[آج کا دن] جب ملتان بنا سلطان

0 240

میراتھون میں اِس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی کہ دوڑ کے آغاز پر سب سے آگے کون ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ آخر میں کون سب سے آگے رہتا ہے۔ ٹی ٹوئنٹی لیگز میں ایک لحاظ سے کرکٹ کی میراتھون ہیں۔ مہینے سے بھی زیادہ جاری رہنے والے کرکٹ سیزن میں جو آخر میں اور اہم ترین مقابلوں میں جان مارے گا، وہ چیمپیئن بنے گا اور یہ بات ثابت کی گزشتہ سال آج ہی کے دن ملتان سلطانز نے۔

یہ پاکستان سپر لیگ کا ایک ناقابلِ یقین سیزن تھا، جس میں ملتان نے ایک بھیانک آغاز لیا، ابتدائی پانچ میں سے 4 میچز ہار کر یعنی 'مِڈ سیزن' میں وہ سب سے نچلی ٹیموں میں سے ایک تھا۔ یہاں خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ کرونا وائرس کی وبا آ گئی اور مسلسل دوسرے سال پی ایس ایل سیزن درمیان میں روکنا پڑا۔

چند ماہ کے وقفے کے بعد سیریز کے باقی ماندہ مقابلوں کے لیے متحدہ عرب امارات کا انتخاب ہوا تو گویا ابو ظبی کی ہوا راس آ گئی۔ وہ پہلے مرحلے کے باقی ماندہ پانچ میں سے 4 میچز جیتا اور پھر کوالیفائر میں بھی کامیابی سمیٹتے ہوئے فائنل تک پہنچ گیا۔ 2021ء میں 24 جون کے اِسی دن ملتان سلطانز یک طرفہ مقابلے میں پشاور زلمی کو شکست دے کر پہلی بار چیمپیئن بن گیا۔ یعنی 7 میچز میں سے چھ میں کامیابی حاصل کر کے۔

پاکستان سپر لیگ 2021ء - فائنل

ملتان سلطانز بمقابلہ پشاور زلمی

‏24 جون 2021ء

شیخ زاید اسٹیڈیم، ابو ظبی، متحدہ عرب امارات

نتیجہ: ملتان 47 رنز سے جیت گیا

ملتان سلطانز 🏆206-4
صہیب مقصود 65*35
رائلی روسو5021
پشاور باؤلنگامرو
سمین گل40262
محمد عمران40472

پشاور زلمی 159-9
شعیب ملک4828
روومین پاول2314
ملتان باؤلنگامرو
عمران طاہر40333
بلیسنگ مزرابانی40262

ابو ظبی میں ذرا ملتان کی کارکردگی تو دیکھیں: کوالیفائر میں اسلام آباد یونائیٹڈ کو 31 رنز سے ہرایا، لاہور قلندرز کے خلاف اہم مقابلہ 80 رنز سے جیتا جبکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو تو 110 رنز کے بہت بڑے مارجن سے شکست دی۔ گویا ملتان کو پر لگ گئے تھے۔

فائنل میں ملتان نے صہیب مقصود کے 65 اور رائلی روسو کی اہم مقابلے میں 50 رنز کی اہم اننگز کی بدولت 206 رنز بنائے۔ صہیب مقصود اپنی قسمت کے بل بوتے پر 35 گیندوں پر 65 رنز کی شاندار اننگز کھیل گئے۔ صرف چھ رنز پر ان کا ایک آسان کیچ چھوڑ دیا گیا تھا، جس کے بعد وہ آخر تک پشاور زلمی کے سینے پر مونگ دلتے رہے۔

ایک بڑے مقابلے میں بڑے ہدف کے تعاقب میں پشاور ابتدا ہی سے دباؤ میں نظر آیا۔ ساتویں اوور کا آغاز ہوا تو صرف 42 رنز پر دونوں اوپنرز آؤٹ ہو چکے تھے۔ شعیب ملک اور روومین پاول نے مقابلہ بچانے کی کوشش کی لیکن 15 اوورز میں 137 رنز ہی اکٹھے ہو پائے۔ جب آخری پانچ اوورز میں 70 رنز درکار ہوں اور پانچ کھلاڑی بھی آؤٹ ہو چکے ہوں تو ہاتھ پیر تو پھولیں گے ہی۔ ملتان نے بھی مقابلے کو اپنی گرفت میں رکھا اور پشاور کو مقررہ 20 اوورز میں 9 وکٹوں پر 159 رنز سے آگے نہ بڑھنے دیا۔ یعنی مقابلہ با آسانی 47 رنز سے جیت گیا۔

صہیب مقصود کو میچ کے علاوہ ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز بھی ملا اور ساتھ ہی سیزن کے بہترین بلے باز کا بھی۔ بہترین باؤلر اور ابھرتے ہوئے بہترین کھلاڑی بھی ملتان ہی کے شاہنواز ڈاہانی بنے جبکہ بہترین وکٹ کیپر کا اعزاز ملتان کے کپتان محمد رضوان نے حاصل کیا یعنی کہ ملتان نہ صرف ٹرافی بلکہ دیگر تمام اعزازات بھی جھاڑو پھیر کے اپنے ساتھ لے گیا۔

ملتان سلطانز کی کارکردگی کا یہ تسلسل ہمیں رواں سیزن میں بھی نظر آیا، جس رضوان الیون نے پہلے مرحلے میں اپنے 10 میں سے 9 میں کامیابی حاصل کی، صرف ایک میں شکست کھائی اور پورے طمطراق کے ساتھ کوالیفائر میں پہنچا۔ یہاں 'پنجاب ڈربی' میں لاہور کو شکست دے کر فائنل تک رسائی حاصل کی۔ لگتا تھا ملتان کو کوئی روک نہیں پائے گا، لیکن 27 فروری کی وہ رات قلندروں کی رات تھی، جنہوں نے ایک یادگار کامیابی حاصل کی، جس کا احوال پھر کبھی۔