پانچ آئی پی ایل 'لیجنڈز' جن سے کبھی سنچری نہیں بنی

0 903

ٹی ٹوئنٹی ہمیشہ سے بلے بازوں کا کھیل رہا ہے، کم از کم کوشش تو یہی کی جا رہی ہے کہ اس میں زیادہ سے زیادہ رنز بنیں۔ اس کے لیے قوانین بھی ایسے بنا دیے گئے ہیں جن سے بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا لائسنس مل جائے۔ اس کے باوجود کسی ٹی ٹوئنٹی میچ میں سنچری بنانا اب بھی ایک مشکل کام ہے۔ وجہ سادہ سی ہے کہ جب پوری اننگز میں صرف 120 گیندیں ہوں تو سنچری بھلا کیسے بنے؟

دنیائے کرکٹ کے چند بلے باز ایسے ضرور ہیں جنہوں نے اس فارمیٹ میں بھی دھواں دار سنچریاں بنائی ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی لیگ "آئی پی ایل" میں کئی بلے بازوں نے یہ کارنامہ انجام دیا اور پچھلے کچھ دنوں میں ہم کرس گیل اور شین واٹسن کو سنچریاں بناتے ہوئے دیکھ چکے ہیں لیکن اب بھی کئی معروف بیٹسمین ایسے ہیں جنہیں آئی پی ایل میں کبھی سنچری بنانے کا شرف حاصل نہیں ہوا جیسا کہ:

گوتم گمبھیر

اگر گوتم کی فضول حرکتوں کو ایک طرف رکھ دیں تو کہا جا سکتا ہے کہ وہ ایک بہت اچھے بیٹسمین ہیں۔ 148 آئی پی ایل میچز کا وسیع تجربہ رکھنے والے گمبھیر اب تک 4 ہزار سے زیادہ رنز بنا چکے ہیں اور سب سے زیادہ رنز بنانے والوں میں چوتھے نمبر پر ہیں۔ دہلی ڈیئرڈیولز کی جانب سے آئی پی ایل کا آغاز کرنے والے کھلاڑی 2011ء میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز میں شامل ہوئے اور 2012ء اور 2014ء میں قائد کے طور پر دو مرتبہ ٹائٹل جیتے۔ لیکن وہ کبھی کوئی سنچری نہیں بنا سکے۔ اب تک آئی پی ایل میں گمبھیر نے بہترین اننگز 2012ء میں کھیلی، جس میں انہوں نے رائل چیلنجرز بنگلور کے خلاف 93 رنز بنائے تھے۔ اب جبکہ ان کا کیریئر اپنے اختتام پر ہے، گمبھیر اس سیزن میں سنچری بنانے کی کوشش کریں گے۔ تہرے ہندسے کی اننگز کھیل پاتے ہیں یا نہیں، لیکن یہ بات تو ہے کہ سب سے زیادہ مرتبہ صفر پر آؤٹ ہونے کا آئی پی ایل ریکارڈ ضرور ان کے پاس ہے۔ بیچارہ گمبھیر!

مہندر سنگھ دھونی

جی ہاں! دھونی جیسا کھلاڑی بھی اب تک آئی پی ایل میں کبھی سنچری نہیں بنا سکا۔ 3670 رنز، آئی پی ایل میں سب سے زیادہ رنز بنانے والوں میں ٹاپ ٹین میں شامل، 38 سے زیادہ کا اوسط، 137 کے لگ بھگ اسٹرائیک ریٹ، بلاشبہ آئی پی ایل کے سب سے بڑے لیجنڈ، لیکن 162 میچز کھیلنے کے بعد بھی انہیں سنچری بنانے کو نہیں ملی، 17 مرتبہ نصف سنچری کے بعد بھی۔ دھونی کی بہترین اننگز 79 رنز کی ہے جو انہوں نے پچھلے ہفتے کنگز الیون پنجاب کے خلاف ہی کھیلی ہے۔

کیرون پولارڈ

ویسٹ انڈیز کے طویل قامت آل راؤنڈر، جو ٹی ٹوئنٹی میں سب سے زیادہ میچز کھیلنے کا عالمی ریکارڈ رکھتے ہیں، ممبئی انڈینز سے لے کر کراچی کنگز تک، دنیا کی کئی ٹیموں کو ناقابل یقین مقابلے جتوا چکے ہیں لیکن اب تک ایک مرتبہ بھی آئی پی ایل میں سنچری نہیں بنا سکے۔ 127 مقابلوں میں پولارڈ نے 28 کے اوسط سے 2376 رنز بنائے ہیں اور ان کا اسٹرائیک ریٹ بھی کمال ہے 146 کے قریب۔ لیکن 12 نصف سنچریوں کے بعد بھی انہیں ایک بار تہرے ہندسے تک پہنچنے کا شرف نہیں ملا۔ ان کی بہترین اننگز 78 رنز کی ہے اور کوئی بعید نہیں کہ وہ اس سیزن میں سنچری بنا بھی دیں۔

یووراج سنگھ

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں انڈیا کا پہلا اسٹار، جس نے پہلے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2007ء میں چھ گیندوں پر چھ چھکے مارے اور بعد میں بھارت عالمی چیمپیئن بھی بنا اور اگلے ہی سال پہلے آئی پی ایل میں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ اب تک ہونے والے تمام سیزنز میں پنجاب، پونے، بنگلور، دہلی اور حیدرآباد جیسی کئی ٹیمیں بدلنے کے بعد، 124 میچز کھیل کر ایک مرتبہ پھر کنگز الیون میں آنے والے یووراج اب تک 2623 رنز بنا چکے ہیں لیکن کبھی سنچری نہیں بنا سکے۔ ان کی بہترین اننگز 83 رنز کی ہے۔ کیا اب وہ سنچری تک پہنچ پائیں گے؟ ہو سکتا ہے اس بار ایک دن انہیں مل جائے؟

رابن اوتھپا

بہت عرصے تک یہ کہا گیا کہ رابن کو بین الاقوامی سطح پر زیادہ مواقع ملنے چاہیے تھے کیونکہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ سے لے کر آئی پی ایل تک ہر جگہ تسلسل کے ساتھ کارکردگی دکھاتے رہے ہیں۔ لیکن ابتدائی سیزنز میں محدود کامیابی کے بعد جب وہ کولکتہ نائٹ رائیڈرز اور پونے واریئرز میں گئے، تب کھل کر سامنے آئے۔ وہ کولکتہ کے مڈل آرڈر کا اہم حصہ بنے اور وکٹ کیپر کی ذمہ داری نبھا کر بھی ٹیم کا توازن برقرار رکھا۔ 2014ء کے سیزن میں انہوں نے 660 رنز بنائے اور سب سے زیادہ رنز بنا کر 'اورنج کیپ' حاصل کیا اور ٹیم کو اعزاز بھی جتوایا۔ لیکن اوپنر ہونے کے باوجود کہ جنہیں کافی اوورز کھیلنے کو ملتے ہیں، اوتھپا اپنے 3906 رنز میں ایک بار بھی سنچری تک نہیں پہنچ سکے۔ ان کے ریکارڈ پر 22 نصف سنچریاں موجود ہیں لیکن سنچری کوئی نہیں۔

تبصرہ کیجیے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا