آئرلینڈ نے ثابت کردیا، اب افغانستان کی باری

0 834

افغانستان کے کرکٹرز دہائیوں کی خانہ جنگی سے بری طرح متاثر ہونے والے افغانوں کے چہروں پر مسکراہٹیں واپس لانے کی کوشش کریں گے کیونکہ اگلے ماہ وہ کرکٹ کے سب سے بڑے کلب "ٹیسٹ" میں قدم رکھیں گے۔

ایک طرف جہاں آئرلینڈ اور پاکستان کے خلاف ایک تاریخی ٹیسٹ اختتام کو پہنچا ہے، جس کے ساتھ ہی آئرلینڈ ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والا گیارہواں ملک بن گیا ہے، وہیں 14 جون سے افغانستان بھارت کے خلاف بنگلور میں میچ کے ذریعے 12 واں ٹیسٹ ملک بنے گا۔

اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ افغانستان کے ٹیسٹ کرکٹ تک پہنچنے کی کہانی کرکٹ کی سب سے منفرد اور شاندار داستان ہے۔ کچھ عرصہ قبل عالمی کرکٹ نقشے پر کوئی مقام نہ رکھنے والا افغانستان اس طرح ٹیسٹ تک پہنچ جائے گا؟ کسی نے سوچا بھی نہ ہوگا۔

کپتان اصغر ستانکزئی کا کہنا ہے کہ ملک میں بگڑتے ہوئے حالات سے ٹیم بھی متاثر ہو رہی ہے، لیکن ساتھ ہی ہمیں نیا جوش اور جذبہ بھی ملتا ہے کہ ہم لوگوں کی خوشی کے لیے کچھ کریں۔ "حالات بہت مشکل ہیں اور تازہ ترین حملوں کا سن کر بہت دکھ پہنچا ہے لیکن ہم ہمت نہیں ہاریں گے اور اب جیتنے کی زیادہ کوشش کریں گے کیونکہ ہمارے عوام کو خوشی کی ضرورت ہے۔"

افغانستان نے 2009ء میں ون ڈے انٹرنیشنل اسٹیٹس حاصل کیا تھا اور اس کے بعد بڑی تیزی سے قدم آگے بڑھائے ہیں۔ 2015ء میں ورلڈ کپ کھیلنے کے بعد تو افغانستان نے پیچھے مڑ کر دیکھا ہی نہیں۔ یہی نہیں بلکہ وہ اگلے سال ورلڈ کپ 2019ء کے لیے بھی کوالیفائی کر چکا ہے۔

افغان کھلاڑیوں کی موجودہ نسل وہ ہے جس نے پاکستان کے مہاجر کمیپوں میں کرکٹ دیکھی اور انہیں اس کھیل سے محبت ہوگئی۔ آج دنیا کے بہترین کھلاڑیوں میں سے چند افغان ہیں، جیسا کہ نوجوان لیگ اسپنر راشد خان کہ جو دنیا کی تمام بڑی لیگز میں ایکشن میں نظر آتے ہیں۔

اصغر ستانکزئی نے کہا کہ بھارت میں کنڈیشنرز اسپن باؤلرز کے لیے مددگار ہیں اور خوش قسمتی سے افغانستان کے پاس اچھے اسپنرز ہیں۔ بیٹمسین بھی اچھی فارم میں ہیں اور گزشتہ تین چار سال سے ٹیم کمبی نیشن بہت اچھا جا رہا ہے۔ ہم کوشش کریں گے اور مثبت کرکٹ کھیلیں گے۔