جیتنا چاہتے ہیں بلوچستان کے عوام کے لیے، سرفراز احمد

0 700

پاکستان سپر لیگ کا تیسرا سیزن اب اپنے حتمی مرحلے میں داخل ہونے والا ہے اور دوڑ میں باقی رہ جانے والی تمام ٹیمیں پرامید ہیں کہ اس بار اعزاز ان کو ملے گا۔ اسلام آباد یونائیٹڈ مسلسل چھ کامیابیوں کے بعد خوفناک روپ میں ہے جبکہ دفاعی چیمپیئن پشاور زلمی نے گزشتہ روز کراچی کنگز کو بری طرح شکست دے کر اپنے ارادے ظاہر کردیے ہیں۔ پی ایس ایل تاریخ میں سب سے نمایاں کارکردگی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ہے جنہوں نے پہلے دونوں سیزنز میں سب سے زیادہ کامیابیاں حاصل کیں لیکن بدقسمتی کہ دونوں بار فائنل میں شکست کھا گئے۔ لیکن اب کوئٹہ کے کپتان سرفراز احمد پرامید ہیں کہ اس بار وہ بلوچستان کے عوام کو تحفہ دینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

ایک حالیہ انٹرویو میں سرفراز نے کہا کہ پلے آف تک پہنچنے کے بعد کوئٹہ کی نظریں فائنل پر ہوں گی اور پوری امید ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کو ایک بڑی خوش خبری دیں گے۔

بلوچستان میں امن و امان کی صورت حال گزشتہ کچھ عرصے میں کافی بہتر ہوئی ہے۔ سوموار کو بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صادق سنجرانی پاکستان کے ایوان بالا سینیٹ کے چیئرمین بنے ہیں، جو بلوچستان کے لیے بہت بڑی خبر ہے، اس پر اگر 25 مارچ کو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بھی پی ایس ایل جیت جائے تو بلوچستان کے عوام کی خوشیاں دوبالا ہو جائیں گی اور یہی سرفراز احمد چاہتے ہیں۔

قومی کپتان سرفراز نے کہا کہ میرا تعلق ویسے تو کراچی سے ہے اور میں نے اپنی تمام کرکٹ اسی شہر میں کھیلی لیکن پی ایس ایل میں میں کوئٹہ کی نمائندگی کر رہا ہوں اور پوری وفاداریاں گلیڈی ایٹرز کے ساتھ ہیں۔ میری اولین ترجیح ہے کوئٹہ کو کامیابی دلانا۔

پچھلے سال پاکستان سپر لیگ کا فائنل لاہور میں کھیلا گیا تھا جس کا پاکستان کرکٹ کو تو بہت فائدہ پہنچا لیکن کوئٹہ کے لیے یہ اچھی خبر نہيں تھی۔ اس کے تمام اہم کھلاڑیوں نے سکیورٹی وجوہات کی بناء پر پاکستان آنے سے انکار کردیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ وہ فائنل میں پشاور سے ہار گیا۔ اس مرتبہ بھی حالات سازگار نظر نہیں آتے کیونکہ اہم ترین بیٹسمین کیون پیٹرسن کے ساتھ ساتھ شین واٹسن اور جیسن روئے سمیت اہم غیر ملکی کھلاڑیوں کے پاکستان آنے کا امکان نہیں۔ اس صورت حال سے نمٹنا سرفراز احمد کے لیے بہت بڑا چیلنج ہوگا۔