اہم مقابلوں سے قبل پاکستان کے پاس آخری موقع

ایشیا کپ میں سری لنکا کے ہاتھوں مایوس کن شکست کے بعد اب دفاعی چیمپئن پاکستان کو بلند حوصلہ افغانستان کا سامنا ہے۔ افتتاحی مقابلے میں محض 12 رنز کی شکست کے اہم اسباب اہم باؤلرز کی ناکامی، ابتدائی تین بلے بازوں کا جمنے کے بعد بے موقع آؤٹ ہونا اور آل راؤنڈرزکا حتمی مرحلے پر بے وفائی رہے۔

پاکستان کو ساتویں اور آٹھويں نمبر پر بیٹنگ آل راؤنڈر کی سخت کمی محسوس ہورہی ہے (تصویر: AFP)

پاکستان کو ساتویں اور آٹھويں نمبر پر بیٹنگ آل راؤنڈر کی سخت کمی محسوس ہورہی ہے (تصویر: AFP)

ہم افغانستان کے خلاف مقابلے سے قبل پاکستان کی گزشتہ کارکردگی کا کچھ جائزہ لیتے ہیں کیونکہ سری لنکا جیسے حریف کے خلاف شکست کے بعد پاکستان افغانستان کے خلاف ان غلطیوں کو دہرانے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ جنید خان اور بلاول بھٹی کے لیے ہوسکتا ہے کہ وہ دن اچھا نہ ہو، لیکن نوآموز ٹیم کے خلاف انہیں اپنی کارکردگی کو ثابت کرنا ہوگا اور آنے والے اہم ترین مقابلوں کے لیےخود کو تیار کرنا ہوگا۔

اگر ٹاپ آرڈر بیٹنگ کی بات کریں تو شرجیل خان کا مسلسل غلط شاٹ کھیل کر اپنی وکٹ گنوانا پریشان کن ہے۔ انہیں ذمہ داری کا احساس دلانا بیٹنگ کوچ کی ذمہ داری ہے اور ظہیر عباس انہیں اچھی طرح سمجھائیں کہ ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل کرکٹ میں کیا فرق ہے۔ جس طرح کے شاٹ کھیل کر شرجیل آؤٹ ہوتے ہیں وہ ڈومیسٹک میں تو قابل قبول ہو سکتے ہیں لیکن بین الاقوامی کرکٹ میں ٹیم کو اس کا خمیازہ بری طرح بھگتنا پڑتا ہے۔ کیونکہ ڈومیسٹک کے مقابلے میں بین الاقوامی کرکٹ میں باؤلنگ کا معیار زیادہ بہتر ہوتا ہے، اس لیے احمقانہ شاٹس کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ اس لیے اگر ایک غلط شاٹ کی قیمت ملک کو اہم ٹورنامنٹ میں ہار کی صورت میں چکانی پڑے تو کھلاڑی کا کیریئر بھی داؤ پر لگ سکتا ہے۔

علاوہ ازیں محمد حفیظ کے پاس اب بہت زیادہ وقت نہیں ہے، کیریئر کے اس اہم ترین مرحلے پر انہیں فیصلہ کرنا ہے کہ وہ بہترین بلے باز بنیں گے یا عمران نذیر، عمران فرحت اور یاسر حمید کی طرح اپنی غلطیوں سے سیکھنےکے بجائے ہمیشہ کے لیے ٹیم سے باہر ہوں گے۔ اندر آتی ہوئی گیند پر ہر مرتبہ آؤٹ ہونا اس بات کہ ثبوت ہے کہ انہیں پروفیسر کی عرفیت دینا اس نام کے ساتھ ظلم ہے۔ ایک انتہائی تجربہ کار بلے باز، جس کے بعد ایک طرز میں قومی ٹیم کی قیادت بھی ہو، 20 گیندیں کھیلنے کے بعد بھی نصف سنچری کی طرف جاتا نہ دکھائی دے تو اس کی صلاحیتوں کا پول کھولنے کے لیے یہی بات کافی ہے۔ اب بھی شاید ہو آل راؤنڈر کی حیثیت سے ٹیم میں باقی ہیں، ورنہ بلے باز کی حیثیت سے جگہ تو شاید وہ بہت پہلے کھو چکے۔

ایک روزہ کرکٹ میں ساتویں اور آٹھویں نمبر پر آل راؤنڈرز کی اہمیت سے کسی کو انکار نہيں، بالخصوص ایک روزہ کرکٹ میں اس پوزیشن کے کھلاڑی finisher ہوتے ہیں اور ان کا کام مقابلے کو اختتام تک پہنچانا ہوتا ہے لیکن شاہد آفریدی اور بلاول بھٹی سے وابستہ امیدیں پوری نہيں ہو رہی۔ شاہد تو گزشتہ پانچ سالوں میں بیٹنگ سے باؤلنگ آل راؤنڈر بن گئے ہیں جبکہ بلاول بھی اسی صنف میں شمار ہوں گے۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ شاہد آفریدی سے بلے بازی میں توقعات باندھنا لاٹری ٹکٹ سے امیر ہونے کی امید باندھنے کے برابر ہے لیکن وہ اپنی اچھی باؤلنگ اور فیلڈنگ، اور اسی لاٹری کی امید کی وجہ سے، ٹیم میں جگہ بنا لیتے ہیں۔ سوال بلاول بھٹی کی شمولیت پر ہے کہ وہ اسے کس طرح اپنے انتخاب کو درست ثابت کرتے ہيں۔ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ان کے پاس زیادہ مواقع نہیں ہیں۔ انہیں مستقل جگہ پانے کے لیے اپنی بیٹنگ پر توجہ دینا ہوگی ۔ بالخصوص سری لنکا کے خلاف مقابلے میں اس وقت لاستھ مالنگا جیسے باؤلر کے سامنے وکٹیں چھوڑ کر کھیلنا ہرگز دانشمندی نہیں جب پاکستان کو 8 گیندوں پر 13 رنز کی ضرورت تھی۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ آج دوپہر جب پاکستان فتح اللہ کے خان صاحب عثمان علی اسٹیڈیم میں افغانستان سے مقابلہ کرنے کے لیے میدان میں اترے گا تو اس کے پاس کیا حکمت عملی ہوگی؟ لیکن یہ بات طے ہے کہ بھارت اور بنگلہ دیش جیسے سخت حریفوں کے خلاف اہم مقابلوں سے قبل پاکستان کے پاس اوسان بحال کرنے کا یہ آخری موقع ہے۔

Facebook Comments