انتخاب کا معیار صرف PSL کیوں؟ عامر سہیل کا سوال

0 788

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عامر سہیل نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور مینجمنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے قومی سلیکشن کمیٹی کردار پر اہم سوال اٹھائے ہیں۔ سابق کپتان کو ایسا لگتا ہے کہ جیسے سلیکشن کمیٹی کا کوئی وجود ہی نہیں ہے کیونکہ اب ٹیم کے چناؤ کا طریقہ کار بہت غیر واضح ہو چکا ہے۔

اپنے حالیہ انٹرویو میں عامر سہیل کا کہنا تھا کہ اگر پی سی بی نے کھلاڑیوں کے انتخاب کے لئے وضع کردہ طریقوں پر سختی سے عمل درآمد نہ کروایا تو پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) آگے چل کر قومی کرکٹ کے لئے شدید خطرہ ثابت ہوگی کیونکہ اب یہی دیکھنے کو مل رہا ہے کہ پی ایس ایل میں اچھی کارکردگی ہی انتخاب کا واحد معیار بن چکا ہے، حتی کہ صرف ایک شاندار کارکردگی ہی قومی دستے میں شمولیت کے لیے کافی بن چکی ہے جو کہ یقینا سمجھ سے بالا اور افسوسناک ہے۔

سابق کپتان نے اپنے نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا اعتراض پی ایس ایل پر نہیں ہے بلکہ یہ تو مقامی کرکٹ نظام کے لئے فائدہ مند ہے اور اس سے مجموعی طور پر بہت بہتری آئی گی تاہم اسے قومی ٹیم کے انتخاب کا واحد ذریعہ ہرگز نہیں بنانا چاہیے۔

سچی بات یہ ہے کہ حکام کا ایسا رویہ پی ایس ایل کے ساتھ ساتھ نئے کھلاڑیوں کے لئے بھی شدید نقصان دہ ہے کیونکہ ہم نوجوانوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ چند اچھے چوکے چھکے مارو اور قومی ٹیم میں جگہ پکی کر لو۔ ہم پہلے ہی اچھے بلے بازوں کے حوالے سے کمی کا شکار ہیں اور ایسی سوچ سے اس میدان میں مزید نقصان ہو گا۔

عامر سہیل نے سخت حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی ایس ایل کے لئے خام مال مہیا کرنے والی مقامی کرکٹ ایسوسی ایشنز کے نمائندوں کو پی ایس ایل کے لئے مدعو تک نہیں کیا جاتا ہے جوکہ ناقابل یقین ہے، اگر حکام اپنی کرکٹ میں بہتری چاہتے ہیں تو انہیں ایسا چلن بدلنا ہو گا۔