فائنل میں 'پنجاب ڈربی': دماغ ملتان، دل لاہور کے ساتھ

ملتان پہلی بار اعزاز کے دفاع کا کارنامہ انجام دے گا یا لاہور پہلی بار پی ایس ایل ٹائٹل جیتے گا؟

0 659

پاکستان سپر لیگ کا ساتواں سیزن تمام تر نشیب و فراز سے گزرتا ہوا بالآخر آج اپنے منطقی انجام کو پہنچنے والا ہے۔ لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں 'پنجاب ڈربی' ہوگی، یعنی پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی دونوں ٹیمیں لاہور قلندرز اور ملتان سلطانز آمنے سامنے ہوں گی۔

کوئی بھی جیتے، نئی تاریخ تو رقم  ہوگی۔ اگر ملتان جیتتا ہے تو وہ اعزاز کا کامیابی سے دفاع کرنے والی پہلی ٹیم بن جائے گا جبکہ لاہور قلندرز جیتا تو یہ اس کا پہلا ٹائٹل ہوگا۔ وہ پی ایس ایل تاریخ کی واحد ٹیم ہے جو کبھی چیمپیئن نہیں بنی۔

پی ایس ایل کے سلطان!

اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ ملتان سلطانز کی رواں سال پیش کی گئی کارکردگی ایسی ہے جیسی آج تک پی ایس ایل کے کسی سیزن کوئی ٹیم نہیں دکھا پائی۔ ملتان نے سیزن کا آغاز مسلسل 6 فتوحات کے ساتھ کیا تھا، پھر ایک شکست کھائی لیکن کامیابیوں کا سلسلہ وہیں سے جوڑا جہاں سے ٹوٹا تھا۔ پے در پے 4 میچز جیت کر ملتان فائنل میں پہنچا ہے۔ اتنی جامع کارکردگی کی وجہ سے ہی ملتان سلطانز کو فائنل کے لیے بھی فیورٹ سمجھا جا رہا ہے۔

کھیل کا کوئی بھی شعبہ ہو، ملتان چھایا ہوا نظر آتا ہے۔ محمد رضوان قیادت کے ساتھ ساتھ اپنی کارکردگی سے بھی عملی مثال بنے ہوئے ہیں۔ شان مسعود، رائلی روسو، ٹم ڈیوڈ اور آخری نمبروں پر خوشدل شاہ دھواں دار بیٹنگ کر رہے ہیں۔ باؤلنگ میں حیران کُن طور پر خوشدل سب سے آگے نظر آ رہے ہیں جبکہ عمران طاہر اور شاہنواز ڈاہانی وکٹوں کے ساتھ والہانہ جشن مناتے نظر آ رہے ہیں۔

لیکن ایک دلچسپ بات، اس سیزن میں ملتان کو جو واحد شکست ہوئی، وہ لاہور قلندرز ہی کے ہاتھوں تھی۔ یہ قذافی اسٹیڈیم ہی میں کھیلا گیا مقابلہ تھا جس میں قلندرز نے فخر زمان، کامران غلام اور محمد حفیظ کی عمدہ بلے بازی کی بدولت 182 رنز بنائے اور ملتان کو صرف 130 رنز پر ڈھیر کر کے ثابت کر دیا کہ ملتان 'ناقابلِ تسخیر' نہیں ہے بلکہ اسے ہرایا جا سکتا ہے۔

لیکن اس شکست سے بھی ملتان کے قدم لڑکھڑائے نہیں، جیسے وہ اس میچ سے پہلے جیتتا آ رہا تھا، بالکل ویسے ہی اپنی فتوحات کا سلسلہ بعد میں بھی جاری رکھا۔ یہاں تک کہ کوالیفائر میں لاہور کو ہی بُری طرح شکست دی۔

یاد رہے کہ ملتان رواں سال اپنے اعزاز کا دفاع کر رہا ہے۔ پچھلے سال پشاور زلمی کو ہرا کر پہلی بار پی ایس ایل ٹائٹل جیتا تھا اور رواں سال وہ تاریخ کی پہلی ٹیم بن سکتا ہے کہ جس نے اپنے پی ایس ایل اعزاز کا کامیابی سے دفاع کیا ہو۔ اب دیکھنا یہ ہے وہ یہ کارنامہ انجام دے بھی پاتے ہیں یا نہیں؟ کاغذ پر تو تمام اشارے ملتان کے حق میں ہی جاتے ہیں۔

قلندروں کا دھمال!

دوسری جانب لاہور قلندرز کو دیکھیں تو وہ جس طرح فائنل تک پہنچا ہے، اس کے لیے ایک لفظ ہے، "ناقابلِ یقین"۔ کاغذ پر تو لاہور ہمیشہ ایک اچھی ٹیم رہا ہے، ایک سے ایک بڑا نام اس ٹیم میں شامل رہا ہے لیکن عملی میدان میں اس سے تسلسل کے ساتھ کارکردگی کی امید کبھی پوری نہیں ہوئی۔ لیکن رواں سال تو ملتان کے بعد کسی بھی دوسری ٹیم کے مقابلے میں لاہور نے سب سے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، جو حیران کُن ہے۔

لاہور، ایسی ٹیم جس کی پی ایس ایل کے ابتدائی سیزنز میں کارکردگی اتنی بھیانک تھی کہ اس کا نام ہی مذاق بن گیا تھا۔ لیکن لیگ کے مکمل طور پر پاکستان منتقل ہونے کے بعد سے اس میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ 2020ء میں تو وہ فائنل تک بھی پہنچا لیکن روایتی حریف کراچی کنگز کے ہاتھوں شکست کھا بیٹھا۔

شاید یہی شکست تھی کہ جس کے دھچکے پچھلے سال یعنی 2021ء میں بھی محسوس ہوئے۔ بہرحال، رواں سیزن میں قیادت کی تبدیلی کے بعد قلندروں کے حوالے سے سارے اندازے غلط ثابت ہوئے ہے۔ پہلے میچ میں شکست کے بعد لاہور نے اپنے اگلے چھ میں سے پانچ میچز جیتے اور با آسانی پلے آف مرحلے کے لیے کوالیفائی کیا۔ یہ ملتان کے بعد اِس سیزن میں کسی بھی ٹیم کی بہترین کارکردگی ہے۔

ہاں! کراچی اور کوئٹہ کے ہاتھوں لاہور کو شکست نہیں کھانی چاہیے تھی جو اُن کی کارکردگی میں عدم تسلسل کو ظاہر کرتا ہے لیکن دیگر مقابلوں میں تو انہوں نے غضب ڈھایا ہے۔ یہاں تک کہ کوالیفائر میں ہارنے کے بعد ایلیمنیٹر 2 میں اسلام آباد کو چت کر کے فائنل تک پہنچے ہیں۔

کھیل کے تینوں شعبوں بیٹنگ، باؤلنگ اور فیلڈنگ میں لاہور کے کھلاڑی اس وقت کمالات دکھا رہے ہیں۔ لاہور کے فخر زمان اِس وقت سیزن میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین ہیں جو 12 میچز میں 48.75 کے اوسط سے 585 رنز بنا چکے ہیں جبکہ باؤلنگ میں اسلام آباد کے شاداب خان کے بعد سب سے زیادہ وکٹیں لاہور کے شاہین آفریدی ہی کی ہیں جو 17 کھلاڑیوں کو آؤٹ کر چکے ہیں اور فائنل میں اگر تین وکٹیں حاصل کر لیں تو سیزن میں سب سے زیادہ شکار کرنے والے باؤلر بن جائیں گے۔

لاہور-ملتان باہمی مقابلے

رواں سیزن میں اب تک لاہور اور ملتان تین بار آپس میں ٹکرا چکے ہیں اور دو مرتبہ فتح ملتان کے نصیب میں آئی ہے۔ کراچی میں ہونے والے پہلے مقابلے میں تو ملتان نے 207 رنز کا ہدف حاصل کر دکھایا تھا، جو اس کی غیر معمولی بیٹنگ صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ قلندرز نے دوسرے میچ میں 52 رنز کی زبردست کامیابی حاصل کر کے اس شکست کا بدلہ تو لے لیا لیکن کوالیفائر میں ملتان کی بالا دستی کا اُن کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ یہاں 164 رنز کے تعاقب میں لاہور صرف 135 رنز ہی بنا پایا۔ یوں فائنل تک پہنچنے کے لیے لاہور قلندرز کو لمبے راستے پر بھیج دیا۔

کاغذ پر بلاشبہ ملتان سلطانز کا پلڑا بھاری دکھائی دیتا ہے لیکن ہم کہہ سکتے ہیں کہ لاہور مسلسل دو شکستوں کے بعد جس طرح اسلام آباد کے خلاف ایلیمنیٹر میں کھیلا ہے، اس سے لگتا ہے کہ فائنل میں اچھا مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔

ویسے پی ایس ایل فائنل کی تاریخ ایسی نہیں ہے۔ پہلے سیزن سے لے کر اب تک جتنے بھی فائنل ہوئے ہیں ان میں یک طرفہ مقابلہ ہی دیکھنے کو ملا ہے۔ صرف 2018ء کا فائنل ایسا تھا جس میں ہمیں اسلام آباد یونائیٹڈ اور پشاور زلمی کے مابین کچھ برابر کی ٹکر نظر آئی، ورنہ ہمیشہ جو بھی جیتا بہت بڑے مارجن سے ہی جیتا۔ خود ملتان نے پچھلے سال کا فائنل 47 رنز سے جیتا تھا۔

بہرحال آج ہونے والے فائنل کے لیے دماغ ملتان کے ساتھ لیکن دل لاہور کے ساتھ ہے۔ دیکھتے ہیں دل و دماغ کی اس کشمکش میں بازی کس کے نام رہتی ہے؟