انگلینڈ یقینی شکست سے بچنے کی کوشش کرتا ہوا

0 904

جوس بٹلر اور نوجوان ڈومینک بیس کے درمیان 125 رنز کی ناقابل شکست رفاقت نے انگلینڈ کو لارڈز ٹیسٹ کے تیسرے روز یقینی شکست سے بچا لیا۔ ان دونوں کی وجہ سے انگلینڈ کو پاکستان پر 56 رنز کی برتری حاصل ہو چکی ہے اور ابھی اس کی چار وکٹیں باقی ہیں۔

لارڈز میں پاک-انگلستان مقابلے کا تیسرا دن پاکستان کی پہلی اننگز کے ساتھ شروع ہوا جس میں پاکستان صرف 13 رنز کا اضافہ ہی کر پایا اور نویں وکٹ گرگئی۔ بابر اعظم زخمی ہونے کی وجہ سے میدان میں نہیں اتر سکتے تھے، اس لیے پاکستانی اننگز 363 رنز پر ہی مکمل قرار پائی۔

179 رنز کے خسارے میں جب انگلینڈ نے دوسری اننگز کا آغاز کیا تو جلد ہی ایلسٹر کک محمد عباس کی ایک خوبصورت گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔ مجموعہ ابھی 31 رنز تک ہی پہنچا تھا کہ شاداب خان نے دوسرے اوپنر مارک اسٹونمین کو بھی چلتا کردای۔ تب کپتان جو روٹ نے ڈیوڈ ملان کے ساتھ مل کر 60 رنز کی شراکت داری قائم کی اور ایسا لگتا تھا کہ انگلستان کو دباؤ سے نکال لائے ہیں لیکن محمد عامر کے ایک ہی اوور نے انگلش بیٹنگ لائن کی کمر توڑ دی۔ انہوں نے پہلے 12 رنز بنانے والے ملان کی چھٹی کی اور اسی اوور میں ایک شاندار گیند پر جونی بیئرسٹو کی وکٹیں بکھیر دیں۔

بین اسٹوکس جارحانہ موڈ کے ساتھ میدان میں آئے اور آتے ہی دو چوکے لگا دی لیکن شاداب کی گیند پر ایک اور چوکا حاصل کرنے کی بے وقوفانہ کوشش نے اسٹوکس کو واپسی کی راہ دکھا دی۔ جو کسر رہ گئی تھی وہ محمد عباس کی گیند پر کپتان جو روٹ کی 68 رنز کی اننگز کے خاتمے نے پوری کردی۔ صرف 110 رنز پر انگلستان 6 وکٹیں گنوا چکا تھا اور تیسرے ہی دن اننگز کی شکست منہ کھولے سامنے کھڑی تھی۔

اس مرحلے پر جوس بٹلر اور نوجوان بیس نے پاکستان کے ارمانوں پر پانی پھیر دیا۔ دونوں نے تقریباً 37 اوورز تک پاکستانی باؤلرز کا جم کر سامنا کیا اور شاہین پوری کوشش کے باوجود دن کے اختتام تک مزید کوئی وکٹ نہیں لے سکے۔ تیسرا دن مکمل ہوا تو بٹلر 66 اور بیس 55 رنز کے ساتھ کریز پر موجود تھے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ چوتھے دن، جبکہ دن کے آغاز پر ہی پاکستان کو نیا گیند بھی مل جائے گا، یہ دونوں اور آنے والے بیٹسمین پاکستان کے باؤلرز کا کتنی دیر مقابلہ کر پاتے ہیں۔ پاکستان کے لیے تو یہی ضروری ہے کہ وہ 56 رنز کی برتری کو بہت زیادہ بڑا نہ ہونے دے، ورنہ چوتھی اننگز میں پاکستان کی بیٹنگ لائن چھوٹے ہدف کے تعاقب میں بھی جیسے لڑکھڑاتی ہے، وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔