کرس جارڈن پاکستان آنے کے لیے بے تاب

0 1,028

پاکستان سپر لیگ کا پہلا مرحلہ اپنے اختتام پر ہے، اور اس کے بعد پلے-آف مرحلے کا آغاز ہوگا جس میں فائنل سمیت چار مقابلے ہوں گے اور بیشتر پاکستان میں کھیلے جائیں گے، دونوں ایلی منیٹرز اور ان کے بعد فائنل بھی۔ ایلی منیٹرز کی میزبانی لاہور کرے گا جبکہ فائنل کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں ہوگا۔ یہی وہ مرحلہ ہے جو امتحان ہوتا ہے ہر ٹیم انتظامیہ کا بھی اور غیر ملکی کھلاڑیوں کا بھی۔

پچھلے سال کی طرح کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اس مرتبہ بھی اپنے بیشتر غیر ملکی کھلاڑیوں کی خدمات سے محروم رہے گا۔ کیون پیٹرسن سے لے کر جیسن روئے تک زیادہ تر کھلاڑیوں نے پاکستان آنے سے انکار کردیا ہے۔ لیکن پشاور زلمی کے کھلاڑی پچھلے سال بھی پاکستان آئے تھے اور اس مرتبہ بھی امید ہے کہ جاوید آفریدی انہیں قائل کر لیں گے۔ انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے کرس جارڈن تک بہت پرجوش دکھائی دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر پشاور اگلے مرحلے تک پہنچا تو وہ ضرور پاکستان جائیں گے۔

ایک تازہ انٹرویو میں کرس جارڈن نے کہا کہ انہوں نے پچھلے سال پاکستان میں اپنے کیریئر کا بہترین وقت گزارا تھا۔ وہ پاکستانیوں کے جوش و جذبے سے بہت متاثر ہوئے تھے اور اب بھی ان کی نظریں ایک مرتبہ پھر پاکستان میں مقابلوں پر مرکوز ہیں۔ 29 سالہ جارڈن کا کہنا ہے کہ "یہ میرا پاکستان کا پہلا دورہ تھا اور جو جذبہ دیکھا وہ ناقابل بیان تھا۔ جو تجربہ پچھلے سال پی ایس ایل فائنل میں اٹھایا، وہ زندگی بھر نہیں بھولوں گا۔ البتہ پاکستان جانے یا نہ جانے کا فیصلہ ہر شخص کا انفرادی ہے، میں کسی کے حالات کے بارے میں نہیں جانتا، اس لیے کسی کے نہ کھیلنے کے بارے میں کوئی رائے نہیں دے سکتا۔"

کرس جارڈن تو آنے کو تیار ہیں لیکن پشاور زلمی کے لیے حالات اتنے اچھے نہیں۔ انہیں اگلے مرحلے سے قبل اپنے آخری مقابلے میں لاہور قلندرز کو شکست دینی ہے۔ اس کامیابی کے بعد ہی فیصلہ ہوگا کہ پشاور زلمی ایلی منیٹرز کھیلے گا یا پھر دبئی میں ہونے والا کوالیفائر کیونکہ پوائنٹس ٹیبل پر ٹیموں کی حتمی پوزیشن تبھی واضح ہوگی۔

بہرحال، ایک مرتبہ پلے-آف مرحلہ شروع ہو جائے یہ بات تو یقینی ہے کہ میدان میں کوئی ایک نشست بھی خالی نہیں ملے گی۔