ویمنز ورلڈ کپ، پاکستان جیتتے جیتتے ہار گیا

0 510

ویمنز ورلڈ کپ میں مسلسل 17 ویں شکست کی تلوار تو ویسے ہی لٹک رہی تھی لیکن جنوبی افریقہ سے تو پرانے بدلے بھی لینے تھے۔ 2017ء کے ویمنز ورلڈ کپ میں پاکستان کا پہلا مقابلہ ہی جنوبی افریقہ سے تھا۔ 207 رنز کے ہدف کے تعاقب میں اس کی 7 وکٹیں 177 رنز پر گر چکی تھیں۔ جب معاملہ دو اوورز میں 16 رنز تک آ گیا تو شبنم اسماعیل نے کائنات امتیاز کو تین چوکے لگا کر 49 ویں اوور ہی میں میچ کا خاتمہ کر دیا تھا۔

آج 4 سال بعد بھی پاکستان فتح سے تقریباً اتنا ہی قریب تھا۔ اس بار پاکستان کو آخری دو اوورز میں 22 رنز درکار تھے اور ڈیانا بیگ کے دو چوکوں نے ویسا ہی ماحول بنا دیا۔ آخری آٹھ گیندوں پر 12 رنز کی ضرورت تھی اور لگتا تھا کہ پاکستان جیت جائے گا لیکن یہاں سیٹ بلے باز ندا ڈار سے ایک غلطی ہو گئی۔ وہ دوسرے رن کے لیے بھی دیوانہ وار دوڑ پڑیں لیکن کریز میں نہ پہنچ پائیں۔ ان کے جاتے ہی پاکستان کی امیدیں ختم ہو گئیں۔ آخری اوور میں جب جنوبی افریقہ کو 10 رنز کا دفاع کرنا تھا تو آئیں شبنم اسماعیل۔ وہی جو چار سال بعد جنوبی افریقہ کی کامیابی کا اہم کردار تھیں۔ اس بار بھی باؤلنگ میں اپنے جوہر دکھائے اور ڈیانا بیگ کا ایک ناقابلِ یقین کیچ لیا۔ اوور کی پانچویں گیند پر غلام فاطمہ کے رن آؤٹ کے ساتھ میچ کا خاتمہ ہو گیا۔

پاکستان صرف 6 رنز سے یہ مقابلہ ہار گیا اور یوں اِس ویمنز ورلڈ کپ میں مسلسل تیسرا میچ بھی ہار گیا۔ مجموعی طور پر یہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں پاکستان کی مسلسل 17 ویں شکست ہے۔

پاکستان گو کہ 223 رنز کے ہدف کی جانب سست روی سے گامزن تھا لیکن حالت اس کی تقریباً جنوبی افریقہ جیسی ہی تھی۔ 45 اوورز میں جہاں پاکستان کا اسکور 6 وکٹوں پر 177 رنز تھا تو جنوبی افریقہ بھی اس مقام پر 183 رنز پر چھ وکٹیں گنوا چکا تھا یعنی معاملہ تقریباً برابر کا تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ پاکستان کے پاس کوئی ایسا کھلاڑی میدان میں نہیں تھا جو میچ کو تنِ تنہا فنش کر سکتا جبکہ جنوبی افریقہ کے پاس شبنم اسماعیل جیسی باؤلر تھیں۔ انہوں نے 41 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں جن میں ابتدا ہی میں مسلسل دو گیندوں پر سدرا امین اور کپتان بسمہ معروف کو صفر پر آؤٹ کرنا بھی شامل تھا اور آخری اوور میں اپنی ہی گیند پر ڈیانا بیگ کا ایک شاندار کیچ بھی۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں میچ کی بہترین کھلاڑی کا اعزاز بھی ملا۔

ویسے ہدف کے تعاقب کا فیصلہ پاکستان کا اپنا تھا۔ بسمہ نے ٹاس جیتا اور جنوبی افریقہ کو کھیلنے کی دعوت دی جس نے لارا وولفارٹ ااور کپتان سون لوس کی نصف سنچریوں کی بدولت 223 رنز بنائے۔ ان دونوں کے علاوہ آخر میں کلو ٹرائیون اور وکٹ کیپر تریشا چیٹی نے بھی 31، 31 رنز کی اننگز کھیلیں۔

پاکستان کی جانب سے فاطمہ ثنا نے عمدہ باؤلنگ کی اور 43 رنز دے کر تین شکار کیا۔ غلام فاطمہ نے بھی جنوبی افریقہ کی تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا لیکن ان کے 9 اوورز میں 52 رنز بھی پڑے۔

ہدف کے تعاقب میں پاکستان نے محتاط آغاز کیا اور 26 رنز تک سدرا اور بسمہ کے آؤٹ ہونے کے باوجود میچ ہاتھ سے نکلنے نہیں دیا۔ ناہیدہ خان اور عمیمہ سہیل نے 25 ویں اوور کے اختتام تک مزید کوئی وکٹ نہیں گرنے دی اور اسکور کو 95 رنز تک بھی پہنچایا۔ ناہیدہ 71 گیندوں پر 40 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہو گئیں۔ یہاں عمیمہ نے ندا ڈار کے ساتھ اننگز آگے بڑھائی۔ دونوں نے مزید 49 رنز کا اضافہ کیا۔ عمیمہ کی 104 گیندوں پر 65 رنز کی اننگز اس وقت تمام ہوئی جب پاکستان کو 12 اوورز میں 80 رنز کی ضرورت تھی۔

یہاں عمیمہ اور ان کے فوراً بعد عالیہ ریاض کے صفر پر آؤٹ ہونے سے پاکستان کی اننگز ایسی لڑکھڑائی کہ پھر آخر تک پٹری پر نہیں چڑھ پائی۔ ندا ڈار نے اپنی سی بہت کوشش کی۔ لیکن بڑھتا ہوا درکار رن ریٹ اور دوسرے اینڈ سے کسی کا مستقل ساتھ نہ مل پانے سے صورت حال دشوار ہوتی چلی گئی یہاں تک کہ وہ خود بھی رن آؤٹ ہو گئیں۔

یوں پاکستان نے ورلڈ کپ میں ایک یادگار کامیابی حاصل کرنے کا سنہرا موقع گنوا دیا۔ جنوبی افریقہ اس وقت آسٹریلیا کے پاس دنیا کی بہترین ویمنز ٹیم ہے، جس نے اپنے آخری 41 میں سے 28 میچز جیتے ہیں۔

ویمنز ورلڈ کپ - میچ نمبر 9

جنوبی افریقہ بمقابلہ پاکستان

نتیجہ: جنوبی افریقہ 6 رنز سے جیت گیا

جنوبی افریقہ 🏆223/9
لارا وولفارٹ75 رنز91 گیندیں
سون لوس 62 رنز102 گیندیں
پاکستان باؤلنگامرو
فاطمہ ثنا 101433
غلام فاطمہ90523
پاکستان 217/10
عمیمہ سہیل65 رنز104 گیندیں
ندا ڈار55 رنز72 گیندیں
جنوبی افریقہ باؤلنگامرو
شبنم اسماعیل 9.51413
آیابونگا کھاکا101432

بہرحال، پاکستان نے جس طرح کے کھیل کا آج مظاہرہ کیا ہے، باؤلنگ اور فیلڈنگ میں بھی جان ماری ہے، اگر اس طرح کی کارکردگی بنگلہ دیش کے خلاف اگلے میچ میں دکھائی تو جاری ورلڈ کپ میں پہلی کامیابی ضرور مل جائے گی۔ پاک-بنگلہ دیش مقابلہ 14 مارچ کو ہملٹن میں کھیلا جائے گا۔