لارڈز کا 200 سالہ جشن، فنچ اور سعید اجمل نے میلہ لوٹ لیا

جس مقابلے میں ایڈم گلکرسٹ، وریندر سہواگ، کیون پیٹرسن، شین وارن، مرلی دھرن، سچن تنڈولکر، برائن لارا اور راہول ڈریوڈ ایک ساتھ ایکشن میں دکھائی دیے، وہاں میلہ سعید اجمل اور آرون فنچ لوٹ گئے۔ "کرکٹ کے گھر" لارڈز کے دو سو سال مکمل ہونے پر کھیلا گیا نمائشی مقابلہ سچن تنڈولکر کی ایم سی سی الیون نے جیت لیا، جس نے شین وارن کی ریسٹ آف ورلڈ الیون کو باآسانی 7 وکٹوں سے شکست دی۔

سچن تنڈولکر آٹھ مہینوں کے بعد کرکٹ کے میدانوں میں ایکشن میں نظر آئے، 44 رنز بنائے اور ایک وکٹ بھی حاصل کی (تصویر: Getty Images)

سچن تنڈولکر آٹھ مہینوں کے بعد کرکٹ کے میدانوں میں ایکشن میں نظر آئے، 44 رنز بنائے اور ایک وکٹ بھی حاصل کی (تصویر: Getty Images)

کرکٹ کے موجودہ اور سابقہ عظیم کھلاڑیوں پر مشتمل دو ٹیموں کے درمیان یادگاری مقابلے کے لیے کافی دنوں سے بہت زوروشور سے تیاریاں جاری تھیں اور آج دنیا بھر کی نگاہیں لارڈز کے میدان پر جمی تھیں۔ سچن اور لارا کے خوبصورت اسٹروکس ، سہواگ اور گلکرسٹ کی دھواں دار بیٹنگ اور شین وارن اور مرلی دھرن کی جادوئی باؤلنگ دیکھنے کے لیے آخر کون تیار نہ ہوگا۔

ریسٹ آف دی ورلڈ الیون کے کپتان شین وارن نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور ایڈم گلکرسٹ اور وریندر سہواگ نے 54 رنز کا بہترین آغاز فراہم کیا۔ بالخصوص 'گلی' بالکل پرانے موڈ میں نظر آئے۔ 21 گیندوں پر 6 چوکوں کی مدد سے 29 رنز بنا کر انہوں نے ظاہر کیاکہ خاک تلے اب بھی چنگاریاں موجود ہیں۔

اس سے پہلے کہ ورلڈ الیون کے بلے باز میچ پر چھا جاتے، ایم سی سی الیون کے کپتان سچن نے اپنے سب سے اہم باؤلر سعید اجمل کو اتار دیا جنہوں نے آتے ہی میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔ جب سہواگ بریٹ لی کے ہاتھوں کلین بولڈ ہوئے تو سعید نے اپنے مسلسل تین اوورز میں چار بلے بازوں کو ٹھکانے لگا کر مقابلہ کو بالکل یکطرفہ بنا دیا۔ انہوں نے پہلے گلکرسٹ کو اسٹمپ کروایا اور پھر تمیم اقبال کو وکٹوں کے سامنے دھر لیا۔ کیون پیٹرسن نے گو کہ ابھی کرکٹ کو خیرباد نہیں کہا ، اور ان کا لارڈز میں تماشائیوں نے بھرپور استقبال بھی کیا، لیکن اس کے باوجود سعید اجمل کی جادوئی گیندوں پر وہ آج بھی ویسے ہی ہونق دکھائی دیے جیسا کہ 2012ء میں متحدہ عرب امارات کے میدانوں میں تھے۔ کچھ دیر مزاحمت کرنے کے بعد بالآخر وہ بھی وکٹ کیپر کرس ریڈ کی پھرتی کا شکار بن گئے۔ شاہد آفریدی اگلے بیٹسمین تھے جو صرف دو گیندوں کے مہمان ثابت ہوئے اور سعید اجمل کی گیند آف اسٹمپ میں گھس گئی۔ ورلڈ الیون صرف 14 رنز کے اضافے سے 5 وکٹوں سے محروم ہوگئی اور ایسا لگتا تھا کہ سعید اجمل اگر مزید باؤلنگ کرواتے رہے تو اگلے چند ہی اوورز میں ان کی اننگز کا خاتمہ ہوجائے گا۔

ایک نمائشی میچ کےلیے اس سے برا آغاز نہیں ہوسکتا تھا اس لیے میچ میں دلچسپی کو برقرار رکھنے کے لیے سچن نے سعید اجمل کو باؤلنگ سے ہٹا دیا اور یہیں سے ورلڈ الیون کو سکھ کا وہ سانس نصیب ہوا جو اسکور کو 68 رنز سے 293 تک لے گیا۔

یووراج سنگھ اور پال کولنگ ووڈ نے چھٹی وکٹ پر 131 رنز بنا کر مقابلے کو یکطرفہ ہونے سے بچا لیا۔ یووراج اپنے جوبن پر دکھائی دیے ۔ انہوں نے 134 گیندیں کھیلیں اور 6 چھکوں اور 8 چوکں کی مدد سے 132 رنز بنانے کے بعد 49 ویں اوور میں جاکرآؤٹ ہوئے۔ انہیں سچن تنڈولکر نے آؤٹ کیا۔ جبکہ پال کولنگ ووڈ 40 رنز بنانے کے بعد بریٹ لی کی دوسری وکٹ بنے۔ مقررہ 50 اوورز مکمل ہونے پر ورلڈ الیون 7 وکٹوں پر 293 رنز بنانے میں کامیاب رہی۔ جس میں پیٹر سڈل کا 33 رنز کا حصہ بھی شامل تھا۔

سعید اجمل نے ابتدائی تین اوورز میں چار وکٹیں حاصل کرکے نمائشی میچ کا "مزا" خراب کرنے کی کوشش کی، اس لیے باؤلنگ سے ہٹا دیے گئے (تصویر: Getty Images)

سعید اجمل نے ابتدائی تین اوورز میں چار وکٹیں حاصل کرکے نمائشی میچ کا "مزا" خراب کرنے کی کوشش کی، اس لیے باؤلنگ سے ہٹا دیے گئے (تصویر: Getty Images)

آخری اوورز میں کپتان شین وارن نے ہم وطن بریٹ لی کا ایک زبردست باؤنسر اپنے ہاتھ پر کھایا اور ایسے زخمی ہوئے کہ پھر مقابلے میں حصہ نہ لے سکے۔ یوں تماشائی شین وارن کی جادوئی بالنگ دیکھنے سے محروم رہ گئے۔ بہرحال، ایم سی سی الیون کی جانب سے سعید اجمل نے 45 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں جبکہ دو وکٹیں بریٹ لی کو ملیں اور ایک کھلاڑی کو سچن تنڈولکر نےآؤٹ کیا۔

جواب میں شین وارن نے محروم ورلڈ الیون کے پاس آرون فنچ کی طوفانی بیٹنگ کا کوئی جواب نہ تھا۔ آرون نے کپتان سچن کے ساتھ پہلی وکٹ پر 107 رنز جوڑ کر فتح کی بنیاد رکھی۔ سچن نے اپنے چند ڈرائیوز کا جلوہ ضرور دکھایا بلکہ 44 رنز کی اننگز میں 7 چوکے بھی لگائے۔ ان کی روانگی کے بعد ماضی کے ایک اور عظیم بیٹسمین برائن لارا کھیلنے کے لیے آئے۔ جنہوں نے 38 گیندوں پر 3 چوکوں کی مدد سے 23 رنز بنائے۔ ایم سی سی الیون صرف ایک وکٹ کے نقصان پر 174 رنز پر پہنچ چکی تھی جب پال کولنگ ووڈ نے دو مسلسل گیندوں پر لارا اور راہول ڈریوڈ کو آؤٹ کردیا۔ بس ورلڈ الیون کی باؤلنگ کا یہی واحد خوش کن لمحہ تھا۔

آرون فنچ دوسرے اینڈ سے بے رحمانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کررہے تھے۔ 96 گیندوں پر سنچری مکمل کرنے کے بعد تو وہ ٹاپ گیئر میں چلے گئے اور 145 گیندوں پر 181 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیل ڈالی۔ ایم سی سی الیون 46 ویں اوور میں صرف تین وکٹوں کے نقصان پر جیت گیا۔ فنچ کے علاوہ شیونرائن چندرپال 37 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔
ریسٹ آف دی ورلڈ الیون کے پال کولنگ ووڈ نے دو جبکہ مرلی دھرن نے ایک وکٹ حاصل کی۔ باقی تمام باؤلرز ناکام رہے۔ پیٹر سڈل، ٹینو بیسٹ اور شاہد آفریدی جیسے باؤلر بھی کوئی وکٹ حاصل نہیں کر سکے۔

بہرحال، مقابلہ بہت یادگار اور مزیدار رہا، جس میں اتنے ستارو ں کو بیک وقت کھیلتے دیکھنے کا موقع ملا۔ بازی انہی نے لوٹی جو اس وقت کرکٹ میں متحرک ہیں، لیکن ماضی کے ستاروں نے بھی ثابت کیا کہ ان میں اب بھی کافی دم باقی ہے۔

Facebook Comments