لفظی جنگ کا باقاعدہ آغاز: گنگولی کی مائیکل وان پر کڑی تنقید، روی شاستری اور ناصر حسین الجھ پڑے

بھارت اور انگلستان کے مابین سیریز تنازعات میں گھرتی چلی جا رہی ہے اور جیسے جیسے سیریز آگے بڑھ رہی ہے 'لفظی جنگ' میں اضافہ ہوتا جائے گا۔

گزشتہ روز سابق انگلش کپتان مائیکل وان کی جانب سے وی وی ایس لکشمن پر لگائے گئے الزام کی بھارت کے سابق قائد سارو گنگولی کی جانب سے زبردست مذمت کی گئی ہے اور انہوں نے مائیکل وان کے بیان کو "مضحکہ خیز" قرار دیتے ہوئے اسے مہمان ٹیم کے خلاف نفسیاتی جنگ کے مترادف قرار دیا ہے۔

سارو گنگولی کا کہنا ہے کہ دنیا بھارت سے حسد کر رہی ہے

سارو گنگولی کا کہنا ہے کہ دنیا بھارت سے حسد کر رہی ہے

سابق کپتان سارو گنگولی نے کہا ہے کہ "یہ کسی بھی طرح قابل قبول نہیں کہ بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے کا تجربہ رکھنے والا ایک کھلاڑی دوسرے پر اس طرح کا بیان داغے۔ انہوں نے کہا کہ "کمنٹری باکس میں موجود سنیل گواسکر نے بھی وان کو آڑے ہاتھوں لیا اور تجویز پیش کی کہ لکشمن کو وان کو عدالت میں گھسیٹنا چاہیے۔"

انہوں نے کہا کہ سابق انگلش کپتان نفسیاتی جنگ میں بھارت پر غلبہ پانے کی کوشش کر رہے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ انہیں ایسے بیان جاری کرنے کے لیے کون اکسا رہا ہے۔ اگر آپ سیریز جیتنا چاہتے ہیں تو ایمانداری سے جیتیں۔ یہ آسٹریلین میڈیا والی حرکتیں نہ کریں۔ یہ اوچھے ہتھکنڈے ماضی میں بھی اپنائے جاچکے ہیں، مجھے بھی اپنی کپتانی کے دور میں بھی ان کا سامنا رہا۔

وان نے ہفتہ کے ٹرینٹ برج ٹیسٹ کے دوسرے روز وی وی ایس لکشمن کا ایک آؤٹ نہ دیے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ میرے خیال میں ویزلین کے استعمال نے لکشمن کو بچا لیا ہے۔ اس پر ایک ہنگامہ کھڑا ہو چکا ہے تاہم مائیکل وان ایک اور ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ویزلین معاملے پر کچھ زیادہ ہی ردعمل دکھا دیا گیا ہے۔ عدالت میں مقدمہ تک زیر بحث آ چکا، میرے خیال میں آدمی کی حس مزاح اچھی ہونی چاہیے۔

اس کے جواب میں گنگولی نے بھی ایک ٹویٹ کیا ہے اور کہا ہے کہ "وان نے وہ حاصل کر لیا ہے جو وہ چاہتے تھے - یعنی توجہ۔"

گنگولی نے مزید کہا کہ دنیا بھر کے لیے یہ بات ہضم کرنا مشکل ہے کہ بھارت ٹیسٹ کرکٹ میں نمبر ایک بن چکا ہے اور ساتھ ساتھ عالمی چیمپئن بھی۔ یہ بھارتی ٹیم کے حوصلوں کو پست کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ ہم دنیا کی بہترین ٹیم ہیں، ہم عالمی چیمپئن ہیں، ہمارے پاس آئی پی ایل ہے جہاں دنیا بھر کے کھلاڑی کھیلتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دعوے کرنا بہت آسان ہے بالکل ایسا ہی جیسے ایشیز 2005ء میں انگلستان کی فتح پر کوئی بھی اٹھ کر کہہ دے کہ انگلش فتح میں اہم کردار اس کے تیز گیند بازوں کی جانب سے ریورس سوئنگ کے لیے گیند سے چھیڑ چھاڑ کرنا تھا۔

بھارت اور انگلستان کے مابین فضاء مزید مکدر ہوتی جا رہی ہے اور دوسرے ٹیسٹ کے تیسرے روز کمنٹری کے دوران ناصر حسین اور روی شاستری لفظی جنگ میں الجھ پڑے۔ شاستری نے ناصر کے ایک کالم کو آڑے ہاتھوں لیا اور گنگولی کے الفاظ ہی استعمال کیا ہے کہ بھارت کے نمبر ایک ٹیم ہونے، عالمی چیمپئن ہونے اور آئی پی ایل کے باعث دنیا اس سے حسد کر رہی ہے جبکہ ناصر حسین نے کہا کہ انہیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ ڈی آر ایس کے معاملے پر بھارت کے رویے پر لکھیں اور بولیں، 95 ٹیسٹ میچز کا تجربہ انہیں حقدار بناتا ہے کہ وہ کسی غلط فیصلے پر تنقید کریں جبکہ ادارہ پیسے بھی اسی بات کے دیتا ہے کہ میں کرکٹ پر تبصرہ کروں۔ بہرحال، دونوں کے درمیان یہ لفظی جنگ زيادہ دیر جاری نہیں رہی لیکن شائقین کرکٹ کو ایک یادگار لمحہ عطا کر گئی۔

موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے خدشہ ہے کہ سیریز مزید تنازعات میں الجھتی جائے گی، حالانکہ بھارتی کپتان مہندر سنگھ دھونی نے گزشتہ روز این بیل کو میدان میں واپس بلا کر اس خطرے کو کافی کم کر دیا ہے لیکن ابھی سیریز میں بہت کچھ باقی ہے۔

Facebook Comments