بورڈ کے دہرے معیارات، لاہور میں پھولوں کے ہار کراچی میں خواتین کھلاڑی خوار

پاکستان کو اگلے سال ویمنز ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پہنچانے والی خاتون کھلاڑی پاکستان کرکٹ بورڈ کے رویے سے سخت نالاں ہیں، جس کی وجہ سے انہیں گزشتہ روز وطن واپسی کے بعد سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی کھلاڑی ویمنز ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کوالیفائرز میں شاندار کارکردگی کے بعد وطن واپس پہنچی تھیں (تصویر: ICC)

قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی کھلاڑی ویمنز ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کوالیفائرز میں شاندار کارکردگی کے بعد وطن واپس پہنچی تھیں (تصویر: ICC)

پاکستان کرکٹ بورڈ کے دہرے معیار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جو ٹیم دو حصوں میں تقسیم ہو کر لاہور و کراچی پہنچی، دونوں کے لیے الگ الگ انتظامات کیے گئے بلکہ کراچی پہنچنے والی ٹیم کے لیے تو سرے سے کوئی انتظام تھا ہی نہیں۔

آئرلینڈ میں ہونے والے آئی سی سی ویمنز ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کوالیفائر کی فاتح پاکستانی ٹیم کا پہلادستہ کپتان ثناء میر کی قیادت میں لاہور پہنچا تو نہ صرف بورڈ کے عہدیداران وہاں استقبال کے لیے موجود تھے، بلکہ کھلاڑیوں کو خصوصی گاڑیوں کے ذریعے گھروں کو پہنچایا گیا۔

دوسری جانب نین عابدی، بتول فاطمہ، جویریہ ودود اور جویریہ خان سمیت کراچی پہنچنے والی 6 کھلاڑی اور کوچ باسط علی کو گھاس بھی نہ ڈالی گئی۔

کراچی کے قائد اعظم انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ان کا استقبال کرنے کا نہ کوئی عہدیدار آیا اور نہ ہی ان کے لیے کوئی انتظام کیا گیا تھا۔ نتیجتاً کھلاڑیوں کو سخت کوفت کا سامنا کرنا پڑا۔

اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے والے کوچ باسط علی تو ذرائع ابلاغ سے چھپتے پھر رہے تھے اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے پہنچتے ہی ٹیکسی پکڑی اور گھر کی راہ لی۔ جبکہ کھلاڑیوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ اپنی مدد آپ کے تحت گھروں کو پہنچنے کو انتظام تو کرلیا گیا لیکن کراچی میں ہونے والی شدید بارشوں اور سڑکوں کی حالت زار کی وجہ سے انہیں اتنا وقت دبئی سے کراچی پہنچنے میں نہیں لگا ہوگا، جتنا کراچی ایئرپورٹ سے اپنے گھروں تک پہنچنے میں لگا۔

اگر فاتح کھلاڑیوں کے ساتھ بورڈ کا رویہ ایسا غیر ذمہ دارانہ ہوگا تو شکست خوردہ ٹیم کا کیا حال ہوتا ہوگا، اس کا اندازہ لگا لیجیے۔

Facebook Comments