آج پاکستان کرکٹ تاریخ کا بد ترین دن

0 333

ورلڈ کپ 2007ء تاریخ کے بدترین ٹورنامنٹس میں سے ایک شمار ہوتا ہے۔ کیوں؟ اس کی کئی وجوہات تھیں۔ ایک تو سب سے زیادہ ناظرین رکھنے والے پاکستان اور بھارت پہلے ہی مرحلے میں باہر ہو گئے اور پھر فائنل میں جو ہوا وہ بھی کسی مذاق سے کم نہیں تھا۔

لیکن اس ورلڈ کپ کی سب سے بُری یاد آج ہی کے دن سے وابستہ ہے، یعنی 18 مارچ سے۔ جب پاکستان کے کوچ باب وولمر اپنے کمرے میں مردہ پائے گئے۔

ایک روز پہلے ہی پاکستان نے ورلڈ کپ میں اپنا اہم ترین مقابلہ آئرلینڈ کے خلاف کھیلا تھا۔ یہاں پاکستان پہلے کھیلتے ہوئے صرف 132 رنز پر ڈھیر ہو گیا تھا۔ جس کے بعد آئرلینڈ نے تین وکٹوں سے تاریخی کامیابی حاصل کی۔ یہ ایسا دھچکا تھا جس نے پاکستان کو ورلڈ کپ کی دوڑ سے ہی باہر کر دیا۔

پاکستان اُس وقت ون ڈے کرکٹ کی بہترین ٹیموں میں شمار ہوتا تھا بلکہ عالمی درجہ بندی میں چوتھے نمبر پر تھا، نیوزی لینڈ سے صرف دو پوائنٹس پیچھے۔ لیکن اس ورلڈ کپ میں اسے کیا ہوا؟ کچھ نہیں پتہ۔

پاکستان کے شائقینِ کرکٹ تو 1999ء والا صدمہ بھی برداشت کر چکے تھے، لیکن باب وولمر کے لیے آئرلینڈ کے ہاتھوں شکست شاید برداشت سے باہر تھی۔ اگلے دن وہ اپنے کمرے میں بے ہوش پائے گئے۔ انہیں ہسپتال لے جایا گیا جہاں ان کی موت کی تصدیق کر دی گئی۔

اس کے بعد افواہوں کا جو بازار گرم ہوا اس کے بعد تو ورلڈ کپ اور اس میں ہونے والے مقابلوں کی کوئی حیثیت ہی نہیں رہی۔ کئی حلقوں نے تو ٹورنامنٹ منسوخ کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ بہرحال، جمیکا کی پولیس نے کئی ماہ تحقیقات کے بعد یہی کہا کہ باب وولمر کی وفات کی وجہ طبعی اسباب تھے۔

پاکستان کی شکست کا ازالہ تو کئی صورتوں میں ہو سکتا تھا، لیکن جان کی تلافی کیسے ممکن ہے؟ وہ بھی باب وولمر جیسی شخصیت کی کہ جنہوں نے پاکستان کرکٹ کو ایک اعلیٰ ترین مقام پر پہنچایا تھا؟

بوقتِ انتقال باب وولمر کی عمر 58 سال تھی۔ انہوں نے 2004ء میں پاکستان کے کوچ کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔ ان کی پہلی بڑی کامیابی 2005ء کے اوائل میں دورۂ بھارت میں آئی جہاں انہوں نے ٹیسٹ سیریز برابر کی اور ون ڈے سیریز میں ‏4-2 کے بھاری مارجن سے کامیابی حاصل کی۔ جی ہاں! بھارت کو بھارت میں ہرایا۔ پھر اسی سال پاکستان نے اس انگلینڈ کو بھی ہوم سیریز ہرائی کہ جو عرصہ دراز کے بعد آسٹریلیا کو شکست دے کر ایشیز سیریز جیتی تھی۔ یہی نہیں بلکہ اس کے بعد بھارت کے خلاف ٹیسٹ سیریز بھی جیتی اور سری لنکا کو بھی ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز میں شکست دی۔ وولمر نے ٹیم میں ایک نئی رُوح پھونک دی تھی۔

لیکن پھر نجانے کس کی نظر لگ گئی۔ 2006ء میں اوول تنازع ہوا اور 2007ء میں باب وولمر کی موت واقع ہو گئی۔

ویسے تو باب وولمر کا تعلق انگلینڈ سے تھا لیکن وہ پیدا ہندوستان میں ہوئے تھے۔ 1948ء میں کانپور میں پیدا ہونے والے وولمر نے انگلینڈ کے لیے 19 ٹیسٹ اور 6 ون ڈے میچز کھیلے۔ 1976ء میں وہ پانچ 'وزڈن کرکٹرز آف دی ایئر' میں سے ایک تھے۔ لیکن انہیں اصل شہرت ملی کوچنگ سے۔ 1994ء میں انہوں نے جنوبی افریقہ کی کوچنگ شروع کی اور پانچ سال کے عرصے میں اسے دنیائے کرکٹ کی ایک بڑی طاقت بنا دیا۔

بعد میں وہ پاکستان کو بھی انہی راستوں پر لے جا رہے تھے یہاں تک کہ ون ڈے کی عالمی درجہ بندی میں پاکستان تیسرے نمبر پر بھی آ گیا۔ لیکن پھر ورلڈ کپ 2007ء آ گیا اور سب کچھ ختم ہو گیا۔

پاکستان نے باب وولمر کو اپنا اعلیٰ ترین شہری اعزاز ستارۂ امتیاز دیا اور آج لاہور میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی انڈور کرکٹ اکیڈمی بھی انہی کے نام پر ہے۔