کیا انگلستان بھارت کو "پھر" شکست دے سکتا ہے؟

انگلستان نے جب آخری بار 2012ء میں بھارت کا دورہ کیا تھا تو 28 سال بعد ایک تاریخی کامیابی سمیٹی تھی۔ لیکن تب سے اب تک ایشیائی سرزمین انگریزوں پر کچھ خاص مہربان نہیں ہے۔ انگلستان نے دو مرتبہ یہاں کے دورے کیے اور حوصلہ افزا نتائج نہیں پائے۔ جیسا کہ 2015ء میں پاکستان کے ہاتھوں متحدہ عرب امارات میں دو-صفر سے ہارا، یہاں تک کہ گزشتہ ماہ بنگلہ دیش تک سے جیتنے میں ناکام رہا اور سیریز ایک-ایک سے برابر کھیلی۔ اس صورت حال میں بھارت کے دورے پر انگلستان سے کچھ زیادہ امیدیں وابستہ نہیں لیکن یہ بات جان رکھیں کہ 15 میں سے پانچ سیریز انگلستان نے یہاں جیتی ہیں جن میں 76ء، 80ء، 84ء اور اس کے بعد 2012ء کی سیریز بھی شامل ہیں جبکہ تین سیریز برابر بھی ہیں۔

بھارت انگلستان کے مقابلے میں جتنا چاہے فیورٹ ہو لیکن مہمان ٹیم میں اتنی صلاحیت ضرور موجود ہے کہ وہ کوہلی الیون کو ناکوں چنے چبوا سکے۔ جس ٹیم میں جو روٹ جیسا بلے باز ہو، بین اسٹوکس اور معین علی جیسے آل راؤنڈرز، جانی بیئرسٹو جیسا وکٹ کیپر ہو اور اسٹورٹ براڈ جیسا فاسٹ باؤلر، اسے آخر کس طرح نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟

بلاشبہ بھارت کو 'ہوم گراؤنڈ' کی برتری حاصل ہے، میدان میں ہزاروں تماشائی ان کے حوصلے بلند کر رہے ہوں گے، حالیہ فتوحات کی بنیاد پر اعتماد بھی آسمان کو چھو رہا ہوگا لیکن یہ بات بھارت کو بھی معلوم ہے کہ اسے سخت مقابلہ درپیش ہوگا۔ انگلستان ہرگز نیوزی لینڈ جیسا تر نوالہ نہیں ہے۔ اس نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے خلاف سیریز میں ضرور حوصلہ افزا نتائج حاصل نہیں کیے لیکن مقابلے بہت دلچسپ کھیلے ہیں۔ جہاں ایک سیشن میچ کا رخ پلٹ سکتا تھا، بس بدقسمتی یہ رہی کہ ان اہم مراحل پر انگلستان بالادست مقام حاصل نہ کر سکا اور یوں شکست کھا بیٹھا۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان کے لیے 250 کا معمولی ہدف بھی ہمالیہ جیسا

اب بھارت-انگلستان پہلا ٹیسٹ دوسرے دن میں داخل ہو چکا ہے۔ انگلستان نے 350 رنز کی نفسیاتی حد بھی عبور کرلی ہے اور ابھی بھی آدھے سے زیادہ وکٹیں باقی ہیں۔ جو روٹ اور معین علی کی سنچریوں نے بھارت پر واضح کردیا ہے کہ اسے آسان حریف نہ سمجھا جائے۔ انگلستان نے پہلا تاثر تو بہت اچھا دیا ہے، لیکن کیا یہی تاثر دیرپا ثابت ہوگا؟ اس کے لیے ہمیں کچھ دن راجکوٹ پر نظریں جمانی ہوں گی۔ اگر انگلستان یہاں اچھا نتیجہ فراہم کرنے میں کامیاب ہوگیا تو اگلے مقابلے میں جیمز اینڈرسن کی واپسی سے اس کے حوصلے مزید بلند ہو سکتے ہیں اور عین ممکن ہے کہ وہ چار سال پہلے کی تاریخ بھی دہرا دے۔

Facebook Comments