ووجس اور مارش کی ریکارڈ توڑ شراکت داری

آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کے مابین پہلا ٹیسٹ انتہائی یک طرفہ مقابلے کے بعد میزبان کی شاندار کامیابی پر مکمل ہوا۔ ایک اننگز اور 221 رنز کی بھاری بھرکم فتح میں اہم کردار ایڈم ووجس اور شان مارش کی 449 رنز کی ریکارڈ شکن، بلکہ ریکارڈ ساز، شراکت داری کا رہا۔ دونوں بلے بازوں نے پہلی اننگز میں 121 رنز پر تین وکٹیں گرنے کے بعد میدان سنبھالا اور مجموعے کو 570 رنز تک پہنچا کر دم لیا۔ شان مارش اس لیے بدقسمت رہے کہ وہ اپنی پہلی ٹیسٹ ڈبل سنچری سے محروم ہو گئے۔ 266 گیندوں پر مشتمل اننگز 182 رنز پر تمام ہوئی البتہ ووجس نے یہ سنگ میل ضرور عبور کیا۔ وہ ٹرپل سنچری بھی بنا ہی ڈالتے اگر آسٹریلیا کے کپتان اسٹیون اسمتھ اننگز ڈکلیئر کرنے میں جلد بازی کا مظاہرہ نہ کرتے۔ ووجس نےصرف 285 گیندوں پر 269 ناٹ آؤٹ رنز بنائے یعنی 94 کے اسٹرائیک ریٹ سے بھی زیادہ۔ 33 چوکوں پر مشتمل اس اننگز پر ووجس کو میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز تو ملا ہی لیکن اس طویل شراکت داری کے ساتھ انہوں نے ریکارڈ بک میں جو مقامات حاصل کیے ہیں، ان کی بدولت انہیں عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔

ووجس-مارش شراکت داری چوتھی وکٹ پر ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی طویل ترین ساجھے داری تھی۔ اس سے پہلے صرف تین جوڑیاں ہی 400 کا ہندسہ عبور کر پائی ہیں جن میں 449 رنز کی یہ شراکت داری سرفہرست ہے۔ اس سے قبل یہ ریکارڈ سری لنکا کے مہیلا جے وردھنے اور تھیلان سماراویرا کے پاس تھا جنہوں نے فروری 2009ء میں کراچی ٹیسٹ کے دوران 437 رنز بنائے تھے۔ کراچی میں کھیلا گیا یہ آخری ٹیسٹ کرکٹ مقابلہ نہیں بلکہ رنز لوٹنے کا میلہ تھا۔ ان دونوں بلے بازوں کی سنچریوں کی بدولت پہلے سری لنکا نے 644 رنز بنائے اور پھر پاکستان نے نہلے پہ دہلا مارتے ہوئے 765 رنز بنائے۔ یونس خان کی تاریخی ٹرپل سنچری اور کامران اکمل کی 158 رنز کی ناٹ آؤٹ اننگز نے اسے ایک ریکارڈ ساز ٹیسٹ بنایا۔

jayawardene-samaraweera

ان دونوں سے پہلے کرکٹ تاریخ میں چوتھی وکٹ پر 400 سے زیادہ رنز بننے کا واحد موقع مئی 1957ء میں آیا تھا جب انگلستان کے کپتان پیٹر مے اور کولن کاؤڈرے نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ایجبسٹن میں 411 رنز کی رفاقت قائم کی تھی۔

چوتھی وکٹ کے لیے طویل ترین ٹیسٹ شراکت داریاں

بلے باز1 بلے باز2 ملک رنز بمقابلہ بمقام بتاریخ
ایڈم ووجس شان مارش آسٹریلیا 449 ویسٹ انڈیز ہوبارٹ دسمبر 2015ء
مہیلا جے وردھنے تھیلان سماراویرا سری لنکا 437 پاکستان کراچی فروری 2009ء
پیٹر مے کولن کاؤڈرے انگلستان 411 ویسٹ انڈیز برمنگھم مئی 1957ء
گیری سوبرز فرینک وورل ویسٹ انڈیز 399 انگلستان برج ٹاؤن جنوری 1960ء
بل پونسفرڈ ڈان بریڈمین آسٹریلیا 388 انگلستان لیڈز جولائی 1934ء

ووجس اور مارش کی یہ شراکت داری کسی بھی وکٹ کے لیے تاریخ کی طویل ترین رفاقتوں میں چھٹے نمبر پر ہے۔ یہ شاندار ریکارڈ سری لنکا کے مہیلا جے وردھنے اور کمار سنگاکارا کے پاس ہے۔ انہوں نے جولائی 2006ءمیں جنوبی افریقہ کے خلاف تیسری وکٹ پر 624 رنز بنائے تھے۔ صرف 14 رنز پر دو وکٹیں حاصل کرنے کے بعد جنوبی افریقہ کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا کہ اب ان کے ساتھ کیا ہونے جا رہا ہے۔ کمار سنگاکارا 287 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے جبکہ جے وردھنے نے 374 رنز اسکور کیے۔

البتہ ووجس-مارش کی شراکت داری کو آسٹریلیا کی سرزمین پر طویل ترین اور ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ کرکٹ کی سب سے لمبی رفاقت کا اعزاز بھی حاصل ہوا ہے جبکہ یہ کسی بھی وکٹ کے لیے آسٹریلیا کی دوسری سب سے بڑی ساجھے داری بھی ہے۔

دو ایسے کھلاڑیوں کی جانب سے اتنی شاندار اننگز کھیلنا، جن کا قومی ٹیم میں مقام مضبوط نہیں، ظاہر کرتا ہے کہ آسٹریلیا میں دوسری صف کے کھلاڑی بھی کس پائے ہیں۔

Facebook Comments