[آج کا دن] جب مرلی دھرن جاتے جاتے 800 وکٹیں لے گئے

0 457

یہ سال 2010ء تھا، گال کا خوبصورت میدان اور سب سے بڑھ کے عظیم اسپنر متایا مرلی دھرن کا آخری ٹیسٹ۔ میچ سے پہلے مرلی نے اعلان کر دیا تھا کہ بھارت کے خلاف مقابلہ اُن کا آخری ٹیسٹ ہوگا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اُس وقت 792 وکٹوں پر کھڑے تھے۔ ویسے تو یہی سب سے زیادہ وکٹوں کا عالمی ریکارڈ تھا لیکن مرلی بلکہ دنیا کے تمام ہی شائقینِ کرکٹ کی ایک دبی دبی سی خواہش ضرور تھی کہ وہ 800 وکٹوں کا سنگِ میل بھی عبور کر لیں۔ لیکن جیسے جیسے گال ٹیسٹ آگے بڑھتا گیا، اس کے امکانات کم ہوتے چلے گئے۔

دوسرے دن کا پورا کھیل بارش کی نذر ہوا اور جب تین دن کا کھیل مکمل ہوا تو مرلی کی وکٹوں میں صرف ایک وکٹ کا ہی اضافہ ہوا تھا یعنی وہ 793 تک ہی پہنچ سکے تھے۔ لیکن چوتھے دن کے اختتام تک بھارت کی مزید 12 وکٹیں گر گئیں، جن میں سے پانچ مرلی کے ہتھے چڑھیں۔ یوں امید کی ایک کرن روشن ہو گئی اور معاملہ آخری روز یہاں تک پہنچ گیا کہ بھارت کی صرف ایک ہی وکٹ بچی تھی اور وہی مرلی کو درکار تھی۔ بالآخر میچ کے اختتامی لمحات میں مرلی نے پراگیان اوجھا کو سلپ میں کیچ آؤٹ کروایا اور یوں 800 کے ہندسے تک پہنچ گئے۔ ہر طرف مرلی مرلی ہو گئی! سری لنکا کی کامیابی کی خبر کی کوئی اہمیت ہی نہیں رہی۔

یہ 2010ء میں آج ہی کا دن تھا یعنی 22 جولائی، جب مرلی دھرن 800 وکٹیں لینے والے دنیا کے پہلے باؤلر بنے تھے۔ لیکن اس مقام تک پہنچنے کے لیے مرلی نے کئی نشیب و فراز عبور کیے۔ کیریئر کے ابتدائی مراحل میں اپنے متنازع باؤلنگ ایکشن کی وجہ سے انہیں بد ترین حالات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ 1995ء میں آسٹریلیا کے خلاف میلبرن ٹیسٹ میں امپائر ڈیرل ہیئر نے تین اوورز میں اُن کی 7 گیندوں کو نو بال قرار دیا۔ وجہ؟ یہ کہ ان کا باؤلنگ ایکشن درست نہیں یعنی وہ بٹّا گیندیں پھینک رہے ہیں۔

ایسا لگتا تھا مرلی کا کیریئر آغاز ہی میں ختم ہو جائے گا لیکن کپتان ارجنا راناتنگا، ٹیم انتظامیہ اور کرکٹ بورڈ نے اُن کا بھرپور ساتھ دیا اور ان کے باؤلنگ ایکشن کو کلیئر کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے بعد مرلی پورے اعتماد کے ساتھ میدان میں آئے اور تاریخ کے کامیاب ترین باؤلر بن گئے۔ 495 انٹرنیشنل میچز میں مرلی نے کُل 1347 وکٹیں لیں، جن میں 77 مرتبہ اننگز میں پانچ اور 22 مرتبہ میچ میں 10 وکٹوں کا کارنامہ انجام دینا بھی شامل ہے۔ وہ آج بھی نہ صرف ٹیسٹ بلکہ ون ڈے انٹرنیشنلز میں بھی سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے باؤلر ہیں۔

مرلی دھرن کا ٹیسٹ کیریئر

میچزوکٹیںبہترین باؤلنگاوسطاننگز میں 5 وکٹیں
مجموعی اعداد و شمار1338009-5122.72‏67 مرتبہ
بمقابلہ آسٹریلیا13596-5936.06‏5 مرتبہ
بمقابلہ بنگلہ دیش11896-1813.37‏11 مرتبہ
بمقابلہ انگلینڈ161129-6520.06‏8 مرتبہ
بمقابلہ بھارت221058-8732.61‏7 مرتبہ
بمقابلہ نیوزی لینڈ14826-8721.53‏5 مرتبہ
بمقابلہ پاکستان16806-7125.46‏5 مرتبہ
بمقابلہ جنوبی افریقہ151047-8422.22‏11 مرتبہ
بمقابلہ ویسٹ انڈیز12828-4619.62‏9 مرتبہ
بمقابلہ زمبابوے14879-5116.86‏6 مرتبہ

اپنے کیریئر کے دوران مرلی نے صرف 87 ٹیسٹ میچز میں 500 وکٹوں کا سنگِ میل عبور کیا اور آسٹریلیا کے شین وارن کے حریف بن کر سامنے آ گئے۔ وارن نے کرکٹ چھوڑی تو دسمبر 2007ء میں مرلی نے 709 وکٹیں حاصل کر کے انہیں بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ ون ڈے انٹرنیشنل میں وہ وسیم اکرم کے بعد 500 وکٹیں حاصل کرنے والے دوسرے باؤلر بنے اور پھر سب سے زیادہ وکٹیں لینے کا اعزاز بھی اپنے نام کر لیا۔

صرف اپنے آخری ٹیسٹ ہی میں نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی مرلی نے کئی تاریخی فتوحات میں اپنا کردار ادا کیا۔ وہ ورلڈ کپ 1996ء کے چیمپیئن اسکواڈ کا حصہ تھے اور انگلینڈ کے خلاف پہلی بار کسی ٹیسٹ کامیابی میں میچ کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ لینے والے بھی۔ یہ انگلینڈ کے خلاف 1998ء کا اوول ٹیسٹ تھا جس میں مرلی نے 16 وکٹیں حاصل کی تھی۔ انہوں نے دوسری اننگز میں 9 وکٹیں حاصل کر کے ایک بے جان مقابلے میں نئی جان ڈالی اور سری لنکا کی یادگار کامیابی کو ممکن بنایا۔

مرلی دھرن کا انٹرنیشنل کرکٹ کیریئر

فارمیٹمیچزوکٹیںبہترین باؤلنگاوسطاننگز میں 5 وکٹیں
ٹیسٹ1338009-5122.72‏67 مرتبہ
ون ڈے انٹرنیشنل3505347-302308‏10 مرتبہ
ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل12133-2922.84‏0 مرتبہ
فرسٹ کلاس23213749-5119.64‏119 مرتبہ
لسٹ اے4536827-3022.39‏12 مرتبہ
ٹی ٹوئنٹی1641794-1622.03‏0 مرتبہ

مرلی کے ایک فتح گر کھلاڑی تھے، سری لنکا کی فتوحات میں جتنا بڑا حصہ مرلی کا تھا، اتنا شاید کسی کا نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ریٹائر ہونے کے بعد سری لنکا میں وہ دم خم نہیں دکھائی دیا اور رہی سہی کسر کمار سنگاکارا اور مہیلا جے وردنے کے الوداع کہہ جانے سے پوری ہو گئی۔ مرلی کا 'فیکٹر' کتنا اہم تھا، اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ مرلی کی موجودگی میں سری لنکا نے 132 میں سے 54 ٹیسٹ میچز جیتے اور 37 ڈرا کیے لیکن مرلی کے جاتے ہی اگلے 15 ٹیسٹ میچز میں سے سری لنکا ایک بھی نہیں جیت پایا۔

مرلی کا دوسری بار ورلڈ کپ جیتنے کا خواب پورا نہیں ہو سکا اور 2011ء کے ورلڈ کپ فائنل میں شکست کے ساتھ وہ ون ڈے اور یوں مکمل طور پر انٹرنیشنل کرکٹ کو بھی خیرباد کہہ گئے۔