آئی پی ایل، پہلے سیزن کے ریکارڈز، جو آج تک نہیں ٹوٹے

0 1,105

اس وقت انڈین پریمیئر لیگ کا گیارہواں ایڈیشن جاری ہے۔ اب تک ہونے والے 10 سیزنز میں ہم نے بہت کچھ دیکھا۔ آئی پی ایل روایت ساز بھی رہا اور روایت شکن بھی، میدان سے باہر تنازعات سے لے کر میدان میں بنتے ٹوٹتے ریکارڈز تک، آئی پی ایل نے دنیائے کرکٹ کو بہت سی یادیں دیں لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ 11 واں سیزن چل رہا ہے اور اب بھی کچھ ریکارڈز ایسے ہیں جو پہلے سیزن میں بنے اور آج تک نہیں ٹوٹے۔

حالانکہ آئی پی ایل 2018ء ابھی ابتدائی مرحلے میں ہی ہے اور ہم تیز ترین نصف سنچری اور ایک اننگز میں سب سے زیادہ ڈاٹ بالز پھینکنے کے ریکارڈ بنتے دیکھ چکے ہیں۔ تو وہ کون سے ریکارڈز ہیں جو آج تک کوئی نہیں توڑ پایا؟ آئیے ایک، ایک کرکے ان کے بارے میں جانتے ہیں۔

میچ میں بہترین باؤلنگ

آئی پی ایل 2008ء وہ واحد سیزن تھا جس میں پاکستانی کھلاڑیوں نے شرکت کی تھی، اس کے بعد سے آج تک کوئی پاکستانی بھارتی لیگ میں شرکت نہیں کر سکا۔ لیکن ایک ہی سیزن میں پاکستانی کھلاڑیوں نے وہ کارنامے دکھائے جو آج تک ریکارڈ بک میں موجود ہیں۔ سہیل تنویر کو ہی لے لیں، جنہوں نے پہلے سیزن میں راجستھان رائلز کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے نہ صرف سیزن میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں بلکہ چنئی سپر کنگز کے خلاف اہم ترین مقابلے میں ناقابل یقین پرفارمنس دی۔ انہوں نے صرف 14 رنز دے کر چھ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جو آج بھی بہترین آئی پی ایل کارکردگی ہے۔ سہیل تنویر کے علاوہ پوری تاریخ میں صرف ایک باؤلر کسی آئی پی ایل میچ میں 6 وکٹیں لے پایا جو رائزنگ پونے سپر جائنٹس کے ایڈم زیمپا تھا جنہوں نے 2016ء ایڈیشن میں 6 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا لیکن انہوں نے سہیل تنویر سے زیادہ یعنی 19 رنز دیے یعنی سہیل کا ریکارڈ آج بھی جوں کا توں موجود ہے۔

ایک اننگز میں سب سے زیادہ کیچز

آئی پی ایل کے 2008ء ایڈیشن میں ممبئی انڈینز اور کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے مقابلے میں ممبئی کے کپتان سچن تنڈولکر نے ایک فیلڈر کی حیثیت سے چار کیچز پکڑے ۔ انہوں نے کولکتہ کی اننگز کے دوران سلمان بٹ، وریدھمن ساہا، شعیب اختر اور اجیت آگرکر کے کیچ تھامے۔ وہ دن ہے اور آج کا دن ہے، اب تک کوئی فیلڈر پانچ کیچ پکڑ کر اس ریکارڈ کو توڑ نہیں پایا۔ البتہ 2010ء میں ڈیوڈ وارنر نے اور 2011ء میں ژاک کیلس نے اس کو برابر ضرور کیا۔

سب سے کم رنز

اسی مقابلے میں کولکتہ نے بھی ایک ریکارڈ بنایا جو اب بھی قائم و دائم ہے۔ اس میچ میں کولکتہ کی پوری ٹیم صرف 67 رنز پر ڈھیر ہوگئی تھی، جو اب تک کسی بھی آئی پی ٹیم کا سب سے چھوٹا مجموعہ ہے۔ ممبئی نے جواب میں سنتھ جے سوریا کی طوفانی بیٹنگ کی بدولت چھٹے اوور میں ہی ہدف حاصل کرلیا۔ جب مقابلہ ختم ہوا تو دوسری اننگز کی 87 گیندیں باقی تھیں۔ یہ بھی ایک ریکارڈ ہے جو اب تک موجود ہے۔

کامیابی سے حاصل کردہ سب سے بڑا ہدف

ہم نے آئی پی ایل میں ہدف کے تعاقب میں بڑے بڑے مقابلے دیکھے لیکن کوئی بھی اس میچ کو نہیں ہرا سکتا جو 2008ء میں راجستھان رائلز نے جیتا تھا۔ دکن چارجرز کے خلاف راجستھان کو میچ جیتنے کے لیے 215 رنز کی ضرورت تھی اور پھر گریم اسمتھ کے 71، یوسف پٹھان کے 61 اور آخر میں کپتان شین وارن کے 9 گیندوں پر 22 رنز کی مدد سے یہ ہدف حاصل کرلیا۔ آئی پی ایل کی تاریخ میں 9 مرتبہ 200 یا اس سے زیادہ کا ہدف حاصل کیا گیا ہے لیکن کسی ٹیم نے 215 رنز نہیں بنائے جو آج بھی ایک ریکارڈ ہے۔