پی ایس ایل4 مکمل طور پر پاکستان میں ہوگا، وقار یونس پر اُمید

0 589

پاکستان کے سابق کپتان اور کوچ وقار یونس نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان سپر لیگ کا اگلا سیزن وہیں ہوگا، جہاں اسے ہونا چاہیے یعنی اپنے وطن پاکستان میں۔

اس وقت پی ایس ایل کا تیسرا سیزن متحدہ عرب امارات میں جاری ہے جس کا اختتام آخری دو کوالیفائرز اور فائنل کے پاکستان میں انعقاد سے ہوگا۔ وقار یونس سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں ماضی کے مقابلے میں حالات بہت بہتر ہوگئے ہیں اور یہی وقت ہے کہ ملک میں کرکٹ کو مکمل طور پر بحال ہونا چاہیے۔

پاکستان 2009ء میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد 8 سال تک بین الاقوامی کرکٹ سے محروم رہا ۔ اس دوران صرف زمبابوے نے 2015ء میں چند میچز کھیلنے کے لیے پاکستان کا دورہ کیا۔ بالآخر 2017ء میں پاکستان سپر لیگ کے دوسرے سیزن کے فائنل نے ہی جمود کو توڑا۔ جس کے بعد ورلڈ الیون نے پاکستان کا دورہ کیا اور پھر سری لنکا نے بھی پاکستان کے خلاف سیریز کا آخری ٹی ٹوئنٹی لاہور میں کھیلا، یعنی اسی شہر میں جہاں ان کی ٹیم پر 8 سال پہلے حملہ ہوا تھا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے نجم سیٹھی کی قیادت میں ملک میں کرکٹ کی واپسی کے لیے کافی کام کیا ہے۔ بلکہ اس مرتبہ تو بورڈ نے پی ایس ایل فائنل کراچی میں کروانے کا فیصلہ کیا ہے جو 9 سال بعد پہلی بار کسی قابل ذکر مقابلے کی میزبانی کرے گا ۔ یہی نہیں بلکہ اگلے مہینے ویسٹ انڈيز نے بھی پاکستان میں تین ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلنے پر رضامندی ظاہر کی ہے جو بہت بڑی پیشرفت ہے۔ یہ پہلا موقع ہوگا کہ کوئی قابل ذکر ٹیم پاکستان میں مکمل سیریز کھیلے گی ۔

46 سالہ وقار یونس پاکستان سپر لیگ میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے گرو ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بہت دلچسپ تجربہ ہے اور پی ایس ایل ہر گزرتے سال کے ساتھ بہتر ہو رہا ہے ۔ پھر یہاں نوجوان کھلاڑیوں پر کام کرنا بھی بڑا اہم فریضہ ہے۔ یہ آسان بھی ہے کیونکہ یہ سب پروفیشنل کھلاڑی ہیں۔ یہاں انہیں اچھی آمدنی بھی مل رہی ہے۔ ہمارا کام بس اتنا ہے کہ انہیں بہتر سے بہترین بنانا ہے۔

وقار یونس نے وسیم اکرم کے بعد اسلام آباد یونائیٹڈ کی باگ ڈور سنبھالی ہے لیکن اس وقت ان کی ٹیم پوائنٹس ٹیبل پر چوتھے نمبر پر ہے جو بہتر کارکردگی تو نہیں لیکن گزشتہ چند مقابلوں سے اسلام آباد نمایاں کھیل پیش کر رہا ہے۔ دیکھتے ہیں وقار یونس انہیں کہاں تک پہنچاتے ہیں؟