مین آف دی میچ، ڈی آر ایس!

چٹاگانگ میں بنگلہ دیش کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں کامیابی کا سہرا بین اسٹوکس کے سر باندھا جا رہا ہے جو بظاہر ٹھیک بھی لگتا ہے۔ بین کی آل راؤنڈ کارکردگی نے ہی میزبان سے فتح کا خواب چھینا اور مرد میدان قرار بھی بنایا۔ لیکن جب کھلاڑیوں کی کارکردگی کا ٹیکنالوجی کے ساتھ تقابل کیا جائے تو کہنا پڑے گا کہ انگلش دستے کی جیت میں زیادہ اہم کردار "ڈی آر ایس" کا تھا کیونکہ اگر یہ نظام نہ ہوتا تو امپائروں کے فیصلے مہمان دستے کی لٹیا ڈبو چکے ہوتے۔ یعنی دلچسپ پیرائے میں کہا جائے تو مرد میدان ایوارڈ کا اصل حقدار بین اسٹوکس سے زیادہ ڈی آر ایس بنتا ہے۔

تفصیل کچھ یوں ہے کہ چٹاگانگ ٹیسٹ میں امپائر کے فیصلوں کے خلاف ریکارڈ 26 مرتبہ ڈی آر ایس سے رجوع کیا گیا ، جن میں سے 11 مرتبہ انگلینڈ کو کامیابی نصیب ہوئی، 7 فیصلوں کو برقرار رکھا گیا جبکہ 4 مرتبہ فیصلہ بنگلہ دیش کے حق میں گیا۔ اب اندازہ لگائیں کہ یہ سسٹم نہ ہوتا تو میچ کا نتیجہ کیا ہوتا؟

انگلینڈ کے حق میں پانچ فیصلے ان کی بیٹنگ کے دوران آئے جن میں سے تین تو ایک اوور میں ہی دیے گئے۔ شکیب الحسن نے اپنے ایک اوور میں تین مرتبہ معین علی کے خلاف ایل بی ڈبلیو کی اپیل کی اور ہر مرتبہ امپائر کمار دھرنا سینا تسلیم کرتے ہوئے آؤٹ قرار دیا مگر ہر بار ڈی آر ایس نے فیصلہ معین علی کے حق میں لوٹا دیا۔ اس کے علاوہ بھی دو فیصلے واپس ہوئے جنہیں بنگلہ دیش کے حق میں دے دیا گیا تھا۔ اتنی مرتبہ نئی زندگی ملنے کا معین نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور نصف سنچری بنا ڈالی۔ جبکہ دوسری طرف 'بنگال کے شیروں' کو اس نظام سے سخت نقصان ہوا کیونکہ میزبان دستے نے 13 مرتبہ ڈی آر ایس سے رابطہ کیا مگر صرف 4 ہی حق میں ہوئے باقیوں میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں:  آسٹریلیا نے سری لنکا کا حال پاکستان والا کردیا

بہرحال اس سسٹم کی بدولت دونوں ٹیموں کے حق میں فیصلوں کی شرح کچھ بھی رہی ہو، اصل چیز یہ ہے کہ ڈی آر ایس کی افادیت ثابت ہو گئی کہ یہ کام کر رہا ہے۔ جہاں ایک غلط فیصلہ پورے میچ کا نقشہ بدل سکتا ہے وہاں اس سسٹم نے غلطی کی گنجائش کو بہت کم کر دیا گیا ہے۔

برصغیر کی وکٹوں پر امپائر دیگر ملکوں کی نسبت زیادہ دباؤ کا شکار رہتے ہیں جس کی وجہ دھیمی وکٹ اور اسپنر کا زیادہ استعمال ہے کیونکہ ان دونوں کے ملاپ سے ایل بی ڈبلیو کے امکانات زیادہ نکلتے ہیں۔ مگر سری لنکن امپائر کمار دھرماسینا کا میزبان بنگلہ دیش کی طرف جھکاؤ ضرورت سے زیادہ تھا، ان کے 16 فیصلوں پر اعتراض ہوا اور سسٹم نے 8 فیصلے غلط ثابت کر دیے جو کہ غیر معمولی تعداد ہے۔ چند سال پہلے 'سال کے بہترین امپائر' کا اعزاز جیتنے والے کمار کے لیے یہ میچ کسی بھیانک خواب سے کم نہیں تھا۔

Kumar-Dharmasena

Facebook Comments