[ریکارڈز] بیئرسٹو اور اوورٹن کی کمال شراکت داری

0 268

ایک کے بعد دوسرا میچ اور پے در پے سیریز ہارنے کے بعد انگلینڈ کے لیے نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز بہت اہمیت رکھتی تھی۔ حالات یہ تھے کہ جو روٹ کی کپتانی تک چلی گئی۔ اِن حالات میں نئے کپتان اور نئے کوچ کے ساتھ انگلینڈ میدان میں اترا اور پھر کمال کر دیا۔ سیریز کے ابتدائی دونوں ٹیسٹ میچز ناقابلِ یقین انداز میں جیتے اور کلین سویپ کے عزم کے ساتھ لِیڈز پہنچا۔

لیکن جب نیوزی لینڈ کے 329 رنز کے جواب میں خود بیٹنگ کرنے اترا تو حال سے بے حال ہو گیا۔ صرف 55 رنز پر چھ وکٹیں گر گئیں اور لگ رہا تھا کہ سیریز میں پہلی ناکامی ملی ہی ملی۔

یہاں ہمیں جونی بیئرسٹو کا جادو دوبارہ دیکھنے کو ملا۔ ٹرینٹ برج میں انگلینڈ کی جیت کے ہیرو بیئرسٹو نے اپنے کھیل کا سلسلہ بالکل وہیں سے جوڑا، جہاں سے ٹوٹا تھا۔ انہوں نے ساتویں وکٹ پر جیمی اوورٹن کے ساتھ 241 رنز کی ایسی شراکت داری کی، جو ہو سکتا ہے فاتحانہ ثابت ہو۔

بیئرسٹو نے اس دوران صرف 157 گیندوں پر 162 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، وہ بھی 24 چوکوں کے ساتھ۔ البتہ اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے اوورٹن بد قسمتی سے سنچری نہ بنا پائے اور 97 رنز پر آؤٹ ہو گئے۔

بہرحال، ان دونوں کھلاڑیوں نے تاریخ میں پہلی بار ساتویں وکٹ پر انگلینڈ کے لیے کوئی ڈبل سنچری پارٹنرشپ ضرور بنائی۔

اس سے پہلے ساتویں وکٹ پر انگلینڈ کے لیے سب سے بڑی شراکت داری کا ریکارڈ 197 رنز کا تھا، جو جم پارکس اور مائیک اسمتھ نے 1960ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف اوول کے میدان پر بنایا تھا۔ یعنی یہ ریکارڈ پچھلے 62 سالوں سے قائم تھا اور اب کہیں جا کر ٹوٹا ہے۔

انگلینڈ کے لیے ساتویں وکٹ پر سب سے طویل شراکت داری

بلے بازرنزآغازاختتامبمقابلہبمقامبتاریخ
جونی بیئرسٹو، جیمی اوورٹن2416-557-296 نیوزی لینڈلیڈزجون 2022ء
جم پارکس، مائیکل اسمتھ1976-1487-345 ویسٹ انڈیزپورٹ آف اسپینمارچ 1960ء
کولن کاؤڈری، تھامس ایونز1746-1927-366 ویسٹ انڈیزلارڈزجون 1957ء
پال کولنگ ووڈ، میٹ پرائیر1696-1657-334 ویسٹ انڈیزچیسٹر-لی-اسٹریٹجون 2007ء
ڈیوڈ گاور، وکٹر مارکس1676-3617-528 پاکستانفیصل آبادمارچ 1984ء

ساتویں وکٹ پر سب سے بڑی شراکت داری کے عالمی ریکارڈ پر نظر دوڑائیں تو ہمیں ویسٹ انڈیز کے ڈینس ایٹکنسن اور سائرل ڈیپیازا کا نام دکھائی دیتا ہے۔  1955ء میں آسٹریلیا کے خلاف برج ٹاؤن ٹیسٹ میں ان دونوں بلے بازوں نے تب میدان سنبھالا جب 147 رنز پر 6 کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے 347 رنز کی ایسی شراکت داری کی، جو آج بھی ایک عالمی ریکارڈ ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی سال یعنی 1955ء میں پاکستان کے امتیاز احمد اور وقار حسن نے بھی ساتویں وکٹ پر 300 پلس پارٹنرشپ کی۔ یہ نیوزی لینڈ کے خلاف لاہور ٹیسٹ تھا جس میں انہوں نے 308 رنز کی شراکت داری کی۔

پوری کرکٹ تاریخ میں صرف دو مواقع ہی ایسے ہیں، جن میں بلے بازوں نے ساتویں وکٹ پر 300 سے زیادہ رنز جوڑ دیے ہوں۔

ساتویں وکٹ پر طویل ترین پارٹنرشپ کا عالمی ریکارڈ

بلے بازرنزآغازاختتامبمقابلہبمقامبتاریخ
ڈینس ایٹکنسن، سائرل ڈیپیازا3476-1477-494 آسٹریلیاجون 2022ء
امتیاز احمد، وقار حسن3086-1117-419 نیوزی لینڈمارچ 1960ء
شین ڈاؤرچ، جیسن ہولڈر295*6-1206-415 انگلینڈجون 1957ء
روی چندر آشوِن، روہت شرما2806-1567-436 ویسٹ انڈیزجون 2007ء
مچل سینٹنر، بی جے واٹلنگ2616-3167-577 انگلینڈمارچ 1984ء

لیکن، ذرا ٹھیریے، جونی بیئرسٹو اور جیمی اوورٹن کو جو بات سب سے جدا کرتی ہے، وہ یہ کہ ساتویں، بلکہ آخری چاروں وکٹوں پر، کوئی پارٹنرشپ ایسی نہیں جس میں چھ وکٹیں 100 رنز سے پہلے ہی گر گئی ہوں۔

اگر 200 رنز سے زیادہ کی شراکت داریوں کو معیار بنایا جائے تو سب سے کم اسکور 102 رنز نظر آتا ہے، جس پر 7 وکٹیں گر گئیں تھیں لیکن پھر بھی ایک جوڑی 332 رنز کا اضافہ کر گئی۔ یہ پاکستان اور انگلینڈ کا بدنامِ زمانہ لارڈز ٹیسٹ تھا، وہی مقابلہ جس میں اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل سامنے آیا تھا۔ بہرحال، اس میچ کی پہلی اننگز میں جوناتھن ٹراٹ نے اسٹورٹ براڈ کے ساتھ مل کر 332 رنز کی شراکت داری قائم کی اور انگلینڈ کو 102 رنز سے 434 رنز تک پہنچا دیا۔

جونی بیئرسٹو اور جیمی اوورٹن کی بدولت لیڈز میں انگلینڈ چھ وکٹیں گرنے کے باوجود آخری چار وکٹوں پر 305 رنز کا اضافہ کرنے میں کامیاب رہا۔ یہ انگلینڈ کی تاریخ میں آخری چار وکٹوں کا تیسرا سب سے بڑا اضافہ ہے۔ 1966ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف اوول ٹیسٹ میں 377 اور پھر 2010ء میں پاکستان کے خلاف لارڈز میں آخری چار وکٹوں نے 344 رنز کا اضافہ کیا۔

آخری چار وکٹوں پر انگلینڈ کے لیے سب سے زیادہ رنز

رنزبمقابلہبمقامبتاریخ
انگلینڈ377 ویسٹ انڈیزاوولاگست 1966ء
انگلینڈ344 پاکستانلارڈزاگست 2010ء
انگلینڈ305 نیوزی لینڈلیڈزجون 2022ء
انگلینڈ294 بھارتناٹنگھمجولائی 2014ء
انگلینڈ267 بھارتلارڈزجون 1982ء

اگر آخری چار وکٹوں کے سب سے زيادہ رنز بنانے کا عالمی ریکارڈ دیکھا جائے تو یہ پاکستان کے پاس ہے۔ جی ہاں! وہی 1955ء کا لاہور ٹیسٹ، جس میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کے خلاف آخری چار وکٹوں پر 450 رنز کا اضافہ کر ڈالا تھا۔ یہ ریکارڈ آج 67 سال گزر جانے کے باوجود قائم ہے بلکہ کوئی دوسرا ملک 400 رنز کا ہندسہ بھی پار نہیں کر سکا۔

آخری چار وکٹوں پر سب سے زیادہ رنز کا عالمی ریکارڈ

رنزبمقابلہبمقامبتاریخ
پاکستان450 نیوزی لینڈلاہوراکتوبر 1955ء
انگلینڈ377 ویسٹ انڈیزاوولاگست 1966ء
آسٹریلیا370 انگلینڈایڈیلیڈجنوری 1925ء
پاکستان370 زمبابوےشیخوپورہاکتوبر 1996ء
ویسٹ انڈیز363 آسٹریلیابرج ٹاؤنمئی 1955ء