قلندرز بے حال سے بدحال، کوئٹہ سے بھی ہار گئے

0 1,406

پاکستان سپر لیگ کا پانچواں مقابلہ دو شکست خوردہ ٹیموں کے درمیان تھا، ایک طرف کوئٹہ گلیڈی ایٹرز تھے تو دوسری جانب لاہورقلندرز۔ دونوں اپنےپہلے مقابلے میں ہارنے کے بعد ایک جیت کےلیے بے تاب تھے۔ لاہور نے پہلے بیٹنگ کی تو ہمیں یہ بے تابی بہت شدت سے نظربھی آ رہی تھی۔ چوتھے اوور میں ہی اوپنرز اسکور 46 رنز تک لے آئے تھے لیکن شاید ٹانگوں میں اتنی جان نہ تھی جتنی تیزی سے دوڑا جا رہا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ منہ کے بل گرے۔ پہلے تھے صرف پانچ اوورز میں دو وکٹوں پر لگ بھگ 60 رنز اور آخر میں 20 اوورز میں کل بنا سکا صرف 119 رنز۔ یوں نہ صرف شکست کھائی بلکہ کوئٹہ پوائنٹس ٹیبل پر کھاتہ کھلنے کا سبب بھی بنا۔

لاہور نے کوئٹہ کی دعوت پر پہلےبلے بازی کی تو ان کے ارادے صاف ظاہر تھے۔ کپتان برینڈن میک کولم اور ان کے ساتھ سنیل نرائن اوپنر آئے، یعنی شروع سے ہی غلبہ پانے کی منصوبہ بندی تھی۔ تیسرے اوور میں جب نرائن نے شین واٹسن کو مسلسل دو چھکے اور تین چوکے لگائے تولگتا تھا لاہور نے اپنا خول توڑ دیا ہے۔ لیکن ایک اوور میں 24 رنز بنانے کی خوشی زیادہ دیر برقرار نہ رہی کیونکہ اگلے ہی اوور میں راحت علی نے نرائن کو آؤٹ کردیا۔ انور علی نے ان کا ایک بہترین کیچ لیا۔ لیکن میک کولم کہاں دم لیتے ہیں؟ اگلے اوور میں جوفرا آرچر کو چوکا اور چھکا رسید کیا لیکن نقصان یہاں بھی ہوا کہ دوسرے اینڈ سے فخر زمان کی بڑی وکٹ گرگئی۔ پھر محمد نواز نے اپنی دوسری ہی گیند پر برینڈن میک کولم کو بھی ایل بی ڈبلیو کردیا۔ کوئٹہ کو یہ قیمتی وکٹ سرفراز احمد کے ریویو لینے کے نتیجے میں ملی۔ اب کیمرون ڈیلپورٹ کی صورت میں ایک امید موجود تھی۔انہوں نے نوجوان حسان خان کو مسلسل دو چھکے لگا کر رن ریٹ برقرار رکھا۔ لاہور صرف 7 اوورز میں 77 رنز پر کھڑا تھا۔ یہاں وکٹیں روکنا ضروری تھا، جس پر کسی کا دھیان نہ تھا۔ محمد نواز نے ڈیلپورٹ کو آؤٹ کیا جن کا آسمان کو چھوتا ہوا ایک شاٹ لانگ آن پرانورعلی کے ایک اور عمدہ کیچ میں بدلا۔ پھر حسان خان نے عمراکمل کو ایل بی ڈبلیو کرکے لاہورکی بیٹنگ لائن کا خاتمہ کردیا۔صرف ایک رن بنانے والے عمر اکمل کو ریویو بھی نہیں بچا سکا۔ یوں نویں اوور میں لاہور کا اسکور تو 83 رنز تھا لیکن وکٹیں پانچ گرچکی تھیں۔ باقی بلے باز ساڑھے 11 اوورز میں گرتے پڑتے بمشکل 36 رنزبنا سکے، جن میں سہیل اختر کے ناٹ آؤٹ 20 رنز شامل تھے۔ دوسرا کوئی کوئی دہرے ہندسے میں بھی نہ پہنچا۔

کوئٹہ کے لیے صرف 120 رنز کا تعاقب آسان تو تھا ہی، 92 رنزکی اوپننگ پارٹنرشپ نے اسےاوربھی آسان بنا دیا۔ شین واٹسن نے صرف42 گیندوں پر 66 رنز کی طوفانی اننگز کھیلی۔ اس میں پانچ چھکے اور اتنےہی چوکے بھی شامل تھے۔ واحد وکٹ بھی انہی کی گری۔ اسد شفیق 38 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے جس میں تین شاندار چھکے بھی شامل تھے۔ کوئٹہ نے 14 اوورز میں ہی ہدف حاصل کرلیا۔ لاہور کی باؤلنگ بجھی بجھی نظرآئی، رہی سہی کسر دو کیچز چھوڑنے سے پوری ہو گئی، یعنی سوائے ابتدائی چند اوورز کے لاہور کے لیے پورا دن ہی برا رہا۔

اب قلندروں کے پاس آرام کا ایک دن ہے، ٹھنڈے دماغ سے سوچیں، حکمت عملی تبدیل کریں اور پیر کو ایک بہت بڑے مقابلے کے لیے تیار ہو جائیں۔ جی ہاں! لاہور کا اگلا مقابلہ روایتی حریف کراچی کنگز سےہے۔ اگر یہاں بھی شکست کھائی تو رہے سہے حوصلے بھی تمام ہو جائیں گے۔