پاکستان کراچی میں ڈھائی سال پرانی کارکردگی دہرا سکے گا؟

0 888

کراچی میں جاری پاک-آسٹریلیا دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان نے اپنی پہلی اننگز کھانے کے وقفے سے کچھ دیر قبل سنبھالی اور چائے کے وقفے کے بعد باری واپس آسٹریلیا کے حوالے کر دی۔ یعنی صرف ڈیڑھ سیشن پاکستان کے لیے کافی ثابت ہوا کہ جس میں پوری ٹیم 53 اوورز میں 148 رنز پر ڈھیر ہوئی۔ شاید یہ پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی سے اب تک سب سے بُرا دن تھا۔

پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ 10 سال بعد 2019ء میں واپس آئی جب سری لنکا نے پاکستان میں پہلا ٹیسٹ کھیلا۔ یہ میچ بارش سے بُری طرح متاثر ہوا تھا لیکن واحد اننگز میں پاکستان نے دو وکٹوں پر 252 رنز بنائے تھے۔ لیکن اس سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میں بہترین مقابلہ دیکھنے کو ملا اور میدان یہی کراچی کا تھا۔

‏19 دسمبر سے شروع ہونے والے اس ٹیسٹ میں پاکستان نے پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا تھا اور بابر اعظم اور اسد شفیق کی نصف سنچریوں کے باوجود صرف 191 رنز پر ڈھیر ہو گیا۔ ان دونوں کے علاوہ صرف ایک بلے باز ایسا تھا جس کی اننگز دہرے ہندسے میں پہنچی تھی جبکہ اظہر علی سمیت تین بلے باز تو صفر کی ہزیمت سے دوچار ہوئے تھے۔

پاکستانی باؤلرز کی تمام تر کوششوں کے باوجود سری لنکا پہلی اننگز میں 271 رنز بنانے میں کامیاب ہو گیا یعنی 80 رنز کی برتری لینے میں۔ جو میچ میں بلے بازوں کی اب تک کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کن ہو سکتی تھی لیکن پھر ایک دن میں کایا پلٹ گئی۔

پاکستانی بلے بازوں نے دوسری اننگز میں ایسے بیٹنگ کی گویا وہ کسی دوسری پچ پر کھیل رہے ہیں۔ شان مسعود 135، عابد علی 174، اظہر علی 118 اور بابر اعظم 100 ناٹ آؤٹ، ٹاپ آرڈر کے چاروں بلے بازوں کی سنچریوں کی بدولت پاکستان نے صرف تین وکٹوں پر 555 رنز بنائے اور سری لنکا کو ایسا حیران کیا کہ وہ پھر اس صدمے سے نہیں نکل پایا اور میچ 263 رنز کے بھاری مارجن سے ہار گیا۔

پاکستان بمقابلہ سری لنکا - دوسرا ٹیسٹ

‏19 تا 23 دسمبر، نیشنل اسٹیڈیم، کراچی، پاکستان

نتیجہ: پاکستان 263 رنز سے جیتا

پاکستان
(پہلی اننگز)
191-10
اسد شفیق 63لاہیرو کمارا4-49
سری لنکا
(پہلی اننگز)
271-10
دنیش چندیمل74شاہین آفریدی5-77
پاکستان
(دوسری اننگز)
555-3 ڈ
عابد علی174لاہیرو کمارا2-139
سری لنکا
(ہدف: 476)
212-10
نیروشان ڈِکویلا65نسیم شاہ5-31

تو کیا پاکستان آسٹریلیا کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں اسی میدان پر یہ معجزہ کر سکتا ہے؟ کرکٹ میں کیا کچھ نہیں ہو سکتا لیکن اس کے لیے بڑے عزم اور حوصلے کی ضرورت ہوگی، وہ بھی آسٹریلیا کی شاندار باؤلنگ لائن کے مقابلے پر۔

ویسے اس ڈھائی سال پرانے کراچی ٹیسٹ کے بعد سے آج تک پاکستان میں جتنے بھی ٹیسٹ کھیلے گئے ہیں، پاکستان کی بیٹنگ کا کبھی ایسا امتحان نہیں ہوا۔

پاک-بنگلہ دیش سیریز 2020ء میں پاکستان نے پہلے ٹیسٹ کی واحد اننگز میں 445 رنز مارے اور اننگز سے کامیابی حاصل کی تھی۔

جنوبی افریقہ کے خلاف 2021ء میں پہلے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 378 رنز بنائے اور بعد ازاں 7 وکٹوں سے جیتا۔ پھر دوسرے ٹیسٹ میں بھی 95 رنز سے با آسانی کامیابی حاصل کی اور تیسرے میں بھی۔ ان آخری دونوں میچز میں تو کوئی ایک اننگز بھی 300 رنز تک نہیں پہنچ پائی تھی۔

بہرحال، اب اتنا تو ہوا ہے کہ آسٹریلیا کے خلاف سیریز بوریت کے تمام ریکارڈز توڑنے کے بعد اب فیصلہ کن مرحلے میں تو آ رہی ہے۔ دیکھتے ہیں پاکستانی اب کیا کر دکھاتے ہیں۔