سپر اوور میں لاہور کامیاب و کامران، کراچی کی مایوس کن شکست

0 563

اے کاش کہ لاہور کو کچھ دن پہلے ہوش آ جاتا اور وہ چند ایسی کامیابیاں حاصل کرلیتا تو اب بھی ٹائٹل کی دوڑ میں شامل ہوتا۔ بہرحال، اب تو ایسا ممکن نہیں لیکن جاتے جاتے لاہور نے شائقین کرکٹ کو پاکستان سپر لیگ کی تاریخ کا ایک اور یادگار اور سنسنی خیز مقابلہ بھی دیا اور روایتی حریف کراچی کنگز کو نمبر ایک بننے سے بھی روک دیا ہے۔ ایک ایسا مقابلہ جو سپر اوور تک گیا، جہاں لاہور نے حیران کن کامیابی حاصل کی، جس کے ہیرو تھے سپر اوور کرانے والے سنیل نرائن اور اس سے پہلے بیٹنگ میں نوجوان آغا سلمان، جنہیں مرد میدان کا اعزاز بھی ملا۔

دبئی میں ہونے والے راؤنڈ مرحلے کے اس آخری مقابلے میں وہ سب کچھ تھا جو کسی کراچی-لاہور مقابلے میں ہونا چاہیے۔کراچی کو پہلے کھیلنے کی دعوت ملی۔ لاہور کے فیلڈرز کی فیاضی تھی، جس کی وجہ سے لینڈل سیمنز اور بابر اعظم نے 72 رنز کی رفاقت کی۔ سیمنز 39 گیندوں پر 55 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔ تب اسکور بارہویں اوور میں 91 رنز تھا یعنی ایک بڑے مجموعے کی راہ ہموار تھی۔ لیکن بابر اعظم کے علاوہ کوئی بیٹسمین خاص کارکردگی نہیں دکھایا پایا۔ انہوں نے 49 گیندوں پر 61 رنز بنائے۔ آنے والے کولن انگرام، روی بوپارا اور شاہد آفریدی تینوں ناکام ہوئے اور 20 اوورز میں کراچی 163 رنز بنا پایا۔ ویسے تو یہ بھی کافی اسکور تھا لیکن جتنے بننے چاہئیں، اتنے رنز کراچی نہیں بنا پایا۔

جواب میں لاہور ہمیشہ کی طرح ایک مرتبہ پھر جیت کی پوزیشن میں آیا۔ بارہویں اوور میں ان کا اسکور 89 رنز تھا، وہ بھی صرف ایک وکٹ کے نقصان پر۔ یہاں فخر زمان کی 28 کی اننگز تمام ہوئی اور ایک اینڈ نوجوان آغا سلمان نے سنبھالااور 45 گیندوں پر 50 رنز کی بہت ذمہ دارانہ اننگز کھیلی۔ یہی وہ باری تھی جس نے لاہور کو مقابلے کی دوڑ میں شامل رکھا۔ آخری تین اوورز میں لاہور کو جیتنے کے لیے 33 رنز کی ضرورت تھی اور آغا سلمان کے ساتھ کپتان برینڈن میک کولم بھی کریز پر تھی۔ تب بابر اعظم اور لینڈل سیمنز کی مشترکہ کوشش سے ایک یقینی چھکا کیچ میں تبدیل ہوا اور آغا سلمان کی اننگز کا خاتمہ کرگیا۔

یہی سے میچ نے بھی پلٹا کھا لیا۔ اسی اوور کی آخری گیند پر عثمان شنواری نے میک کولم کو بھی آؤٹ کردیا اور کراچی کنگز میچ پر چھا گئے۔ 19 ویں اوور میں محمد عامر نے 8 رنز دے کر سہیل خان کی وکٹ بھی لے لی۔ آخری اوور میں لاہور کو جیتنے کے لیے پورے 16 رنز کی ضرورت تھی یعنی امکانات بہت کم تھے۔ یہاں پر سہیل اختر نے عثمان خان کو دوسری گیند پر چوکا اور تیسری پر ایک شاندار چھکا لگا کر مقابلے میں بجلی سی بھر دی۔ آخری تین گیندوں پر چار رنز کی ضرورت تھی۔ آخری گیند پر لاہور کو جیتنے کے لیے ضرورت تھی، تین رنز کی۔ سہیل اختر نے لانگ آن کی جانب ایک اونچا شاٹ لگایا اور کیچ آؤٹ ہوگئے۔ میدان میں کراچی کے کھلاڑیوں کا جشن شروع ہو گیا کیونکہ یہ نوید تھی ان کے ٹاپ پر آنے کی اور پلے-آف مرحلے میں پہنچنے کی۔ تماشائی بھی خوش تھے اور ٹیم انتظامیہ بھی ایک دوسرے کو مبارک باد دے رہی تھی، جب ری پلے سے معلوم ہوا کہ یہ ایک نو-بال تھی۔ عثمان شنواری میچ کے نازک ترین مرحلے پر ایک ایسی غلطی کر بیٹھے تھے، جس کی سزا بعد میں پوری ٹیم کو بھگتنا پڑی۔ اب نہ صرف لاہور کو ایک اضافی رن مل چکا تھا بلکہ ایک گیند بھی ملی، وہ بھی فری ہٹ! گلریز صدف نے اس گیند کا سامنا تو کیا لیکن فاتحانہ شاٹ نہ لگا پائے اور دوسرا رن دوڑتے ہوئے رن آؤٹ ہوگئے۔ یہی وجہ ہے کہ معاملہ سپر اوور میں چلا گیا۔

سپر اوور میں لاہور نے پہلے بلے بازی کی اور پہلی ہی گیند پر فخر زمان کا رن آؤٹ بھگتا۔ محمد عامر نے دو وائیڈ گیندیں ضرور دیں لیکن پانچویں گیند پر ایک چوکا کھانے کے سوا کوئی باؤنڈری نہیں تھی۔ لاہور 11 رنز بنانے میں کامیاب ہوا اور کراچی کو جیتنے کے لیے 12 رنز کا ہدف ملا۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف مقابلے میں لاہور 15 رنز کا دفاع نہیں کر پایا تھا۔ اس میچ میں برینڈن میک کولم نے گیند مستفیض الرحمٰن کو تھمائی تھی جو ناکام رہے تھے، جس کے بعد میک کولم پر سخت تنقید ہوئی تھی کہ انہیں یہ اوور 'سپر اوور اسپیشلسٹ' سنیل نرائن کو دینا چاہیے تھا۔ اس بار مستفیض تو تھے نہیں، میک کولم نے بھی پچھلی غلطی سے سبق سیکھا اور گیند نرائن کو ہی پکڑائی، جنہوں نے ایک مرتبہ پھر اپنی صلاحیت ثابت کرکے دکھائی۔ پہلی پانچ گیندوں پر صرف دو رنز دیے، جن میں میک کلیناگھن کے ایک خوبصورت کیچ کی بدولت ملنے والی کولن انگرام کی وکٹ بھی شامل تھی۔ سیمنز نے اوور میں چار گیندیں کھیلیں اور صرف دو رنز بنا سکے اور یہی وجہ ہے کہ آخری گیند پر لگایا گیا شاہد آفریدی کا چھکا بھی کراچی کے کام نہ آیا۔

اب پوائنٹس ٹیبل پر کراچی تیسرے نمبر پر ہے جبکہ لاہور کی اس کامیابی سے پشاور کے امکانات ایک مرتبہ پھر زندہ ہو گئے ہیں جو اپنے آخری دونوں میچز جیت کر پلے-آف مرحلے کے لیے کوالیفائی کر سکتا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ کراچی کے بھی دو میچز باقی ہیں اور ملتان کا بھی ایک مقابلہ ہے، جہاں کے نتائج ہی حقیقی فیصلہ کریں گے کہ آگے کون جائے گا؟ بہرحال، لاہور کی مسلسل دو کامیابیوں کے بعد رانا فواد صاحب کے چہرے پر مسکراہٹ لوٹ آئی ہوگی۔