کوئٹہ نے اسلام آباد سے پرانا بدلہ لے لیا

0 402

پاکستان سپر لیگ دبئی سے اب شارجہ پہنچ گئی ہے جہاں پہلا مقابلہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے نام رہا، جس نے کہیں مضبوط اسلام آباد یونائیٹڈ کو باآسانی 6 وکٹوں سے شکست دی اور یوں مسلسل دوسری کامیابی حاصل کرکے پوائنٹس ٹیبل پر نمایاں مقام حاصل کرلیا ہے۔ اسلام آباد اپنے کپتان مصباح الحق کی واپسی اور جے پی دومنی کی شمولیت کے باوجود بجھا بجھا نظر آیا جبکہ کوئٹہ کے گیند بازوں کی مہارت اور کیون پیٹرسن کی بلے بازی نے مقابلے کو تقریباً یکطرفہ بنا دیا۔ یہ پچھلے سال اسلام آباد کے ہاتھوں کوئٹہ کی مایوس کن شکست کا بدلہ تھا، جب گلیڈی ایٹرز دو اوورز میں 7 رنز نہیں بنا پائے تھے اور ایک رن سے شکست کھا گئے تھے۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کو بلے بازی کی دعوت دیتے ہوئے سرفراز احمد نے کہا تھا کہ انہیں اپنی مضبوط بیٹنگ لائن پر بھروسہ ہے ۔ وہ الگ بات کہ اس کے مظاہرے سے قبل ہی باؤلنگ نے اپنا جادو دکھا دیا۔اسلام آباد کے اوپنر لیوک رونکی اور چیڈوِک والٹن صرف تیسرے اوور تک ہی سنبھل پائے جب انور علی نے والٹن کو ایل بی ڈبلیو کیا۔ محمد آصف بھی صرف 6 رنز کا اضافہ کرکے میدان سے واپس آ گئے۔ یہاں لیوک رونکی اور جے پی دومنی نے 42 رنز کا اضافہ کرکے گرتے مورال کو کچھ سہارا دیا لیکن یہ اطمینان بھی دیرپا ثابت نہ ہوا۔ رونکی 43 رنز کی عمدہ اننگز کھیلنے کے بعد نوجوان حسان خان کا شکار بن گئے۔ انہوں نے صرف 26 گیندوں پر ایک چھکے اور 7 چوکوں کی مدد سے یہ اننگز تراشی اور یہی اسلام آباد کی جانب سے کھیلی گئی واحد قابل ذکر باری تھی۔ اس اننگز کے دوران رونکی نے جان ہیسٹنگز کو ایک ہی اوور میں چار چوکے اور ایک چھکا بھی رسیدکیا تھا۔ بہرحال، دومنی نے بڑی امیدیں وابستہ تھیں لیکن ان کے حد درجہ محتاط انداز نے اسلام آباد کو شدید دباؤ میں ڈال دیا۔ 26 گیندوں پر صرف 14 رنز کی اننگز جان ہیسٹنگز کے ہاتھوں تمام ہوئی۔ مصباح الحق آخری امید کی صورت میں میدان میں موجود تھے اور انہوں نے چند خوبصورت شاٹس کھیلے بھی لیکن 22 رنز سے آگے نہیں بڑھ پائے۔ فہیم اشرف نے ایک مرتبہ پھر13 گیندوں پر 21 رنز بنا کر اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔ 20 اوورز ختم ہوئے تو اسلام آباد 7 وکٹوں پر صرف 134 رنز ہی بنا پایا۔ کوئٹہ کے آزمائے گئے چھ میں سے پانچ باؤلرز نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

قدرے آسان ہدف کے تعاقب میں اسد شفیق اور شین واٹسن نے اننگز کا آغاز کیا۔ تیسرے اوور میں واٹسن کو نئی زندگی ملی جب وہ کیچ آؤٹ ہوئے لیکن رمّان رئیس کی گیند نو-بال کہلائی۔ دلچسپ بات یہ کہ اگلی گیند پر والٹن نے ان کا ایک ناقابلِ یقین کیچ لیا، وہ الگ بات کہ فری ہٹ کی وجہ سے یہ کسی کام کا نہ تھا۔ ان مواقع کے باوجود واٹسن کی اننگز 13 رنز پر تمام ہوئی جب اسٹیون فن کو ایک چھکا اور ایک چوکا لگانے کے بعد تیسری گیند پر وہ مڈ آن پر کیچ دے گئے۔عمر امین نے جلد آؤٹ ہونے کی روایت برقرار رکھی جبکہ اسد شفیق نے بھی 22 رنز پر گھٹنے ٹیک دیے۔ دونوں بالترتیب محمد سمیع اور اسٹیون فن کے ہاتھوں کلین بولڈ ہوئے۔ یوں نصف سنچری تک پہنچنے سے پہلے ہی کوئٹہ کے تین اہم بلے باز آؤٹ ہو چکے تھے۔ پھر بھی کوئٹہ کے لیے پریشانی کی بات نہیں تھی کیونکہ کیون پیٹرسن کریز پر موجود تھے۔ ایک کنارے سے وہ چوکوں اور چھکوں کے ذریعے گیند بازوں کی درگت بنا رہے تھے تو دوسری جانب محمد نواز بھی کھل کر بلے بازی کے جوہر دکھاتے رہے۔ دونوں نے 70 رنز کا اضافہ کرکے جیت کو یقینی بنا دیا۔ کیون پیٹرسن تین چھکوں اور چار چوکوں کی مدد سے ایک عمدہ اننگز کھیل رہے تھے کہ نصف سنچری سے صرف دو رنز پہلے آؤٹ ہوگئے۔ وکٹ گرنے سے ایک گیند پہلے ہی انہوں نے اسٹیون فن کو ایسا چھکا لگایا تھا جو اسٹیڈیم کی چھت پر جا گرا تھا۔ سرفرازاحمد نے نواز کے ساتھ مل کر ہدف 18 ویں اوور کی پہلی گیند پر ہی حاصل کرلیا۔ نواز 25 رنز پر ناقابل شکست رہے۔

اس کامیابی کے ساتھ ہی کوئٹہ پوائنٹس ٹیبل پر دوسرے نمبر پر آ گیا ہے جس کے آگے صرف کراچی کنگز ہے۔ اب کوئٹہ کا مقابلہ جمعرات کو ہی پشاور زلمی کے ساتھ ہوگا۔ یہ دونوں ٹیموں کے لیے بہت اہم میچ ہے، بالخصوص دفاعی چیمپیئن پشاور کے لیے جو اب تک تین میں سے صرف ایک مقابلے میں کامیابی حاصل کر پایا ہے۔