عالمی کپ کے 30 جادوئی لمحات: گیٹنگ کی ’’الٹی جھاڑو‘‘

کپل کا ہندوستان اور عمران کا پاکستان، اپنے ہی میدانوں پر عالمی کپ کی دوڑ سے باہر ہوئے۔ کسی نے تصور بھی نہ کیا ہوگا کہ این بوتھم اور ڈیوڈ گاور کے بغیر کھیلنے والا انگلستان اور بقول ظہیر عباس کے "چند کلب کھلاڑیوں کا مجموعہ" یعنی آسٹریلیا فائنل کھیلیں گے لیکن 8 نومبر 1987ء کو کلکتہ کے ایڈن گارڈنز عالمی اعزاز کے لیے حتمی مقابلہ کرنے والی یہی دو ٹیمیں تھیں۔

جب آسٹریلیا کے ہاتھ پیر پھولے ہوئے تھے تو گیٹنگ کے "ریورس سوئپ" نے انہیں واپس آنے کا موقع دیا اور آسٹریلیا پہلی بار عالمی چیمپئن بن گیا (تصویر: Getty Images)

جب آسٹریلیا کے ہاتھ پیر پھولے ہوئے تھے تو گیٹنگ کے "ریورس سوئپ" نے انہیں واپس آنے کا موقع دیا اور آسٹریلیا پہلی بار عالمی چیمپئن بن گیا (تصویر: Getty Images)

مقامی تماشائیوں کی حمایت ظاہر ہے آسٹریلیا کے ساتھ تھی۔ وجہ؟ کیونکہ چند روز قبل ہی تو انگلستان نے بھارت کو سیمی فائنل میں شکست دی تھی، تو "گوروں" کو شکست ہوتے دیکھنا اس روز ہر ہندوستانی کی دلی خواہش تھی۔

تقریباً ایک لاکھ تماشائیوں کی موجودگی میں آسٹریلیا نے ٹاس جیتا، اور عالمی کپ کے دیگر مقابلوں کی طرح یہاں بھی پہلے بلے بازی سنبھالی۔ ڈیوڈ بون اور جیف مارش نے بہترین آغاز فراہم کیا۔ ابتدائی 10 اوورز میں 52 رنز بننے کے بعد آسٹریلیا کی اننگز کچھ تھم سی گئی۔ ڈیوڈ بون 125 گیندوں پر 75، جیف مارش 49 گیندوں پر 24 اور ڈین جونز 57 گیندوں پر 33 رنز بنانے میں کامیاب رہے لیکن آسٹریلیا کو اچھے مجموعے تک پہنچنے کے لیے آخری اوورز میں تیزی سے رنز بنانے کی ضرورت تھی اور اس مقام پر مائیک ویلیٹا نے کمال ہی کردیا۔ افسوس کی بات ہے کہ ان کی 31 گیندوں پر 45 رنز کی اننگز کو وہ مقام نہیں ملا، جو عالمی کپ کے فائنل مقابلوں میں کھیلی گئی دیگر باریوں کو دیا جاتا ہے۔ ویلیٹا کی اننگز کی بدولت آسٹریلیا نے آخری 6 اوورز میں 65 رنز جوڑے اور اسکور کو 253 رنز تک پہنچا دیا۔ اس میں کپتان ایلن بارڈر کے 31 گیندوں پر بنائے گئے اتنے ہی رنز بھی شامل تھے۔

اب انگلستان تھا، عالمی کپ تھا اور 254 رنز کا ہدف تھا۔ ایسے مقابلوں میں ٹیمیں اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیتی ہیں اس لیے انگلستان اس ہدف تک پہنچ سکتا تھا۔ اوپنر ٹم رابنسن کی وکٹ ابتداء ہی میں گرنے کے باوجود انگلش بلے بازوں کی پیشقدمی جاری رہی۔ گراہم گوچ اور بل ایتھی کی دوسری وکٹ پر 65 اور پھر ایتھی اور کپتان مائیک گیٹنگ کی صرف 13 اوورز میں 69 رنز کی شراکت داری نے انگلستان کو مضبوط مقام تک پہنچا دیا۔

آسٹریلیا کے لیے اس شراکت داری کا خاتمہ بہت ضروری تھا لیکن اس کے ہاتھ پیر پھولتے دکھائی دے رہے تھے۔ چند لمحے قبل نوجوان اسٹیو واہ نے گیٹنگ کا اٹھتا ہوا شاٹ لانگ آن پر پکڑا ضرور لیکن باؤنڈری سے باہر چلے گئے یوں انگلستان کو چھکا مل گیا اور پھر اوور تھرو نے حریف کے اسکور میں مزید چار رنز کا اضافہ بھی کردیا۔ لیکن آسٹریلیا جانتا تھا کہ انگلستان کی "ٹیل" کمزور ہے۔ وہ ڈیوڈ گاور اور این بوتھم کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھانا چاہتا تھا لیکن سوال یہ تھا کہ گیٹنگ کو کون روکے گا؟ وہ 44 گیندوں پر 41 رنز بنا چکے تھے، تین مرتبہ گیند کو چوکے اور ایک بار چھکے کے لیے بھی روانہ کرچکے تھے۔ جب آسٹریلیا کی کوئی چال چلتی نہ دکھائی دیتی تھی تو کپتان ایلن بارڈر نے دن کا سب سے بڑا "جوا" کھیلا۔ وہ خود گیندبازی کے لیے آئے اور مقابلہ کو پلٹ کر رکھ دیا، ایک ایسی گیند پر جو چھکے کی نہیں تو کم از کم چوکے کی ضرور حقدار تھی لیکن گیٹنگ نے اپنی حرکت سے اس کو ایک "شاہکار" اور "یادگار" گیند بنا دیا۔ شاید جزوقتی گیندباز کو دیکھ کر شاید گیٹنگ کا خون جوش مارنے لگ گیا تھا انہوں نے ریورس سوئپ کھیلنے کا خطرہ مول لیا اور بری طرح ناکام ہوئے۔ انتہائی دھیمی اور لیگ سائیڈ پر باہر جانے والی گیند نے ان کے بلے کا بالائی کنارہ لیا اور وکٹ کیپر گریگ ڈائیر کے دستانوں میں محفوظ ہوگئی۔

انگلستان کو شاید اندازہ نہیں تھا کہ ان کی بیٹنگ لائن کتنی کمزور ہے۔ جب 170 کے مجموعے پر ایتھی کی صورت میں چوتھی وکٹ گری تو سوائے ایلن لیمب کے اننگز کو آگے بڑھانا والا کوئی بلے باز موجود نہ تھا۔ لیمب نے 55 گیندوں پر 45 رنز بنائے۔ جب انگلستان ہدف سے 34 رنز کے فاصلے پر تھا تو وہ بھی اسٹیو واہ کے ہاتھوں بولڈ ہوگئے۔ آخری لمحات میں فل ڈیفریٹس کے 10 گیندوں پر 17 رنز، جن میں ایک چھکا بھی شامل تھا، انگلستان کے لیے کافی ثابت نہ ہوئے۔ کریگ میکڈرمٹ نے آخری اوور میں 17 رنز کا خوبی سے دفاع کیا اور انگلستان صرف 7 رنز کے فرق سے عالمی کپ گنوا بیٹھا۔

اس شکست میں قصور محض گیٹنگ کے ایک ناقص شاٹ کا نہیں، اگر کوئی ایسا کہتا بھی ہے تو یہ ٹیم کو فائنل تک پہنچانے والے ایک بہترین بلے باز کے ساتھ زیادتی ہوگی لیکن کیونکہ عالمی اعزاز داؤ پر تھا اس لیے آج بھی یہی کہا جاتا ہے کہ گیٹنگ کے ایک غلط شاٹ نے انگلستان کو عالمی کپ جیتنے کے نادر موقع سے محروم کردیا۔

اس عالمی کپ کے ساتھ ہی سفید لباس، سرخ گیندوں اور دن کے اوقات کے مقابلوں کا عہد ختم ہوا۔ کل سے ہم آپ کو عالمی کپ کے جدید روپ کی طرف لے جائیں گے۔ جی ہاں! 1992ء اور اس کے بعد کے عالمی کپ کے جادوئی لمحات کی طرف۔ تب تک آپ لطف اٹھائیے ایڈن گارڈنز میں کھیلے گئے واحد عالمی کپ فائنل کے یادگار لمحات کا، اور گیٹنگ کا "ریورس سوئپ" دیکھنا مت بھولیے گا 🙂

Facebook Comments