[آج کا دن] پہلی بار چھ چھکا چھتیس

0 312

آج کے کرکٹ شائقین کو یووراج سنگھ کے ایک ہی اوور میں لگائے گئے چھ چھکے تو یاد ہوں گے، بلکہ حال ہی میں کیرون پولارڈ کا سری لنکا کے خلاف یہی کارنامہ بھی کئی ذہنوں میں تازہ ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے کسی کو ورلڈ کپ 2007ء میں ہرشل گبز کے وہ چھکے بھی یاد ہوں جو انہوں نے نیدرلینڈز کے خلاف میچ میں رسید کیے تھے۔ یہ تمام وہ مواقع ہے جب انٹرنیشنل کرکٹ میں کسی کھلاڑی نے ایک اوور کی تمام چھ گیندوں کو براہِ راست میدان سے باہر پھینکا۔

لیکن کرکٹ تاریخ میں سب سے پہلے یہ کارنامہ کب انجام دیا گیا؟ آج ہی کے دن یعنی 31 اگست کو 1968ء میں اور ایسا کر دکھانے والے ویسٹ انڈیز کے عظیم آل راؤنڈر سر گیری سوبرز تھے۔ اُس زمانے میں جب ٹی ٹوئنٹی تو دُور کی بات ہے، خود ون ڈے کرکٹ بھی ایجاد نہیں ہوئی تھی۔

سوبرز گلیمورگن کے خلاف ناٹنگھم شائر کی جانب سے کھیل رہے تھے۔ اسکور پانچ وکٹوں پر 308 رنز تھا اور وہ چاہتے تھے کہ تیزی سے کچھ رنز بنانے کے بعد آخری لمحات میں حریف بلے بازوں کو میدان میں اتاریں۔ اس لیے اننگز ڈکلیئر کرنے سے پہلے وہ جلد از جلد زیادہ سے زیادہ رنز بنانا چاہتے تھے اور اسی دوران وہ کر دکھایا، جو تاریخ میں کبھی کسی نے نہیں کیا تھا۔

یہ بد قسمت باؤلر تھے میلکم نیش، جنہوں نے کرکٹ تاریخ میں پہلی بار اپنے اوور میں چھ چھکے کھائے۔ ویسے تو نیش سیم باؤلر تھے لیکن اس دن وہ اسپن باؤلنگ آزما رہے تھے۔ اس تجربے کے نتائج بہت مایوس کن رہے کیونکہ آج وہ 991 فرسٹ کلاس وکٹیں حاصل کرنے والے باؤلر کے طور پر نہیں بلکہ سوبرز سے چھ چھکے کھانے والے گیند باز کے طور پر یاد رکھے جاتے ہیں۔

اس اوور میں سوبرز نے پہلی دونوں گیندوں کو مڈ وکٹ کی جانب، تیسری گیند کو لانگ آن اور چوتھی کو بیک وقت اسکوائر لیگ کی جانب چھکے کے لیے روانہ کیا۔ سوبرز کہتے ہیں کہ یہ چوتھا چھکا تھا جس کے بعد انہوں نے ارادہ کر لیا کہ وہ چھ چھکے لگانے کی کوشش کریں گے۔  لیکن جب آپ ارادہ کرتے ہیں تو اس کے الٹ ہو جاتا ہے۔ پانچویں گیند بلّے پر آئی ہی نہیں۔ وہ تو لانگ آن پر فیلڈر کیچ پکڑنے کی کوشش میں باؤنڈری لائن پر گر گیا، ورنہ یہ کبھی چھکا نہ ہوتا۔

قسمت بھی بہادروں کا ساتھ دیتی ہے، اس نے سوبرز کو تھام لیا تھا اور اب تاریخ اُن کے سامنے کھڑی تھی، صرف ایک قدم کے فاصلے پر۔ بس جو پانچ گیندوں پر کر دکھایا تھا، صرف ایک بار، ایک بار اسے دہرانا تھا۔ پھر چھٹی و آخری گیند پر جو چھکا لگایا، وہ سب سے خوبصورت شاٹ تھا۔ گیند باؤنڈری لائن سے کہیں آگے بلکہ اسٹیڈیم سے ہی باہر چلی گئی اور کہیں کھو گئی۔

اس شاندار کارنامے کے ساتھ ہی سوبرز نے اننگز 394 رنز پر ڈکلیئر کرنے کا اعلان کر دیا۔ گلیمورگن ایسا دباؤ میں آیا کہ پہلی اننگز میں 254 اور دوسری میں تو صرف 113 رنز پر آل آؤٹ ہو گیا اور 166 رنز سے یہ میچ ہار گیا۔

اس تاریخی گیند کی انوکھی داستان

ویسے اُس گیند کی بھی پوری ایک داستان ہے جو آخری چھکے کے ساتھ کھو گئی تھی۔ یہ گیند ایک 17 سالہ طالب علم رچرڈ لوئس کو ملی تھی جس نے سہ روز میچ کے خاتمے سے پہلے حکام کو واپس کی تھی۔ اس عمل پر شاباش دینے کے لیے رچرڈ کی ملاقات سوبرز سے کروائی گئی اور اس نے بذاتِ خود یہ گیند اُن کے حوالے کی۔ سوبرز نے یہ گیند اپنے کرکٹ بیگ میں رکھی اور اسے ٹرینٹ برج، ناٹنگھم لے گئے۔

اُس زمانے میں ایسا کوئی کرکٹ میوزیم نہیں تھا جہاں اس گیند کو رکھا جاتا۔ اس لیے گیری سوبرز نے یہ گیند ناٹنگھم شائر سپورٹرز ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جان گف کے حوالے کر دی۔ یہ گیند تقریباً ایک سال تک عوامی نمائش کے لیے رکھی گئی اور پھر ٹرینٹ برج میں ایسوسی ایشن کے دفتر منتقل کر دی گئی۔

اُس کے بعد یہ گیند ظاہر ہوئی نومبر 2006ء میں، جب معروف نیلام گھر کرسٹی نے نیلامی کے لیے پیش کیا۔ یہ گیند 26,400 برطانوی پونڈز میں نیلام ہوئی جو کسی بھی کرکٹ گیند کے لیے ایک نیا ریکارڈ تھا۔ لیکن لیکن لیکن۔۔۔ جس باؤلر نے یہ چھ چھکے کھا کر بدنامی سمیٹی تھی، یعنی میلکم نیش، انہوں نے دعویٰ کر دیا کہ یہ تو وہ گیند ہی نہیں جو انہوں نے کروائی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ جس گیند پر سوبرز نے چھ چھکے رسید کیے تھے وہ ڈیوک اینڈ سنز کی تیار کردہ نہیں تھی، بلکہ اسٹورٹ سرِج کی بنائی گئی گیند تھی۔

میلکم نیش کا مزید کہنا تھا کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ اُس میچ میں ڈیوک کی گیند استعمال کی گئی ہو کیونکہ گلیمورگن 40، 50 سالوں سے اسٹورٹ سرِج کی گیندیں استعمال کر رہا تھا۔ اس لیے صرف ایک میچ کے لیے گیند کیوں بدلی جائے گی؟ پھر کرسٹی کا کہنا تھا کہ اس اوور میں تین گیندیں استعمال کی گئیں۔ یہ دعویٰ بھی غلط ہے، وہ صرف ایک ہی گیند تھی۔ بلکہ چلیں فرض بھی کر لیا جائے کہ گیند کھو گئی تھی، تو اگلی گیند پر بھی سرِج ہی کی ہوگی، ڈیوک نہیں۔

اس گیند کا عقدہ آج تک نہیں کھلا، کرسٹی کا دعویٰ ہے کہ یہ وہی گیند ہے جبکہ نیش کہتے ہیں کہ وہ گیند نہیں۔ یہاں تک کہ اس معاملے پر ایک کتاب Howzat? The Six Sixes Ball Mystery تک لکھی گئی۔