[آج کا دن] مصباح اور یونس کو شایانِ شان الوداع

0 681

یہ پاکستان کرکٹ کے لیے بھیانک ترین سال تھے۔ پہلے 2009ء میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا اور یوں سالہا سال کے لیے پاکستان انٹرنیشنل کرکٹ سے محروم رہ گیا۔ پھر جو کسر رہ گئی تھی وہ 2010ء میں اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل نے پوری کر دی۔ ایسا لگتا تھا کہ ملک سے کرکٹ ہی ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔

اس بھیانک دور میں جن دو کھلاڑیوں نے پاکستان کرکٹ کو سنبھالا دیا، سہارا دیا، زندہ رکھا بلکہ بلندیوں تک بھی پہنچایا، وہ تھے یونس خان اور مصباح الحق۔ یونس خان نے 2009ء میں پاکستان کو ٹی ٹوئنٹی کا ورلڈ چیمپیئن بنایا اور مصباح الحق نے پاکستان کرکٹ کے نازک ترین دور میں پانچ سال قیادت کی اور پاکستان کو دنیا کی نمبر ایک ٹیسٹ ٹیم بنایا۔

مصباح الحق نے نومبر 2010ء میں کپتان کا عہدہ سنبھالا، اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے صرف تین مہینے بعد۔ پھر 2017ء میں آج یعنی 14 مئی کے دن تک تقریباً ساڑھے چھ سال پاکستان کے کپتان رہے۔ ویسے وہ بھی کیا یادگار دن تھا؟ مصباح اور یونس کا آخری ٹیسٹ اور شاید ہی اس سے بہتر انداز میں کبھی کسی ٹیم نے اپنے کھلاڑیوں کو الوداع کیا ہو۔

پاکستان کا دورۂ ویسٹ انڈیز 2017ء - تیسرا ٹیسٹ

تاریخ: ‏10 تا 14 مئی 2017ء

میدان: ونڈسر پارک، روسیو، ڈومینکا

نتیجہ: پاکستان 101 رنز سے میچ اور ‏2-1 سے سیریز جیتا

پاکستان ( پہلی اننگز)376
اظہر علی127334روسٹن چیز4-10332
ویسٹ انڈیز (پہلی اننگز)247
روسٹن چیز69155محمد عباس5-4625
پاکستان (دوسری اننگز)174-8 ڈ
یاسر شاہ3855الزاری جوزف3-5315
ویسٹ انڈیز (ہدف: 304 رنز) 202
روسٹن چیز101239یاسر شاہ5-9237

ونڈسر پارک، روسیو، ڈومینکا میں پاکستان کے 376 رنز کے جواب میں ویسٹ انڈیز کی پہلی اننگز 247 رنز پر ہی مکمل ہو گئی۔ 129 رنز کی برتری پانے کے بعد پاکستان نے دوسری اننگز 174 رنز پر ڈکلیئر کی اور ویسٹ انڈیز کو 304 رنز کا ہدف دیا۔

جب 93 رنز تک ہی ویسٹ انڈیز کی چھ وکٹیں گر گئیں تو لگتا تھا کہ کہانی اب ختم ہوئی کہ تب۔ لیکن یہاں مین اِن فارم روسٹن چیز جم گئے۔

آخری سیشن میں پاکستان جیت کے بہت قریب نظر آتا تھا لیکن یہ روسٹن چیز کی مزاحمت تھی جس نے میچ تقریباً نکال لیا۔ ان کی قسمت بھی خوب کام کر رہی تھی۔ ایک کیچ چھوٹا اور جب پکڑا گیا تو گیند نو بال ہو گئی۔ بہرحال، ویسٹ انڈیز کی آخری تین وکٹیں 99 گیندیں ضائع کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔ لگتا تھا ویسٹ انڈیز پاکستان کے خلاف ہوم گراؤنڈ پر کبھی سیریز نہ ہارنے کا ریکارڈ برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جائے گا۔

تب وہ لمحہ آیا، جس نے تاریخ کا دھارا پلٹ دیا۔ یاسر شاہ دن کا سیکنڈ لاسٹ اوور کر رہے تھے اور سامنا کر رہے تھے آخری بلے باز شینن گیبریئل۔ پاکستان نے تمام ہی فیلڈرز ان کے قریب کھڑے کر دیے۔ شاید یہی دباؤ تھا کہ گیبریئل سے وہ غلطی ہو گئی، جس کا پاکستان انتظار کر رہا تھا۔

یہ یاسر شاہ کے اوور کی آخری گیند تھی، یعنی صرف یہ گیند کھیل لیتے تو 101 رنز پر ناٹ آؤٹ روسٹن چیز آخری اوور سنبھال سکتے تھے۔ واضح ہدایت تھی کہ "گھبرانا نہیں ہے!" لیکن گیبریئل گھبرا گئے۔ انہوں نے یاسر شاہ کی آخری گیند پر کھل کر بلّا گھما دیا، تاکہ قریب کھڑے کھلاڑیوں کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہونے کا امکان ہی نہ رہے۔ لیکن گیند ان کے بلّے کا اندرونی کنارہ لیتی ہوئی سیدھا وکٹوں میں جا گھسی۔ میچ کا خاتمہ ہوا یاسر شاہ کے دیوانہ وار جشن کے ساتھ کہ جس میں پوری ٹیم ان کے ساتھ شریک تھی۔ کمنٹری باکس میں "Why did he do that" کی صدا گونجتی رہ گئی۔

حنیف محمد سے لے کر وسیم اکرم تک پاکستان کرکٹ کا بڑے سے بڑا نام بھی ویسٹ انڈیز کو اسی کی سرزمین پر سیریز نہیں ہرا پایا۔ یہ اعزاز پہلی بار مصباح الحق کو ملا، وہ بھی آخری سیریز کے آخری میچ میں۔

پاکستان کی 101 رنز کی جیت اور سیریز میں ‏2-1 کی کامیابی کے ساتھ مصباح الحق اور یونس خان کا ٹیسٹ کیریئر اپنے اختتام کو پہنچا۔

مصباح الحق نے اپنے کیریئر میں 75 ٹیسٹ میچز کھیلے اور 46.62 کے اوسط کے ساتھ اور 10 سنچریوں کی مدد سے 5,222 رنز بنائے۔ ان کے مقابلے میں یونس خان کا ریکارڈ کہیں زیادہ شاندار ہے۔ انہوں نے 118 ٹیسٹ میچز کھیلے اور 52.05 کے اوسط اور 34 سنچریوں کی مدد سے 10,099 رنز بنائے۔

14 مئی 2017ء مصباح اور یونس کا آخری دن تھا، وہی دن جب #MisYou کا ہیش ٹیگ پوری دنیا میں ٹرینڈنگ میں آیا۔ واقعی ہم آج بھی انہیں بہت 'مس' کرتے ہیں۔

مصباح الحق اور یونس خان کے ٹیسٹ کیریئر پر ایک نظر

میچزرنزبہترین اننگزاوسط10050
یونس خان1181009931352.053433
مصباح الحق755222161*46.621039