پی ایس ایل کی بقا کے لیے کرکٹ پاکستان میں واپس لانا ہوگی، ڈین جونز

ڈین جونز آسٹریلیا کے سابق بلے باز ہیں اور اب کوچنگ کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ وہ پاکستان سپر لیگ کے دونوں سیزنز میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے کوچ رہے ہیں اور حال ہی میں کھیلے گئے پی ایس ایل2 کے فائنل میں شرکت کے لیے لاہور آئے تھے۔ اس تاریخی موقع پر انہوں نے آسٹریلیا کے اخبار 'دی ایج' کے لیے ایک کالم لکھا ہے جس کا عنوان "کیا آپ لاہور میں کرکٹ کھیلنا چاہیں گے؟" ہے۔ یہ اتنی مدلل اور عمدہ تحریر ہے کہ اسے لازمی اردو پڑھنے والے قارئین تک بھی پہنچنا چاہیے اس لیے کرک نامہ اس تحریر کا ترجمہ آپ کے لیے پیش کر رہا ہے۔


تحریر: ڈین جونز

پچھلے ہفتے مجھے ایک کٹھن صورت حال کا سامناتھا۔ فیصلہ کرنا تھا کہ آیا پاکستان سپر لیگ فائنل کے لیے حکومت آسٹریلیا اور بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے مشورے پر عمل کروں یا تمام خطروں کو کو بالائے طاق رکھے ہوئے لاہور کا سفر کروں۔ یہ 1996ء کے ورلڈ کپ فائنل کے بعد پاکستان میں کھیلوں کی تاریخ کا سب سے بڑا میلہ تھا اور میں اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا خاص طور پر اس لیے کہ ہو سکتا ہے اگلے سال میری ٹیم اسلام آباد یونائیٹڈ پی ایس ایل میں اپنے میچز پاکستان میں کھیلے۔

اس لیے مجھے حفاظتی اقدامات کے وعدے کو پورا ہوتے دیکھنے کی ضرورت تھی۔ کئي غیر ملکی کھلاڑی اور کمنٹیٹرز پاکستان جانے سے انکار کر چکے تھے۔ مجھے ان کے فیصلے سے کوئی پریشانی نہیں تھی، لیکن میں تجربہ لینا چاہتا تھا کہ پاک فوج اور پولیس کس طرح مہمان کھلاڑیوں اور عہدیداروں کو اعتماد فراہم کرتی ہے۔

اس سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ملکوں کو دورے کے لیے خطرناک قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت کے بارے میں کوئی کچھ نہیں کہتا حالانکہ 2016ء میں بھارت میں کئی بم دھماکے ہوئے ہیں۔

بلاشبہ 2009ء میں سری لنکا کی ٹیم کے ساتھ لاہور میں جو کچھ ہوا اس کی بھیانک یادیں آج بھی ہمارے ذہنوں سے چمٹی ہوئی ہیں۔ سری لنکا کی کرکٹ ٹیم اور امپائروں اور آفیشلز کی بس کو دہشت گردوں نے ہدف بنایا اور آٹھ افراد مارے گئے۔ اس کے بعد سے اب تک صرف ایک بین الاقوامی ٹیم زمبابوے نے 2015ء میں پاکستان کا دورہ کیا ہے۔ اس لیے مجھے پی ایس ایل کے چیئرمین نجم سیٹھی سے بات کرنے کی ضرورت پڑی تاکہ اعتماد حاصل کر سکوں۔ سیٹھی نے کہا کہ "میں یقین دلا سکتا ہوں کہ کھلاڑیوں کی حفاظت کی ضمانت دی جاتی ہے۔ ہم پاکستان کو دنیا کے سامنے لانا چاہتے ہیں اور ہم دہشت گردوں کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔ فائنل ایک زبردست ماحول میں کھیلا جائے گا جہاں میدان کے گرد پانچ میل کا علاقہ مکمل محفوظ ہوگا۔ اس کے علاوہ ہم پاکستان میں کرکٹ کو واپس لانا چاہتے ہیں۔ ہمارے پاس آئی سی سی، فیکا (فیڈریشن آف انٹرنیشنل کرکٹرز ایسوسی ایشن) اور انگلینڈ کے سکیورٹی مشیران ہیں جو سب کچھ دیکھیں گے کہ اس مقابلے کی میزبانی کے لیے کیا کیا منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بھارتی کرکٹ بورڈ کا حکومت کو خط؛ شوشہ یا حقیقت؟

یہ فیصلہ پاکستان کرکٹ اور پاکستان سپر لیگ کے مستقبل کے لیے بہت اہم ہے۔ پی ایس ایل کی ایک ٹیم کے کوچ کی حیثیت سے میری رائے تو یہی ہے کہ یہ لیگ بہت شاندار ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ متحدہ عرب امارات میں جاری رہ کر یہ زندہ رہ سکے گی۔ پی ایس ایل کو اگلے مرحلے تک لے جانے کے لیے پاکستان لے جانے کی سخت ضرورت ہے جہاں شائقین معیاری کرکٹ دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں۔

لوگ بھول گئے ہیں کہ دوسرے ملکوں میں دہشت گردی کی سرگرمیاں ہوتی ہیں تو کرکٹ ٹیموں نے کیا ردعمل دکھایا۔ 1984ء میں جب بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی اور بمبئی میں نائب برطانوی ہائی کمشنر کو قتل کیا گیا تب بھی انگلستان نے اگلے ہفتے بھارت کا دورہ کیا تھا۔ جب آسٹریلیا 2005ء میں انگلستان میں کھیل رہا تھا تو لندن کے ایک انڈر گراؤنڈ اسٹیشن میں دھماکا ہوا تھا، 50 سے زیادہ لوگ مارے گئے اور 700 زخمی ہوئے۔ لیکن آسٹریلیا دورہ جاری رکھتے ہوئے اسے مکمل کرنے پر راضی تھا۔ ممبئی میں 2008ء میں 160 سے زیادہ لوگ مارے گئے اور 600 زخمی ہوئے لیکن صرف چند ہفتوں بعد انگلینڈ نے بھارت کا دورہ کیا۔ 2010ء میں انڈین پریمیئر لیگ کے دوران بنگلور کے چناسوامی اسٹیڈیم کے اندر میچ کے دوران دو بم پھٹے، 15 افراد زخمی ہوئے۔ اگلے روز ایک اور اسٹیڈیم کے باہر بم کو ناکارہ بنایا گیا لیکن ٹورنامنٹ جاری رہا ۔

کھلاڑیوں کے تحفظ اور ان کی فلاح کو بہرصورت اولین دینی چاہیے لیکن کسی بھی ملک کے دورے کے معاملے میں فیصلوں پر غیر مستقل مزاجی نظر آتی ہے۔ بلاشبہ پاکستان میں حال ہی میں دہشت گردی کے واقعات ہوئے ہیں جن سے خوف بھی پھیلا ہے لیکن یہ مت بھولیں کہ 2015ء میں میلبرن میں ہونے والے ورلڈ کپ فائنل سے پہلے بھی سکیورٹی کے زبردست خطرات تھے۔

پاک فوج اور پولیس نے لاہور فائنل کو حقیقت دینے کے لیے پوری تندہی سے کام کیا اور تمام خدشات کے مقابلے میں بہترین حفاظت فراہم کی۔ تو اگر آپ شین واٹسن،کرس گیل، کیون پیٹرسن یا کمار سنگاکارا ہوتے تو کیا آپ لاہور میں کھیلتے؟ اس مرتبہ تو ان سب سے پاکستان جانے سے انکار کیا۔ لیکن اگر آپ کو پیش کی جانے والی سکیورٹی کے بارے میں معلوم ہو تو کیا آپ ایک دن کے لیے جائیں گے؟ آسٹریلیا اور دوسرے ملکوں کے کھلاڑیوں نے رواں سال بنگلہ دیش پریمیئر لیگ کھیلنے پر رضامندی ظاہر کی حالانکہ آسٹریلیا نے سکیورٹی مسائل کی وجہ سے بنگلہ دیش کے دورے سے انکار کردیا تھا۔

اگر پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ واپس نہ آئی تو پی ایس ایل مر جائے گی اور وہ خواب بھی جو ان ننھی آنکھوں میں جگمگا رہے ہیں کہ ایک دن ہم بھی اپنے ملک کی طرف سے کرکٹ کھیلیں گے۔

خوش قسمتی سے پی ایس ایل فائنل بہت کامیاب رہا۔ غیر ملکی کھلاڑیوں اور آفیشلز کی خوب آؤ بھگت کی گئی۔ تو اگر اسی سطح کی سکیورٹی فراہم کی جائے کیا بین الاقوامی ٹیمیں پاکستان جانے پر غور کریں گی؟

Misbah-Wasim-Dean-Jones

Facebook Comments