بنگلہ دیش ہار گیا، صرف 4 رنز سے!

0 292

اب تو عادت سی ہے ویمنز ورلڈ کپ میں سنسنی خیز میچز دیکھنے کی اور اب ایسا ہوا ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں۔ جہاں آخری چار گیندوں پر 5 رنز کی ضرورت تھی جب اسٹیفانی ٹیلر نے آخری بنگلہ دیشی بلے باز کو آؤٹ کر کے میچ کا خاتمہ کر دیا۔

ایک طرف خوشی کی انتہا دیکھی اور دوسری طرف غم کی انتہائی کیفیت بھی۔

ماؤنٹ مونگانوئی میں کھیلے گئے اس مقابلے میں ٹاس جیتا بنگلہ دیش نے اور پہلے ویسٹ انڈیز کو کھیلنے کی دعوت دی

جب صرف 60 رنز پر ویسٹ انڈیز کی پانچ کھلاڑی آؤٹ ہو چکی تھیں تو بنگلہ دیش میچ پر چھایا ہوا تھا۔

اگر یہاں ویسٹ انڈین کپتان شیمین کیمبل 53 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز نہ کھیلتیں تو شاید وہ 100 رنز کا ہندسہ بھی پار نہیں کر پاتا۔جب اسکور بورڈ پر صرف 70 رنز موجود ہوں اور 7 وکٹیں بھی گر چکی ہوں تو شاید دوسرے تو ہمت ہی ہار دیں، لیکن یہاں کیمبل نے کمال کر دیا۔ آٹھویں اور نویں وکٹ پر انہوں نے ایفی فلیچر اور کرشما ریماریک کے ساتھ مل کر 68 قیمتی رنز کا اضافہ کیا جو بعد میں اصل فرق ثابت ہوا۔

کیمبل نے 107 گیندوں پر پانچ چوکوں کی مدد سے یہ 53 رنز بنائے اور آخر تک ناٹ آؤٹ رہیں۔

بنگلہ دیش کی جانب سے سلمیٰ خاتون اور ناہیدہ اختر نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔

ویمنز ورلڈ کپ - میچ نمبر 17

ویسٹ انڈیز بمقابلہ بنگلہ دیش

نتیجہ: ویسٹ انڈیز 4 رنز سے جیت گیا

ویسٹ انڈیز 🏆140-9
شیمین کیمبل53107
ہیلی میتھیوز1843
بنگلہ دیش باؤلنگامرو
سلمیٰ خاتون103232
ناہیدہ اختر103232

بنگلہ دیش136
ناہیدہ اختر25*64
نگار سلطانہ2577
ویسٹ انڈیز باؤلنگامرو
ہیلی میتھیوز101154
اسٹیفانی ٹیلر9.30293

اب بنگلہ دیش کو ایک اور تاریخی کامیابی کے لیے 141 رنز کا بظاہر آسان ہدف درکار تھا۔ لیکن آغاز اچھا نہیں تھا، پہلے اوور میں شمیمہ سلطان کی وکٹ گر گئی لیکن معاملہ پھر بھی بڑی حد تک سنبھالے رکھا۔ 21 اوورز مکمل ہوئے تو 60 رنز پر صرف دو ہی وکٹیں گری تھیں۔ اب 29 اوورز میں صرف 81 رنز کی ضرورت تھی اور آٹھ وکٹیں اب بھی باقی تھیں

یہاں پر بنگلہ دیش کو ایک نہیں، دو نہیں بلکہ تین دھچکے پہنچے۔ ایک اوور میں ایفی فلیچر نے فرغانہ حق کی وکٹ لی، پھر اگلے میں دو مسلسل گیندوں پر رومانہ احمد اور ریتو مونی کو صفر پر آؤٹ کر کے تہلکہ مچا دیا۔ جو کسر رہ گئی تھی وہ 85 رنز پر پہنچتے ہی کپتان نگار سلطانہ اور فہیمہ خاتون کے ایک ہی اوور میں آؤٹ ہونے سے پوری ہو گئی۔ دونوں کو ہیلی میتھیوز نے آؤٹ کیا۔

بنگلہ دیش جو پہلے با آسانی ہدف کی جانب جا رہا تھا، اب 56 رنز کے فاصلے پر بُری طرح لڑکھڑا رہا تھا۔ یہاں پر ناہیدہ اختر نے معاملات سنبھالے اور سلمیٰ خاتون کے ساتھ مل کر 25 قیمتی رنز کا اضافہ کر ڈالا۔ جب 7 اوورز میں 31 رنز کی ضرورت تھی تو سلمیٰ کی 40 گیندوں پر 23 رنز کی اننگز بھی ختم ہو گئیں۔ پھر 46 ویں اوور میں جہاں آرام عالم آؤٹ ہوئیں تو 27 گیندوں پر 19 رنز رہ گئے تھے، لیکن وکٹ صرف ایک بچی تھی اور ایک اینڈ مکمل طور پر غیر محفوظ تھا۔

اب ناہیدہ نے معاملات مکمل طور پر اپنے ہاتھوں میں لے لیے اور بنگلہ دیش کو آخری 2 اوورز میں 10 رنز درکار تک پہنچا دیا۔ یہاں دیئندرا دوتن نے دن کا سب سے بہترین 49 واں اوور پھینکا جس میں انہوں نے صرف 2 رنز دیے اور بنگلہ دیش کو آخری اوور کے دباؤ تلے دے دیا، جہاں فریحہ کی وکٹ گرنے سے میچ کا خاتمہ ہو گیا۔

ویسٹ انڈیز صرف 4 رنز سے میچ جیت گیا اور ناہیدہ ایک اینڈ پر کھڑی کی کھڑی رہ گئیں۔ وہ 64 گیندوں پر 25 رنز بنا کر ناقابلِ شکست اور دل گرفتہ میدان سے واپس آئیں۔

ویسے ہیلی میتھیوز آج بیٹنگ میں نہیں چلیں تو باؤلنگ میں خوب کمال دکھایا۔ ٹاپ آرڈر کی تین بلے بازوں کے علاوہ فہیمہ کی اہم وکٹ بھی حاصل کیں۔ اپنے 10 اوورز میں صرف 15 رنز دے کر 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے پر انہیں میچ کی بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ ملا۔

ویسے فلیچر اور اسٹیفانی ٹیلر نے بھی تین، تین وکٹیں لے کر اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔

اس فتح کے ساتھ ہی ویسٹ انڈیز ٹیبل پر تیسرے نمبر پر آ چکا ہے۔ ناقابلِ شکست آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے بعد وہی سب سے نمایاں ٹیم بن گئی ہے جسے اگلے میچز پاکستان اور جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلنے ہیں۔ یعنی ایک ایسی ٹیم سے جو کوئی میچ نہیں جیت پائی اور دوسری ایسی جو اپنے تمام مقابلے جیتی ہے۔

دوسری جانب بنگلہ دیش باقی ماندہ مقابلوں میں بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ سے کھیلے گا، یعنی تینوں ہی بہت مشکل ہوں گے۔ لیکن پاکستان کے خلاف ایک تاریخی کامیابی اور ویسٹ انڈیز کے ساتھ فتح کے اتنا قریب پہنچنے کے بعد کیا بنگلہ دیش کوئی اپ سیٹ کر سکتا ہے؟ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔