پاک-آئرلینڈ پہلا ٹیسٹ، دنیا کیا کہتی ہے؟

0 767

دنیائے کرکٹ میں ایک نئی ٹیسٹ ٹیم کا اضافہ ہوگیا۔ آئرلینڈ، جو بدقسمتی سے اگلے سال ہونے والا عالمی کپ نہیں کھیلے گا، لیکن ہر غم کے ساتھ خوشی بھی ہوتی ہے۔ جہاں عالمی کپ نہ کھیلنے کا غم ہے، وہیں پر کرکٹ کی اعلیٰ ترین قسم ٹیسٹ کھیلنے کی خوشی بھی ہے۔

آئرلینڈ نے اپنا پہلا ٹیسٹ ڈبلن میں پاکستان کے خلاف کھیلا جو زبردست مقابلے کے بعد پاکستان کی پانچ وکٹ سے کامیابی کے ساتھ مکمل ہوا۔ لیکن جس طرح آئرلینڈ نے اس مقابلے میں فائٹ کیا، پہلی اننگز میں بڑے خسارے کے بعد مقابلہ جاری رکھا اور آخر میں پاکستان کو اچھا خاصا پریشان کیا، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ٹیم بہت جلد وہ مقام حاصل کر سکتی ہے، جس کی اس سے توقع ہے۔

اس تاریخی ٹیسٹ کے بارے میں دنیا بھر میں کیا کہا گیا؟ آئیے دیکھتے ہیں:

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سمیت سبھی کو ایک غیر متوقع نتیجے کی امید تھی۔ بلاشبہ آئرلینڈ بہت قریب پہنچا، بالخصوص جب اس نے دوسری اننگز میں صرف 14 رنز پر اظہر علی اور اسد شفیق سمیت پاکستان کے تین بلے باز آؤٹ کردیے۔ لیکن آخر میں پاکستان کو باآسانی کامیابی ملی۔ یعنی کئی امیدوں پر پانی پھر گیا۔ آئی سی سی کے ٹوئٹ سے اندازہ لگا لیں کہ وہ بھی سب کی طرح آئرلینڈ کو جیتتا ہوا دیکھنا چاہ رہا تھا:

اس تاریخی ٹیسٹ کا اختتام ایک تاریخی تصویر کے ساتھ ہوا، دونوں ٹیموں نے فاتحانہ ٹرافی کے ساتھ مل کر تصویر کھنچوائی:

کرکٹ آئرلینڈ نے بھی اسی تصویر کے ساتھ تمام حامیوں کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کا بھی:

میچ کی سب سے خاص بات تھی کیون اوبرائن کی سنچری، جو ٹیسٹ کرکٹ میں کسی بھی آئرش بلے باز کی پہلی سنچری تھی۔ میدان کے "آنر بورڈ" پر کیون کا نام سب سے پہلے آیا ہے:

مقابلے کو دیکھنے والوں میں دنیا کے ساتھ ساتھ خود آئرلینڈ کے صدر بھی موجود تھے:

اور معروف انگلش گلوکار مک جیگر بھی میدان میں موجود تھے:

پاکستان کو باؤلرز کی کمی بری طرح محسوس ہوئی اور جن باؤلرز کو یاد کیا گیا، انہوں نے بھی مبارکباد کے پیغامات کے ذریعے اپنی یاد دلائی، جیسا کہ:

آئرلینڈ کی کارکردگی واقعی لاجواب تھی۔ صحافی میلنڈا فیرل نے بھی اسے خوب سراہا:

اور بھارتی تجزیہ کار ہرشا بھوگلے نے بھی: