فاتح سکندر، زمبابوے کی بنگلہ دیش کے خلاف تاریخی کامیابی

0 202

زمبابوے نے سکندر رضا اور کپتان ریجس چکابوا کی فاتحانہ سنچریوں کی بدولت بنگلہ دیش کو دوسرا ون ڈے بھی ہرا دیا ہے اور یوں ٹی ٹوئنٹی کے بعد ون ڈے سیریز بھی جیت لی۔ یہ گزشتہ پانچ سالوں میں پہلی بار کسی قابلِ ذکر ٹیم کے خلاف زمبابوے کی پہلی ون ڈے سیریز کامیابی ہے۔

ٹی ٹوئنٹی سیریز کے بعد زمبابوے کا اعتماد اپنی بلندیوں کو چوتھا ہوا نظر آیا۔ اتنا کہ ہدف کے تعاقب میں نازک ترین حالات کا سامنا کرنے کے باوجود بنگلہ دیش کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیا اور اپنے خول سے باہر نکل کر کھیلا۔

بنگلہ دیش کا دورۂ زمبابوے 2022ء - دوسرا ون ڈے انٹرنیشنل

زمبابوے بمقابلہ بنگلہ دیش

‏7 اگست 2022ء

ہرارے اسپورٹس کلب، ہرارے، زمبابوے

زمبابوے 5 وکٹوں سے جیت گیا

بنگلہ دیش290-9
محمود اللہ80*84
تمیم اقبال5045
زمبابوے باؤلنگامرو
سکندر رضا100563
ویزلی مدھاویرے91402

زمبابوے 🏆291-5
سکندر رضا117*127
ریجس چکابوا10275
بنگلہ دیش باؤلنگامرو
حسن محمود91472
مہدی حسن100502

زمبابوے پانچ تبدیلیوں کے ساتھ میدان میں اترا تھا جبکہ بنگلہ دیش کو زخمی لٹن داس اور مستفیض الرحمٰن کی جگہ مجبوراً دو تبدیلیاں کرنا پڑیں۔ پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے بنگلہ دیش کو آغاز بہت عمدہ ملا۔ صرف 11 اوورز میں اسکور 71 رنز کو چھو رہا تھا، جب تمیم اقبال نصف سنچری بناتے ہی آؤٹ ہو گئے۔

بنگلہ دیشی کپتان نے 45 گیندوں پر 50 رنز بنائے۔ اس اننگز کی خاص بات تھی کہ تمیم صرف باؤنڈریز میں ڈیل کر رہے تھے۔ ان کے 50 رنز میں 10 چوکے اور ایک چھکا شامل تھا، یعنی 46 رنز صرف چوکوں چھکوں کی صورت میں حاصل کیے۔

تمیم کے کچھ ہی دیر بعد پھر بدقسمتی سے انعام الحق بھی آؤٹ ہو گئے۔ نجم الحسن کا کھیلا گیا ایک اسٹریٹ ڈرائیو باؤلر کی انگلیوں کو چھوتا ہوا نان اسٹرائیکنگ اینڈ پر وکٹوں میں جا گھسا، جبکہ انعام کریز سے باہر تھے۔

اوپنرز کے بعد رنز بنانے کا سلسلہ آہستہ ہوتا گیا۔ زمبابوے کے اسپنرز نے درمیانی اوورز میں اپنا کام بھرپور انداز میں کیا، نہ صرف اسکور روکے بلکہ مشفق الرحیم اور نجم الحسن دونوں کی وکٹیں بھی حاصل کیں۔

تیسویں اوور میں 148 رنز پر بنگلہ دیش کے چار کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے۔ یہاں ضرورت تھی ایک بڑی شراکت داری کی۔ محمود اللہ اور عفیف حسین نے پانچویں وکٹ پر 81 رنز کا اضافہ کیا۔ محمود اللہ نے 84 گیندوں پر 80 رنز کی باری کھیلی اور عفیف نے 41 رنز بنائے۔ عفیف کو ریورس سوئپ کھیلنے کی غلطی مہنگی پڑی۔

باقی ماندہ سات اوورز میں محمود اللہ کی بیٹنگ اور سکندر رضا کی باؤلنگ کا زبردست مقابلہ ہوا۔ سکندر نے عفیف سمیت تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ بنگلہ دیش محمود اللہ کی تین چھکوں اور اتنے ہی چوکوں سے مزیّن ناٹ آؤٹ اننگز کے باوجود 300 رنز تک نہیں پہنچ پایا۔ آخری 10 اوورز میں 84 رنز بنا کر بھی اسکور 290 رنز سے آگے نہیں بڑھ پایا، جو زمبابوے کو روکنے کے لیے کافی نہیں تھے۔

ویسے ہدف کے تعاقب میں زمبابوے کا آغاز حد درجہ مایوس کن تھا۔ ابتدائی آٹھ اوورز میں صرف 27 رنز ہی بن پائے، اور تین وکٹیں بھی گریں۔ حسن محمود نے اپنے ابتدائی دو اوورز میں دو بلے بازوں کو وکٹوں کے پیچھے کیچ کروایا، جن میں گزشتہ میچ کے سنچورین انوسینٹ کائیا بھی شامل تھے۔ 50 کے ہندسے تک پہنچنے سے پہلے ہی زمبابوے کی چار وکٹیں گر چکی تھیں۔

جب سکندر رضا کا ساتھ دینے کے لیے کپتان ریجس چکابوا آئے تو میدان میں سناٹا تھا۔ لیکن کچھ ہی دیر میں سکندر رضا کے خوبصورت شاٹس نے تماشائیوں کو پھر سے جگا دیا۔ خاص طور پر بیسویں اوور میں حسن محمود کو رسید کیا گیا چھکا تو دن کا خوبصورت ترین شاٹ تھا۔

دوسرے اینڈ سے چکابوا نے کیپٹن اننگز کھیلی۔ شریف الاسلام کو لگایا گیا چھکا ہو یا تسکین احمد کو ایک اوور میں مسلسل چار چوکے۔ جب آخری 10 اوورز کا آغاز ہوا تو زمبابوے دوڑ میں مکمل طور پر واپس آ چکا تھا۔ یہاں سکندر اور چکابوا دونوں نائنٹیز میں ضرور تھے، لیکن نروس بالکل نہیں تھے۔ دونوں نے اپنے شاٹس کھل کر کھیلے، ریجس چکابوا نے تو اپنی پہلی ون ڈے سنچری ایک چھکے کے ذریعے مکمل کی۔ 73 گیندوں پر بنائی گئی یہ کسی بھی زمبابوین بلے باز کی تیز ترین ون ڈے سنچری تھی۔ وہ 75 گیندوں پر 10 چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 102 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

سکندر اور چکابوا کے درمیان پانچویں وکٹ پر 201 رنز کی شراکت داری رہی۔ دونوں نے 49 رنز چار کھلاڑی آؤٹ پر میدان سنبھالا تھا اور میچ کو یہاں تک لے آئے کہ فتح 41 رنز کے فاصلے پر تھی۔ یہاں ٹونی منیونگا آئے اور آتے ہی چھا گئے۔ انہوں نے شریف الاسلام کو ایک چوکا اور دو چھکے لگا کر گویا میچ کا خاتمہ ہی کر دیا۔ شریف کے لیے آج کا دن بہت مایوس کن رہا۔ وہ اننگز کے 25 ویں اوور میں بھی تین باؤنڈریز کھا چکے تھے۔ اپنے 9 اوورز میں انہوں نے 77 رنز دیے اور کوئی وکٹ حاصل نہ کی۔

منیونگا نے صرف 16 گیندوں پر دو چھکوں اور دو چوکوں کے ساتھ 30 رنز بنائے۔ انہی کے چوکے کی بدولت زمبابوے 48 ویں اوور میں ہی منزل پر پہنچ گیا۔

سکندر رضا 117 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔ چار چھکوں اور آٹھ چوکوں سے مزین یہ ان کی مسلسل دوسری سنچری اننگز تھی۔ یاد رہے کہ سکندر نے میچ میں تین وکٹیں بھی لی تھیں یعنی مکمل آل راؤنڈ کارکردگی پیش کی اور میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا۔

یوں زمبابوے نے دو میچز ہی میں سیریز اپنے نام کر لی۔ سیریز کا تیسرا اور آخری مقابلہ بدھ 10 اگست کو کھیلا جائے گا۔