یہ سنگ میل بھی عبور کر جائیں گے کیونکہ ابھی تو کوہلی کی عمر صرف 29سال ہے اور طویل کیریئر ابھی باقی ہے۔ بقول ان کے اپنے آٹھ سے نو سال اب بھی ہیں۔