ویمنز ورلڈ کپ کا سنسنی خیز آغاز، نیوزی لینڈ کو اپ سیٹ شکست

ویسٹ انڈیز نے آخری اوور میں صرف 3 رنز سے کامیابی حاصل کی

0 256

بارہواں ویمنز ورلڈ کپ نیوزی لینڈ میں شروع ہو چکا ہے، جہاں پہلے ہی مقابلے میں کیا زبردست مقابلہ دیکھنے کو ملا۔ میزبان اور ایک مرتبہ کے عالمی چیمپیئن نیوزی لینڈ کو ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں صرف 3 رنز کی اپ سیٹ شکست ہوئی ہے۔

نیوزی لینڈ 260 رنز کے ہدف کا تعاقب کر رہا تھا اور 28 ویں اوور تک صرف 2 وکٹوں پر 123 رنز بنا چکا تھا۔ حالات قابو میں لگتے تھے اور یہاں صرف 39 رنز کے اضافے پر اس کی چار وکٹیں گر گئیں اور 162 پر چھ کھلاڑی آؤٹ ہو چکی تھیں۔

یہاں نیوزی لینڈ کے لیے امید کی آخری کرن کپتان سوفی ڈیوائن تھی، جو جمی رہیں، ڈٹی رہیں اور ایک شاندار سنچری بنا کر نیوزی لینڈ کو فتح کے بہت قریب لے آئیں۔ نیوزی لینڈ کو جیتنے کے لیے 6 اوورز میں 45 رنز کی ضرورت تھی۔ یہ مشکل ضرور تھا لیکن ناممکن نہیں۔

لیکن کپتان کی اننگز 108 رنز پر مکمل ہو گئی۔ پھر معاملات کیٹی مارٹن اور جیس کیر نے سنبھالے۔ 49 ویں اوور میں جب مارٹن نے دو چوکے لگائے تو مقابلہ تقریباً ختم ہو گیا تھا۔ کیونکہ آخری اوور میں صرف 6 رنز کی ضرورت رہ گئی تھی۔

نیوزی لینڈ کو یہاں تک پہنچانے میں ویسٹ انڈیز کی فیلڈرز نے بھی کردار ادا کیا۔ کئی کیچز چھوڑے، مس فیلڈز کیں اور میچ کو مکمل طور پر حریف کے دامن میں دے دیا۔

یہاں صرف ایک فیصلے نے میچ کا نتیجہ ہی پلٹ دیا۔ وہ تھا آخری اوور دیئندرا دوتن کو پکڑانے کا فیصلہ۔ ان کی صرف پانچ گیندوں نے نیوزی لینڈ سے سب کچھ چھین لیا۔ انہوں نے پہلے مارٹن کی 44 رنز کی اننگز ختم کی، پھر 25 رنز بنانے والی کیر کو کیچ آؤٹ کروایا اور پانچویں گیند پر فران جوناس کو رن آؤٹ کر کے میچ کا خاتمہ کر دیا۔

نیوزی لینڈ کی ویسٹ انڈیز کی ہاتھوں شکست کو اپ سیٹ تو کہنا ہی چاہیے کیونکہ نیوزی لینڈ میزبان ہونے کی وجہ سے ٹورنامنٹ فیورٹ تھا۔ پھر اتنا سنسنی خیز مقابلہ ہونا یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ اس ورلڈ کپ میں ویسٹ انڈیز کو نظر انداز کرنا غلطی ہوگی۔

ویمنز ورلڈ کپ تقریباً ایک مہینے جاری رہے گا لیکن فی الحال سب کی نظریں اتوار 6 مارچ پر ہیں۔ وہ دن جب پاکستان اور بھارت آمنے سامنے آئیں گے۔ یہ بہت بڑا مقابلہ ہوگا اور اگر پاکستان یہاں کامیابی حاصل کر لیتا ہے تو ورلڈ کپ کا اس سے بہتر آغاز ہو نہیں سکتا۔

یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت نے کبھی ویمنز ورلڈ کپ نہیں جیتا، البتہ بھارت دو مرتبہ فائنل اور تین بار سیمی فائنل تک رسائی حاصل کر چکا ہے جبکہ پاکستان تو کبھی سیمی فائنلز تک نہیں پہنچا۔