وسیم اکرم پی ایس ایل3 میں تین باؤلرز سے متاثر

0 701

دنیائے کرکٹ کے عظیم گیندباز اور پاکستان کے سابق کپتان وسیم اکرم نے کہا ہے کہ پاکستان سپرلیگ نوجوان مقامی کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیت ثابت کرنے کے لیے ایک نیا پلیٹ فارم بن کر سامنے آیا ہے۔ پی ایس ایل نے نہ صرف توقعات سے زیادہ کامیابیاں سمیٹی ہیں اور اپنی الگ پہچان بنائی ہے بلکہ نئے اور نوجوان کھلاڑیوں کو بھی مواقع اور پہچان عطا کی ہے جو قومی کرکٹ کے مستقبل کے امکانات کو مزید روشن کرتا ہے۔ پاکستان سپر لیگ کا تیسرا سیزن 22 فروری کو متحدہ عرب امارات سے شروع ہوا اور اب اتوار 25 مارچ کو کراچی میں فائنل کے ساتھ اختتام پذیر ہوگا۔

51سالہ وسیم اکرم آغاز سے ہی پی ایس ایل کا حصہ ہیں۔ پہلے دو سیزنز وہ اسلام آباد یونائیٹڈ کے ساتھ منسلک رہے البتہ اب فرنچائز ملتان سلطانز کے لیے بطور ٹیم ڈائریکٹر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں وسیم اکرم نے حالیہ سیزن میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے تین کھلاڑیوں کا انتخاب کیا البتہ بلےبازی کے شعبے میں نئے ٹیلنٹ کے حوالے سے خاصی مایوسی کا اظہار بھی کیا۔ اسلام آباد یونائیٹڈ کے حسین طلعت کے سوا کوئی بھی نیا بلےباز متاثر کن کارکردگی پیش نہ کر سکا۔ بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے حسین نے 11 میچز میں 38.80 کے اوسط سے 194 رنز بنا رکھے ہیں اور اس سال کی بلے بازی میں واحد معیاری دریافت انہی کو کہا جاسکتا ہے۔

البتہ گیندبازی کے شعبہ میں وسیم اکرم نے پہلے محمد سمیع اور راحت علی کا ذکر کیا کہ ان دونوں نے بہترین اور متاثر کن گیندبازی کی۔ دونوں کے متعلق مزید کہا کہ "راحت علی محنتی اور الگ نوعیت کا باؤلر ہے تاہم سمیع بہت تجربہ کارہے، مجھے نہیں پتہ وہ آج کل ناشتے میں کیا کھا رہا رہا ہے کیونکہ اس بار اس میں ایک نوجوان گیندباز کا روپ نظر آرہا ہے۔"

37 سالہ محمد سمیع نے اسلام آباد یونائیٹڈ کی نمائندگی کرتے ہوئے 10 میچز کھیلے ہیں اور 21.66 کی اوسط سے 12 وکٹیں حاصل کی ۔ 21 رنز پر 3 وکٹیں بہترین گیندبازی رہی جبکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی نمائندگی کرنے والے راحت علی نے 10 میچز میں 27.81 کی اوسط سے 11 شکار کیے۔ موجودہ سیزن میں ایک میچ میں 29 رنز پر 2 وکٹیں بہترین گیندبازی ہے۔

وسیم اکرم نے ابھرتے گیندباز شاہین آفریدی کا بھی خصوصی ذکر کیا اور ان کی کارکردگی کو خوب سراہا۔ 17 سالہ شاہین ابھی انڈر 19 عالمی کپ میں نمایاں ہوئے تھے۔ پی ایس ایل 3 میں وہ لاہور قلندرز کا حصہ رہے اور سیزن میں 7 میچز میں 7 وکٹیں حاصل کیں۔ ملتان سلطانز کے خلاف شاہین کے خطرناک اسپیل سے وسیم اکرم بہت متاثر ہوئے۔ اب تو شاہین آفریدی عالمی شہرت حاصل کر رہے ہیں اور اطلاعات ہیں کہ آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ کی چند ٹیمیں اگلے سیزن کے لیے انہیں حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔