بھاگ کوہلی بھاگ!

0 2,382

صرف 205 ون ڈے میچز میں 9348 رنز اور وہ بھی 34 سنچریوں کے ساتھ، یہ ہیں دنیائے کرکٹ کے بے تاج بادشاہ ویراٹ کوہلی!

کیپ ٹاؤن میں جنوبی افریقہ کے خلاف تیسرے ایک روزہ میں کوہلی کے تاج میں ایک اور نگینے کا اضافہ ہوا ہے، جو ان کی 34 ویں سنچری جس میں انہوں نے 160 رنز کی ناٹ آؤٹ باری کھیلی۔ یہ کھیلی گئی گیندوں کے اعتبار سے کوہلی کی سب سے لمبی اننگز تھی، جس میں انہوں نے 159 گیندوں کا سامنا کیا۔ البتہ رنز کے اعتبار سے سب سے بڑی اننگز نہیں۔ کوہلی نے ایشیا کپ 2012ء میں پاکستان کےخلاف 183 رنز بنائے تھے جو آج بھی ان کا بہترین انفرادی اسکور ہے۔

لیکن یہ 160 رنز کی اننگز کئی لحاظ سے خاص تھی۔ ایک تو یہ دھواں دار نہیں بلکہ بہت ذمہ دارانہ اننگز تھی، جس کا اندازہ آپ بھاگ کر بنائے گئے رنز سے لگا سکتے ہیں۔ ان 160 میں سے صرف 60 رنز باؤنڈریز کی صورت میں لیے گئے، باقی پورے 100 رنز دوڑ کر بنائے گئے۔ ان میں 75 سنگلز، 11 ڈبلز اور ایک بار دوڑ کر بنائے گئے تین رنز شامل ہیں۔

ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ میں صرف چار بیٹسمین ایسے ہیں جنہوں نے اپنی کسی ایک اننگز کے دوران دوڑ کر 100 رنز بنائے ہوں۔ 1996ء کے عالمی کپ میں گیری کرسٹن نے متحدہ عرب امارات کے خلاف اپنی کیریئر بیسٹ 188 رنز کی اننگز میں 100 رنز دوڑ کر بنائے تھے۔ ان کے ہم وطن فف دو پلیسی نے بھی اپنی 185 رنز کی اننگز میں سے 103 رنز دوڑ کر حاصل کیے تھے۔ بھاگ بھاگ کر سنچری بنانے والوں میں آسٹریلیا کے ایڈم گلکرسٹ کی 172 اور نیوزی لینڈ کے مارٹن گپٹل کی 189 رنز کی اننگز بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ اب کوہلی پانچویں بیٹسمین جو اس بھاگم دوڑی کے ریکارڈ میں شامل ہوئے ہیں۔

یہ بحیثیت کپتان کوہلی کی 12 ویں سنچری تھی یعنی وہ بطور قائد سب سے زیادہ سنچریاں بنانے والے بھارتی بیٹسمین بھی بن چکے ہیں۔ اس سے پہلے سب سے زیادہ سنچریاں بنانے والے بھارتی کپتان سارو گانگلی تھے۔ ویسے سب سے زیادہ سنچریاں بنانے والے کپتان آسٹریلیا کے رکی پونٹنگ ہیں جنہوں نے 22 سنچریاں بنائی تھیں۔ ان کے بعد جنوبی افریقہ کے اے بی ڈی ولیئرز کا نام ہے جو 13 سنچریاں بنا کر کوہلی سے ایک قدم آگے ہیں۔

بھارت-جنوبی افریقہ سیریز میں اور بھی کئی ریکارڈز ٹوٹ سکتے ہیں جیسا کہ ابھی تو سیریز کے صرف تین میچز ہوئے ہیں اور اتنے ہی باقی ہیں، لیکن کوہلی ابھی سے 318 رنز بنا چکے ہیں۔ جس سرزمین پر انہوں نے کبھی کوئی سنچری نہیں بنائی تھی، وہاں تین میچز میں دو بنا چکے ہیں۔ جس کی بدولت وہ کرکٹ کھیلنے والے تمام ٹاپ 10 ملکوں میں سنچریاں بنانے والے بیٹسمینوں میں بھی شامل ہو چکے ہیں۔

نجانے یہ لڑکا کتنے ریکارڈ توڑے گا؟