پی ایس ایل اور آئی پی ایل کا مالی موازنہ

1 3,035

پاکستان اور بھارت میں کرکٹ جنون کی حد تک پسند کیا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ دونوں ملکوں کے مدّاح اپنی ٹی ٹوئنٹی لیگز کو بہت اہمیت دیتے ہیں، یہاں تک کہ دونوں لیگز کے موازنے سے بھی باز نہیں آتے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ انڈین پریمیئر لیگ کو شروع ہوئے ایک دہائی گزر چکی ہے جبکہ پاکستان سپر لیگ کا ابھی تیسرا ایڈیشن شروع ہوا ہے۔ اس لیے دونوں کے مابین مقبولیت میں تو بڑا فرق ہے ہی لیکن سب سے اہم ہے بھارتی اور پاکستانی کرکٹ بورڈ اور لیگز کی مالی حالت، جس میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

انڈین پریمیئر لیگ کی عالمی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ ہی پیسوں کی ریل پیل ہے۔ اس وقت دنیا میں سب سے امیر کرکٹ لیگ ہونے کا درجہ آئی پی ایل کو ہی حاصل ہے جو دنیا کے بڑے بڑے کھلاڑیوں کو مہنگے داموں پر خریدتی ہے جبکہ پاکستان سپر لیگ کو فی الحال کئی مسائل کا سامنا ہے جیسا کہ لیگ کا بیرون ملک انعقاد اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی کمزور مالی حالت وغیرہ۔ پھر بھی منتظمین کی بھرپور کوشش ہے کہ اسے آہستہ آہستہ وطن عزیز میں منتقل کیا جائے اور اس سال تو آخری تینوں مقابلے پاکستان میں منعقد ہوں گے۔

اگر ہم دونوں کرکٹ لیگز کو سامنے رکھیں اور مالیاتی پوزیشن کا موازنہ کریں تو بہت سے حقائق کا اندازہ ہو جائے گا۔ آئیے دیکھتے ہیں:

فرنچائز لاگت

2008ء میں شہروں کی بنیاد 8 پر ٹیموں کے حقوق حاصل کرنے کے لیے بھارتی کرکٹ بورڈ کو 72.25 ملین ڈالرز ادا کیے گئے تھے۔ حال ہی میں جب چنئی سپر کنگز اور راجستھان رائلز پر پابندی کی وجہ سے رائزنگ پونے سپر جائنٹس اور گجرات لائنز کے نام سامنے آئے تو صرف دو سالوں کے لیے انہیں بالترتیب 16 کروڑ اور 10 کروڑ امریکی ڈالرز ادا کرنا پڑے۔ اس کے مقابلے میں پاکستان سپر لیگ نے 2015ء میں ابتدائي پانچ ٹیموں کے حقوق 90.45 ملین ڈالرز میں فروخت کیے جبکہ حال ہی میں ملتان سلطانز کو 8 سال کے لیے 41.6 ملین ڈالرز میں فروخت کیا گیا ہے۔

نیلامی بجٹ

آئی پی ایل میں رواں سال نیلامی کے لیے ہر ٹیم نے 80، 80 کروڑ روپے کا بجٹ رکھا جبکہ پی ایس ایل نے ہر ٹیم کو 1.2 ملین ڈالرز یعنی 7.76 کروڑ بھارتی روپے کے بجٹ کی اجازت دی۔

ٹائٹل سپانسرشپ

چین کی اسمارٹ فون کمپنی ویوو نے 2016ء میں اگلے پانچ سالوں کے لیے آئی پی ایل کی ٹائٹل اسپانسر شپ 439.8 ملین ڈالرز (2199 کروڑ بھارتی روپے) میں حاصل کی، جبکہ پی ایس ایل نے تین سالوں کے لیے ٹائٹل اسپانسرشپ حبیب بنک لمیٹڈ کو 64.7 ملین ڈالرز میں فروخت کی۔

میڈیا حقوق

آئی پی ایل کے دس سال مکمل ہونے پر انڈین کرکٹ بورڈ نے اگلے پانچ سال کےلیے سب سے بڑی بولی کے ساتھ سٹار انڈیا کو میڈیا کے حقوق فروخت کیے۔ جس کی مد میں 16 ہزار 347 کروڑ بھارتی روپے (2.5 بلین ڈالرز) وصول کیے اور دوسری طرف پی ایس ایل نے مقامی و بیرون ملک نشریات کے لیے میڈیا حقوق 15 ملین ڈالرز میں فروخت کیے۔

انعامی رقم

آئی پی ایل 2018ء کے سیزن میں آٹھ ٹیموں میں 9 ملین ڈالر کے انعامات تقسیم کرے گی جس میں سے 4 ملین ڈالرز کی خطیر رقم چیمپئن کے لیے ہوگی۔ دوسری جانب پی ایس ایل نے تیسرے ایڈیشن میں چیمپئن دستے کے لیے 1 ملین ڈالر کی انعامی رقم رکھی ہے جبکہ مجموعی طور پر 3.5 ملین ڈالرز کی پرائز منی ہے

سب سے مہنگا کھلاڑی

رائل چیلنجرز بنگلور نے کپتان ویراٹ کوہلی کو ٹیم میں برقرار رکھنے کے لیے 17 کروڑ بھارتی روپے (2.63 ملین ڈالرز) ادا کیے اس طرح وہ 2018ء کے سیزن کے سب سے مہنگے کھلاڑی بن گئے جبکہ نیلامی میں راجستھان رائلز نے انگلینڈ کے آل راؤنڈ بین اسٹوکس کو 12.5 کروڑ بھارتی روپے کی مہنگی بولی میں خریدا۔ادھر پی ایس ایل تھری کے لیے لاہور قلندرز نے نیوزی لینڈ کے سابق کپتان برینڈن میک کولم کے ساتھ 0.558 ملین ڈالر کا معاہدہ کیا۔

منافع

آئی پی ایل کے 11ویں سیزن سے قبل بی سی سی آئی نے اعلان کیا ہے کہ ان کے پاس بینک میں 31.2 ملین ڈالرز یعنی تقریباً 2017 کروڑ بھارتی روپے موجود ہیں جبکہ پی ایس ایل کے دوسرے ایڈیشن کے بعد پی سی بی نے بتایا تھا کہ ان کے پاس 1 ملین ڈالرز کی اضافی رقم موجود ہے۔

اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ مالی لحاظ سے تو پاکستان اور بھارت کی لیگز کا کوئی موازنہ بنتا ہی نہیں بلکہ دیگر کئی پہلو بھی ہیں جن میں آئی پی ایل کہیں آگے ہے۔ لیکن کیونکہ پاکستانی کھلاڑی بھارتی لیگ میں نہیں کھیلتے، اس لیے پاکستان کے لیے پی ایس ایل سب سے عظیم لیگ ہے۔