چینی کھلاڑی پشاور زلمی کے ساتھ

0 529

پاکستان کرکٹ بورڈ دنیائے کرکٹ میں قدم رکھنے والے ممالک کی مدد کرنے کی طویل تاریخ رکھتا ہے۔ بنگلہ دیش سے لے کر افغانستان اور آئرلینڈ تک، ہر نئے ملک نے پاکستان کا تعاون حاصل کیا ہے۔ اب بورڈ پاکستان سپر لیگ کے پلیٹ فارم کو بھی اس معاونت کے لیے استعمال کر رہا ہے تاکہ نئے ملکوں کے کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں ابھارنے اور عالمی سطح پر شناخت بنانے کا موقع مل سکے۔ اس سلسلے کی ایک کڑی ہے چین سے آنے والے دو کھلاڑیوں کی پشاور زلمی کے تربیتی کیمپ میں شرکت کے لیے متحدہ عرب امارات پہنچے ہیں۔

جیان لی اور یوفی چینگ چین کے دو ابھرتے ہوئے کرکٹر ہیں، جن کے ساتھ پشاور زلمی نے پچھلے سال معاہدہ کیا تھا اور اب انہوں نے پی ایس ایل کے دوران تربیتی کیمپ جوائن کیا ہے اور آج وہ پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے درمیان مقابلہ بھی دیکھیں گے۔

پشاور زلمی کے نمائندہ برائے چین عامرسہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ زلمی کے اس اقدام سے چینی کھلاڑیوں کو بین الااقوامی شناخت ملے گی۔ ان کی پشاورزلمی کے کیمپ میں شمولیت کا سبب بھی یہی ہے کہ ہم انہیں اپنی صلاحیتوں کو ابھارنے اور عالمی سطح پر شناخت کے حصول کے لیے پلیٹ فارم فراہم کریں۔اس سلسلے میں پاکستان ایک سرپرست کا کردار ادا کر رہا ہے تاکہ مزید ممالک میں بھی کرکٹ کے کھیل کو فروغ دیا جا سکے۔

چین نے 2004 ء میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) میں رکنیت حاصل کر لی تھی لیکن انہیں پہلی مرتبہ ایشیا کونسل کرکٹ چیلنج ٹرافی کے لیے کھیلنے سے قبل 5 سال سے زیادہ انتظار کرنا پڑا۔

چین کھیلوں کی دنیا میں بالخصوص ایتھلیٹکس میں بہت آگے ہے اور اس کے مظاہر ہر اولمپکس میں میڈل پوزیشن کے طور پر سامنے آ جاتے ہیں تاہم وہ خطے کے مقبول ترین کھیل کرکٹ میں بہت پیچھے ہے۔اس کی وجہ سادہ سی ہے کہ چین برطانیہ کے قبضے میں نہیں رہا لیکن آجکل چین میں کرکٹ کے مداح بہت زیادہ ہیں جو امید رکھتے ہیں کہ ان دو کھلاڑیوں کی پشاور زلمی جیسی ٹی سے وابستگی سے کرکٹ کے دروازے ان پر بھی کھل جائیں گے۔