’’مرحومین‘‘ کی خدمات کا ’’اعتراف‘‘!!

بڑی قومیں ہمیشہ اپنے ہیروز کو یاد رکھتی ہیں اور ان کی قدر کرتی ہیں کیونکہ آنے والی نسلوں کو اُن ہیروز کے کارناموں سے آگاہ کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ پاکستان کرکٹ میں بھی ایسے کئی گمنام ہیرو موجود ہیں جو انٹرنیشنل سطح پر زیادہ نہ کھیلنے کے باعث لوگوں کی یاداشت سے محو ہوچکے ہیں جبکہ 80ء کی دہائی سے پہلے کھیلنے والے کھلاڑیوں کی اکثریت کو مالی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ان مشکلات کا کچھ حد تک ازالہ کرنے کیلئے شارجہ میں پاکستانی اور بھارتی کھلاڑیوں کے بینیفٹ کا سلسلہ شروع کیا تھا جو کئی سال پہلے بند ہوچکا ہے جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے سابق کھلاڑیوں کو پنشن کی مد میں بھی جو رقم دی جاتی ہے وہ بھی اتنی نہیں کہ باآسانی گزر بسر کی جاسکی۔جن کھلاڑیوں نے پاکستان کرکٹ کے ابتدائی برسوں میں نامسائد حالات کے باوجود وطن عزیز کا پرچم بلند کرنے کیلئے اپنی کوششیں کی اُن کو عزت و احترام دینا پاکستان کرکٹ بورڈ پر لازم ہے اور اسی سلسلے میں پی سی بی نے سابق اسٹارز کی خدمات کا اعتراف ایک نئے انداز میں کیا ہے جو یقینی طورپر قابل ستائش ہے۔

6فروری کو دبئی میں پاکستان سپر لیگ کی ٹرافی کی رونمائی کی گئی جسے ’’اسپرٹ ٹرافی‘‘ کا نام دیا گیا اور امید کی جارہی ہے کہ پانچوں ٹیمیں اس ٹرافی کیلئے ہونے والی جنگ میں اسپورٹس مین اسپرٹ کو برقرار رکھیں گی۔ چمکدار ٹرافی کے علاوہ انفرادی اعزازت کیلئے بھی ٹرافیوں کی رونمائی کی گئی اور سب سے عمدہ بات یہ تھی کہ بہترین بیٹسمین، بہترین بالر اور بہترین وکٹ کیپر کے اعزازات کو ماضی کے عظیم پاکستانی کھلاڑیوں حنیف محمد، فضل محمود اور امتیاز احمد کے ناموں سے موسوم کیا گیا۔ ماضی کے یہ تینوں سپر اسٹارز اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ نیلی آنکھوں والے جادوگر فاسٹ بالر فضل محمود کے انتقال کو ایک عشرہ بیت چکا ہے جبکہ حنیف محمد اور امتیاز احمد کو اپنے مداحوں سے جدا ہوئے زیادہ دن نہیں ہوئے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان عظیم کھلاڑیوں کے نام سے اعزازات جاری کرکے ایک عمدہ مثال قائم کی ہے جو پاکستان کرکٹ کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے والے اولین معماروں کیلئے خراج عقیدت بھی ہے۔ اب پی سی بی کو چاہیے کہ فائنل کے موقع پر ان تینوں کھلاڑیوں کے اہل خانہ سے یہ اعزازات جیتنے والے کھلاڑیوں کو دلوائے جائیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی ایس ایل کی رنگینیوں میں تین عظیم پاکستانی کرکٹرز کو یاد رکھتے ہوئے نئی روایت کا آغاز کیا ہے جو قابل ستائش ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کسی بھی بڑے انسان کو عزت و تکریم دینے کیلئے اس کی موت کا انتظار کیوں کیا جاتا ہے؟کچھ عرصہ قبل امتیاز احمد صاحب کا انتقال ہوا تو پی سی بی نے ان کے نام سے ڈومیسٹک کرکٹ میں ’’اسپرٹ آف کرکٹ‘‘ ٹرافی متعارف کروادی اور اب پی ایس ایل کے بہترین وکٹ کیپر کا اعزاز بھی ریکارڈ ساز سابق کپتان امتیاز احمد کے نام سے موسوم کردیا گیا ہے۔ اسی طرح جب حنیف محمد صاحب زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھے تو اُس وقت پی سی بی کو لٹل ماسٹر کی خدمات یاد نہیں آئیں مگر ورلڈ ریکارڈ ہولڈر کی زندگی کی اننگز ختم ہوتے ہی نہ صرف اُن کی شان میں قصیدے لکھے گئے بلکہ پی سی ایل کی ایک ٹرافی بھی حنیف صاحب کے نام کردی گئی ہے اور اس سے پہلے کراچی کی کرکٹ اکیڈمی بھی حنیف محمد کے نام سے موسوم کی گئی۔ یہی صورتحال عظیم فاسٹ بالر فضل محمود صاحب کیساتھ بھی روا رکھی گئی تھی اور ان کے انتقال کے دس برس بعد بھی پی سی بی کے کسی چیئرمین کو یہ خیال نہیں آیا کہ کوئی اعزاز پاکستان کرکٹ کے پہلے سپر اسٹار کے نام سے موسوم کردیا جائے۔

جہاں ان تین بڑے کھلاڑیوں کے نام سے پی ایس ایل کی ٹرافیاں موسوم کی گئیں وہاں ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی کی ٹرافی ’’بے نام‘‘ ہی رہی جسے باآسانی پاکستان کے اولین ٹیسٹ کپتان عبدالحفیظ کاردار کے نام سے معتبر کیا جاسکتا تھا یا پھر اسے عمران خان ٹرافی کا نام بھی دیا جاسکتا تھالیکن ایسا نہیں کیا گیا۔گزشتہ پچیس تیس برسوں کے دوران عظمت کی بلندیوں کو چھونے والے پاکستانی کرکٹرز کو کسی گنتی میں شمار نہیں کیا جاتا کیونکہ پی سی بی کے کھاتوں میں کسی سابق کھلاڑی کو اعزاز کے قابل سمجھنے کی پہلی شرط ’’مرحوم‘‘ ہونا ہے۔کیا عظیم بیٹسمین یونس خان کو ان اعزازات کا اہل ہونے کیلئے ریٹائرمنٹ کے بعد پچیس تیس انتظار کرنا ہوگا؟ پاکستان کیلئے سب سے زیادہ ٹیسٹ رنز بنانے والے بیٹسمین کو اس کے کیرئیر کے درمیان کوئی بڑا اعزاز یا رتبہ نہ دینے کے پیچھے آخر کیا منطق ہے؟کیا پاکستان کرکٹ بورڈ کے اپنے اسٹیڈیمز کو عظیم کھلاڑیوں کے ناموں سے موسوم نہیں کرسکتا ؟یا اُن کے ناموں کیساتھ غیر ملکی سربراہوں اور شہروں کے ناموں کا لاحقہ لگانا ضروری ہے؟

حنیف محمد، فضل محمود اور امتیاز احمد کے ناموں سے ٹرافیوں کا اجرا ء کرکے ایک اچھی روایت شروع کی گئی ہے مگر آنے والے دنوں میں اس روایت میں وسعت لانے کی بھی ضرورت ہے جس کیلئے اسٹیڈیمز کے نام بھی تبدیل کیے جاسکتے ہیں اور ڈومیسٹک کرکٹ کے مختلف اعزازات کو ماضی کے بڑے کھلاڑیوں کے ناموں سے منسوب کیا جاسکتا ہے جو نہ صرف ان کھلاڑیوں کی خدمات کا ادنیٰ سا اعتراف ہوگا بلکہ نئی نسل کو بھی ان کے ناموں اور کارناموں سے آگاہی ہوگی۔

پی ایس ایل کے بہترین وکٹ کیپر کے لیے "امتیاز احمد ٹرافی"

پی ایس ایل کے بہترین وکٹ کیپر کے لیے "امتیاز احمد ٹرافی"


بہترین باؤلر کے لیے "فضل محمود ٹرافی"

بہترین باؤلر کے لیے "فضل محمود ٹرافی"

Facebook Comments