وطن واپسی، اسٹیون اسمتھ جذبات پر قابو نہ رکھ سکے

0 561

کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میں گیند کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے معاملے میں آسٹریلیا کے کپتان اسٹیون اسمتھ ایک سال کی پابندی کے بعد وطن واپس پہنچ گئے ہیں جہاں میڈیا سے گفتگو کے دوران اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔ گفتگو کے دوران ہر لفظ سے پشیمانی اور ذہنی اذیت نمایاں تھی۔ یاد رہے کہ بال ٹیمپرنگ کا اقرار کرنے پر اسمتھ کو ایک سال کی پابندی کے علاوہ 2 سال کے لیے قومی دستے کی قیادت سے بھی نااہل قرار دیا گیا ہے۔

سڈنی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نے پریس کانفرنس کے دوران اسمتھ نے صحافیوں کے سوالات کے جوابات بھی دیے۔ اس موقع پر ان کے والد پیٹر نہ ہوتے تو شاید وہ کانفرنس مکمل نہ کر پاتے جو بار بار اپنے بیٹے کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ان کی ہمت بندھاتے۔ اس موقع پر سابق کپتان نے کہا کہ میں کپتان کی حیثیت میں ذمہ داری قبول کرتا ہوں کہ میں نے ایسا بھیانک قدم اٹھا کر سنگین غلطی کی ہے۔ یہ میری قیادت کی ناکامی ہے اور میں اس کے ازالے کے لیے وہ سب کروں گا جس کا تقاضا کیا جائے گا۔ مجھے پتا ہے میں باقی ساری زندگی افسوس اور شرمندگی میں گزاروں گا۔

اسٹیو اسمتھ نے مزید کہا کہ میں چند باتیں کہنا چاہتا ہوں، پہلی یہ کہ میں دل کی گہرائیوں سے معافی مانگتا ہوں، مجھے کرکٹ سے پیار ہے اور مجھے بچوں کی طرح تفریح کرنا پسند ہے اور مجھے ان بچوں سے بھی محبت ہے جو اچھا کرکٹر بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ آپ جب بھی کوئی متنازع فیصلہ کرنے جا رہے ہوں توسب سے پہلے اپنے والدین کے متعلق سوچیں،کیونکہ سب سے پہلے اثرات انہی پر پڑیں گے۔ اس کے بعد آپ کا ملک اور عوام ہیں، مجھے آسٹریلین عوام کا دل دکھانے پر سخت شرمندگی ہے۔ مجھے یقین ہے سب مجھے معاف کر دیں گے اور ان سب کے دلوں میں میری کھوئی ہوئی عزت دوبارہ ضرور بحال ہو گی۔کرکٹ دنیا میں سب سے عظیم کھیل ہے، یہ میری زندگی ہے اور مجھے امید ہے کہ میں دوبارہ ضرور کھیل پاؤں گا۔

جنوبی افریقہ میں کھیلے گئے تیسرے ٹیسٹ کے تیسرے دن گیند کو خراب کرنے کا واقعہ رونما ہوا، جسے کیمرے کی آنکھ نے پکڑ بھی لیا۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ کپتان اسمتھ اس منصوبے سے مکمل آگاہ تھے۔ انکشاف یہ ہوا کہ ڈیوڈ وارنر اس واقعے کے منصوبہ ساز تھے اور میدان میں عملی جامہ پہنانے کی ذمہ داری کیمرون بین کرافٹ کے کاندھوں پر ڈالی گئی۔ تاہم اسمتھ نے کہا کہ میں الزام کسی اور کے سر نہیں ڈالتا، صرف خود کو قصوروار سمجھتا ہوں کیونکہ میں کپتان تھا اور ذمہ داری بھی میری ہی بنتی ہے۔